بیٹے کے قاتل دھمکیاں دے رہے ہیں، انصاف دلایا جائے،سروربی بی

بیٹے کے قاتل دھمکیاں دے رہے ہیں، انصاف دلایا جائے،سروربی بی

اسلام آباد(آن لائن)جواں سال بیٹے کے قتل اور ناقص تفتیش کے خلاف بھکر کی رہائشی خاتون نے چیف جسٹس آف پاکستان سے اپیل کی ہے کہ ان کے بیٹے کے قاتل سابق دور حکومت میں ایک بااثر شخصیت کے باعث پولیس نے چھوڑ دئیے جبکہ سہولت کار کو سزائے دلوا کر ہمیں چپ کرانے کیلئے دھمکیاں در دھمکیاں دی جارہی ہیں۔پسماندہ علاقے سے تعلق اور تعلیم کے فقدان کے باعث ہماری کسی نے بھی نہ سنی اور امید کی جاتی ہے کہ ایک پسماندہ ضلع کے سائلین کو انصاف کی فراہمی کیلئے آپ مدبرانہ اقدامات اٹھائیں گے۔ضلع بھکر کی رہائشی خاتون سرور بی بی نے چیف جسٹس آف پاکستان آصف سعید کھوسہ سے اپیل کی ہے کہ ان کے بیٹے عبدالستار عمر24سال کو صغیر احمد عرف دینا،خادم حسین،گلزار بی بی اور محمد رمضان نے گنے کے کھیتوں میں نیم مردہ حالت میں زندہ درگور کردیا تھا اور لاش تین ماہ بعد جس ملزم کی شناخت پر برآمد ہوئی وہ ملزم صغیر المعروف دینا سابق لیگی ایم پی اے کے ڈرائیور تھے،جس پر ڈی پی او بھکر اور تھانہ بہل نے قاتلوں کو بچانے کیلئے ہمیں دھمکانہ شروع کردیا اور بالآخر فون پر بلانے والے محمد رمضان کو تشدد کرکے عبدالستار کے قتل کا اکلوتا ملزم ٹھہرا کر سیشن عدالت سے 25سال سزا کروائی گئی۔لیکن میرے بیٹے کی لاش صغیر احمد عرف دینا کے انکشاف پر پولیس نے برآمد کی تھی ،لیکن پولیس ہمیں دینا،خادم اور گلزار بی بی کے قاتل ہونے سے متعلق تسلیاں دیتی رہی کہ انہوں نے اقبال جرم کرلیا ہے،تاہم اچانک حتمی چالان میں انہیں بری کردیاگیا۔اب جبکہ قاتل ان کے ہمسائے بھی ہیں،جو کہ نہ صرف دھمکیاں دیتے ہیں بلکہ میرے ایک اوربیٹے کو کہا ہے کہ اگر آپ کی والدہ نے مقدمے کی پیروی نہ چھوڑی تو ہم آپ کے پورے گھر کو آگ لگا دیں گے۔میری آپ سے درخواست ہے کہ ایک پسماندہ علاقے کی غریب خاتون کی فریاد کو مدنظر رکھتے ہوئے پہلا سوموٹو ایکشن لے کر انصاف دیا جائے۔

مزید : صفحہ آخر