سانحہ ساہیوال،جے آئی ٹی رپورٹ میں تبدیلی کی تو سب جیل کے اندر ہوں گے،چیف جسٹس ہائیکورٹ

سانحہ ساہیوال،جے آئی ٹی رپورٹ میں تبدیلی کی تو سب جیل کے اندر ہوں گے،چیف جسٹس ...
سانحہ ساہیوال،جے آئی ٹی رپورٹ میں تبدیلی کی تو سب جیل کے اندر ہوں گے،چیف جسٹس ہائیکورٹ

  

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)لاہور ہائیکورٹ میں سانحہ ساہیوال کیس کی دوبارہ سماعت کے دوران جے آئی ٹی سربراہ نے رپورٹ چیف جسٹس ہائیکورٹ کو پیش کردی۔چیف جسٹس سردار شمیم خان نے ریمارکس دیئے ہیں کہ ریکارڈ میں تبدیلی کی تو سب جیل کے اندرہوں گے۔

تفصیلات کے مطابق لاہور ہائیکورٹ میں سانحہ ساہیوال سے متعلق کیس کی دوبارہ سماعت شروع ہوگئی،جے آئی ٹی سربراہ نے رپورٹ چیف جسٹس ہائیکورٹ کوپیش کردی ۔

چیف جسٹس ہائیکورٹ نے کہا کہ حکومت سے جوڈیشل کمیشن بنانے کیلئے اقدامات کاپوچھاہے،آئی جی پنجاب کو ذاتی حیثیت میں بلایا گیا تھا،عدالت کے حکم پر عملدرآمد کیوں نہیں ہوا؟۔

سرکاری وکیل نے کہا کہ تمام شواہد اکٹھے اور بیان بھی ریکارڈ کرلیے ہیں ،سربراہ جے آئی ٹی نے بتایا کہ فائرنگ کی جگہ سے خول اوردیگراہم چیزیں ملی ہیں ۔

چیف جسٹس ہائیکورٹ نے استفسار کیا کہ سی ٹی ڈی کو آپریشن کےلئے کون بھیجتاہے ؟ سرکاری وکیل نے کہا کہ ایس پی جواد قمر نے آپریشن کا حکم جاری کیا،چیف جسٹس سردار شمیم خان نے استفسار کیا کہ کیا وہ ایس پی گرفتاراورمقدمے میں نامزد ہے؟۔

درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ایس پی کوگرفتار نہیں کیا گیا اورملزمان کو بھی نامزد نہیں کیا گیا،وکیل درخواست گزار نے کہا کہ 16 لوگ ملوث ہیںجن میں سے 5 کوگرفتار کیا گیا ۔

سربراہ جے آئی ٹی نے کہا کہ آپریشن کاحکم دینے والاافسرمعطل ہے اور اسے شامل تفتیش کرلیاگیا،چیف جسٹس ہائیکورٹ نے کہاکہ ریکارڈ میں تبدیلی کی تو سب جیل کے اندرہوں گے۔

مزید : اہم خبریں /قومی /علاقائی /پنجاب /لاہور