کشتی حادثہ ‘ لاش کی تلاش ‘ تیسرے روز بھی آپریشن ‘ ریسکیو ٹیمیں ناکام واپس

کشتی حادثہ ‘ لاش کی تلاش ‘ تیسرے روز بھی آپریشن ‘ ریسکیو ٹیمیں ناکام واپس

چوک مکول (نامہ نگار)مچھلی کے شکار کے لیئے آنیوالے نوجوان اوورلوڈنگ کے باعث کشتی الٹنے سے دریائے سندھ میں ڈوبنے والے ساجدنامی نوجوان جاں بحق لاش کی (بقیہ نمبر41صفحہ12پر )

تلاش کے لیئے ریسکیو آپریشن تیسرے روز بھی جاری رہی‘تفصیل کے مطابق کلیم چوک کے رہائشی اخترحسین سیوڑہ جوکہ موٹرسائیکل مکینک ہے کے پاس بورے والا کے رہائشی 6نوجوان دریائے سندھ پہ مچھلی کے شکار کے لیئے آئے جنہیں چھوٹی کشتی کی مددسے دیگرمقامی افرادکے ساتھ دریاکراس کرایاگیاتاہم گزشتہ سے پیوستہ شب 8 بجے شکار سے واپس آئے اور ملاح سے دریاپار کرانے کاکہا ملاح نے رات کی تاریکی میں دریاپار کرانے سے انکار کردیا مقامی اختر سیوڑہ نے چوری کشتی کھول کر پہلے مقامی افراد کو دریاکراس کرادیاجبکہ مہمانوں کے لیکر آرہاتھا کہ اوورلوڈنگ کی وجہ سے کشتی الٹ گئی جس کی وجہ سے 6 افراد اور موٹرسائیکل پانی کی تیز بہاؤ کی وجہ سے بہہ گئے فوری طور مقامی چوکی بیٹ چین والا کوواقع کی اطلاع دی گئی تو انچارج چوکی عبدالحئی لسکانی،محرر محمد رفیق اور محمدصفدر ودیگر موقع پر آگئے 5 افراد ندیم ولد اسلم،نسیم ولد اسلم،طلحہ ولد ندیم خونی برج بورے والا ریحان منصور ولد خواجہ منصور،عامرعلوی ولد رشید علوی چونگی نمبر 14 ملتان کو زندہ نکال لیاگیاجبکہ محمد ساجد ولد علم دین قوم ارائیں سکنہ موضع بورے والا کوتلاش نہ کیاجاسکا مقامی افراد کے مطابق ریسکیو کو فوری اطلاع دی گئی تھی مگر وہ 12 گھنٹے کے بعد موقع پہ پہنچے جبکہ ریسکیومظفرگڑھ اور ڈی جی خان کی ٹیمیں ساجد کی لاش کی تلاش جاری رکھے ہوئے ہیں جوتاحال نہیں مل سکی جبکہ ایس ایچ او جھوک اترا فیاض احمد و دیگر ضلعی انتظامیہ کے افسران بھی جائے حادثہ پر پہنچ گئے اور ریسکیو آپریشن کی نگرانی جاری رکھے ہوئے ہیں مقامی افراد کے مطابق چونکہ دریائے سندھ ڈی جی خان اور مظفرگڑھ کے بارڈر پہ ہے تو ریسکیو ٹیمیں حدود کا تعین کرتی رہیں جس کی وجہ سے قیمتی جان ضائع ہوگئی ایس ایچ او جھوک اترا کے مطابق مچھلی کے شکار پہ پابندی لگائی گئی ہے تاہم مقامی افراد چوری چھپے مچھلی کاشکار کیئے رکھتے ہیں جبکہ ساجد نامی شخص کی لاش تاحال نہ مل سکی تیسرے روزبھی آپریشن جاری رہا۔

حادثہ

مزید : ملتان صفحہ آخر