مودی کی آمد پر کشمیری سراپا احتجاج ، مقبوضہ کشمیر وادی چھاؤنی میں تبدیل حریت قیادت کی نظربندی کے باوجود مکمل ہڑتال، انٹرنیٹ سروس معطل

مودی کی آمد پر کشمیری سراپا احتجاج ، مقبوضہ کشمیر وادی چھاؤنی میں تبدیل حریت ...

سری نگر ( مانیٹرنگ ڈیسک ، نیوز ایجنسیاں )بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے گزشتہ روز لداخ اور مقبوضہ کشمیر میں ترقیاتی کاموں کے افتتاح کیلئے مقبوضہ کشمیر کا دورہ کیا ، بھارتی وزیراعظم کے دورے سے کئی روز قبل ہی بھارتی فوج اور مقبوضہ کشمیر کی کٹھ پتلی انتظامیہ نے پورے مقبوضہ کشمیر کو فوجی چھاؤنی مین تبدیل کر دیا حریت کانفرنس اور دوسری کشمیری تنظیموں نے بھارتی وزیر اعظم کی آمد پر پوری وادی میں شٹر ڈاؤن ہڑتال اور احتجاجی مظاہروں کا اعلان کیا جس پر کٹھ پتلی انتظامیہ نے میر وعظ عمر فاروق اور سید علی گیلانی سمیت تمام حریت قیادت کو گھروں مین نظر بند کر دیا ۔ اس کے باوجود مودی کی آمد کے موقع پر پورے کشمیر مین شٹر ڈاؤن ہڑتال کی گئی ۔ مودی کی آمد کے موقع پر پوری وادی اور جموں میں انٹرنیٹ سروس بند کر دی گئی۔کشمیر میڈیا سروس کے مطابق نریندر مودی کے دورے سے پہلے ہی وادی کو فوجی چھاونی میں بدل دیا گیابنی ہال سے بارہ مولا تک ٹرین سروس معطل کردی گئی ہے جب کہ سیکڑوں موٹر سائیکلیں دستاویزات ہونے کے باوجود ضبط کرلی گئیں ۔قابض انتظامیہ نے کانفرنس سینٹرکے اطراف شہریوں کا آزادانہ سفر ناممکن بنا دیا۔شیر کشمیر انٹرنیشنل کانفرنس سینٹر کو جانے والے راستوں پر ٹریفک پر پابندی لگادی گئی جب کہ راستوں پر فوجی اور پولیس دستے بھی تعینات کردیے گئے ۔نریندر مودی کی مقبوضہ کشمیر آمد پر وادی میں مکمل ہڑتال رہی جو مقبوضہ کشمیر کی متحدہ مزاحمتی تحریک کی اپیل پر کی گئی۔کشمیری قیادت کا کہنا ہے کہ مودی حکومت کے 5 سال مقبوضہ کشمیر میں ظلم کے پہاڑ توڑے گئے ہیں۔اس موقع پرمشترکہ حریت قیادت نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں کہا کہ ایک ایسا شخص جوکشمیریوں کے حق خود ارادیت کے جائز مطالبے کو دبانے کے لیے قتل ، گرفتاریوں، املاک کی تباہی اور جبر و استبداد کے دیگر ہتھکنڈے استعمال کرنے کے احکامات دے رہا ہے ، اس کا استقبا ل صرف احتجاج کے ذریعے ہی کیا جاسکتا ہے۔انتظامیہ نے حریت رہنماؤں سید علی گیلانی،میرواعظ عمرفاروق، محمد اشرف صحرائی ، مختار احمد وازہ،ہلال احمد وار،جاوید احمد میراور مولوی بشیر احمد عرفانی کو نریندر مودی کے دورے کے موقع پر بھارت مخالف مظاہروں کی قیادت سے روکنے کیلئے گھروں اورتھانوں میں نظر بند کر دیا جبکہ عوامی اتحاد پارٹی کے چیئرمین انجینئر عبدالرشید کو بھی اپنے گھر پر نظربندکر دیا گیاہے۔قابض انتظامیہ نے نریندر مودی کے دورے کے پیش نظر سرینگر ، جموں اور دیگر علاقوں میں بڑی تعداد میں بھارتی فوجی اور پولیس اہلکار تعینات کر کے سیکورٹی انتہائی سخت کر دی گئی۔ فوجیوں اور پولیس اہلکاروں نے مختلف علاقوں میں چیک پوسٹیں قائم کر کے گاڑیوں اورمسافروں کی جامہ تلاشیوں کا سلسلہ تیز کر دیا گیا۔بھارتی وزیراعظم کے سپیشل سکیورٹی گارڈز (ایس ایس جی)نے سرینگر میں اس جگہ کا انتظام سنبھالے رکھا جہاں نریندر مودی وادی کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح کیا۔ تقریب کی نگرانی کے لیے ڈروں طیارے استعمال کئے گئے ۔ تقریب کے مقام تک جانے والی سڑک پرخصوصی کمانڈوز تعینات کئے گئے ۔تقریب کے قریبی مقامات سلیمان ٹینگ اور زبرون پہاڑی پرپولیس اور سینٹرل ریزرو پولیس فورس کی مشترکہ ٹیمیں تعینات رہیں ہیں۔ میرواعظ عمرفاروق کی پر امن سیاسی ومذہبی سرگرمیوں پرپابندی عائد کئے جانے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتی وزیر اعظم کے دورہ کشمیر کے موقع پر جس طرح پوری وادی کو فوجی چھاؤنی میں تبدیل کردیا گیا ہے ، اس سے قابض حکمرانوں کی بوکھلاہٹ ظاہر ہورہی ہے۔ کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق حریت فورم کے ترجمان نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں کہاکہ حریت پسند رہنماؤں اور کارکنوں کو گھر وں اور تھانوں میں نظر بند کیا گیا ہے اور وادی کشمیر خاص کر سرینگر شہر کے ہر گلی کوچے پر فوج اور پولیس کے پہرے بٹھائے گئے ہیں جبکہ لوگوں کی جامہ تلاشی اور پوچھ گچھ کرکے خوف و ہراس کا ماحول پیدا کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ جب بھی کسی بھارتی رہنما کی کشمیر آمد ہوتی ہے تو پوری وادی کو فوجی چھاؤنی میں تبدیل کرکے لاکھوں لوگوں کو یرغمال بنایا جاتا ہے۔انہوں نے کہاکہ بھارتی وزیر اعظم کے دورے کے سلسلے میں جس طرح بھارتی فورسز اور پولیس حفاظتی انتظامات کے نام پر عام لوگوں کو ہراساں کررہی ہیں،شاہراہوں پر ٹریفک کی نقل و حمل کو گھنٹوں تک روکا جارہا ہے،لوگوں کے موٹر سائیکل زبردستی چھینے جارہے ہیں ، عام لوگوں سے پوچھ گچھ کی جارہی ہے اور سڑکوں پر رکاوٹیں کھڑی کرکے بیماروں کو بھی ہسپتال جانے سے روکا جارہا ہے، وہ اس بات کا عکاس ہے کہ لاکھوں فوجیوں کی موجودگی کے باوجود قابض حکمران خود کوغیر محفوظ سمجھتے ہیں اور جان بوجھ کرنہتے کشمیری عوام کو ہراساں اور پریشان کرتے ہیں۔ انہوں نے حریت رہنما مختار احمد وازہ کو گرفتار کرنے کی بھی مذمت کی ۔ ادھرمیرواعظ کی ہدایت پر پارٹی رہنماؤں مشتاق احمد، غلام قادر بیگ، پیر غلام نبی اور فاروق احمد سوداگرپر مشتمل ایک وفد سرینگر کے علاقوں حول ، شیش باغ ، خانیار اور بڑھ پورہ گیا اور عوامی مجلس عمل سے وابستہ کئی کارکنوں اور ان کے عزیروں کے انتقال پر لواحقین سے میرواعظ کی طرف سے تعزیت اور ہمدردی کا پیغام پہنچایا

کشمیر احتجاج

مزید : صفحہ اول