کرائم سین !!!

کرائم سین !!!
کرائم سین !!!

  

سانحہ ساہیوال پر عوامی ردعمل کے نتیجے میں بننے والی تحقیقاتی جے آئی ٹی پر متاثرہ خاندان نے اظہارِ عدم اعتمادکیاہے اور سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے داخلہ بھی جوڈیشل کمیشن کے قیام اور معاملہ فوجی عدالت میں بھیجنے کا مطالبہ کرچکی ہے۔ گرفتار سی ڈی اہلکاروں نے گولی چلانے کااعتراف ہی نہیں کیا۔ سی ٹی ڈی کی جانب سے واقعے کولپیٹنے کی کوششیں ہورہی ہیں۔ سانحہ ساہیوال پر سی ٹی ڈی متعدد بارمؤقف بدل چکی ہے۔ جائے وقوعہ کودوگھنٹے میں کلیئر کردیاگیا۔ نہ کرائم سین محفوظ کیاگیااورنہ فرانزک ٹیم نے فوراً شواہداکھٹے کیے۔ دوہفتے بعد بھی فائرنگ میں استعمال ہونیوالے ہتھیار غائب ہیں۔ 72گھنٹوں میں جو جے آئی ٹی رپورٹ آناتھی , تاحال منظرنامے سے غائب ہے۔ مدعی لواحقین کاوکیل نامعلوم دھمکیوں کے بعد کیس سے دستبردار ہوچکاہے۔ زیرحراست اہلکاروں کی شناخت پریڈ متعدد بار ملتوی ہوچکی ہے۔ خوفزدہ گواہان دائیں بائیں ہورہے ہیں۔ ورثاء چارمرتبہ نوٹس کے باوجود شناخت پریڈ میں شرکت سے انکاری ہیں۔ ایک ایک کرکے سانحہ ساہیوال کے تمام ثبوت مٹائے جارہے ہیں۔ یہ سب کچھ ہونے کیباوجود وزیراعلیٰ پنجاب کی جانب سیجوڈیشل کمیشن بنانے سے انکار یہ ظاہر کرتاہے کہ دال میں کچھ توضرور کالاہے۔ متاثرہ خاندان کو وزیراعلیٰ پنجاب کے دفتر میں بلاکر کیوں گھنٹوں بٹھایا جارہا ہے ؟؟؟ یہ سب کچھ یقیناً پنجاب حکومت پر انگلیاں اٹھنے کیلیے کافی ہے۔ سی ٹی ڈی وزارت داخلہ کے ماتحت ہے, تووزیراعظم عمران خان کیوں خاموش ہیں ؟؟؟ کیا حکومت سی ٹی ڈی کی کارستانیوں پرپردہ ڈالنا چاہتی ہے ؟؟؟ 

سانحہ ماڈل ٹاؤن کے 14 اہم ملزمان میں شامل سیکریڑی داخلہ پنجاب ریٹائرڈ میجر اعظم سلیمان کو پولیس اصلاحات کے لیے بنائی گئی کمیٹی میں اہم کردار دے دیاگیا۔ اعظم سلمان کو سیکریڑی داخلہ بنانے پر عوامی تحریک نے عمران خان کو احتجاجی مراسلہ بھی ارسال کیا تھا , جس کا یہ نتیجہ نکلا۔ صرف اتنا ہی نہیں سانحہ ماڈل ٹاون کے ایک اور نامزد ملزم کیپٹن ریٹائرڈ عثمان ذکریا کو بھی گریڈ اکیس میں ترقی مل گء ہے۔ سانحہ ماڈل ٹاون پر قومی اسمبلی میں حکومتی وزراء کی دھواں دار تقاریر میں کیے گئے دعووں سے عملی صورتحال بالکل مختلف نظر آتی ہے۔ سانحہ ماڈل ٹاون پر بننے والی جے آئی ٹی نے چار برس بعد جائے وقوعہ کادورہ کرکے تمام شواہد کاجائزہ لیا اورکرائم سین مکمل کیا۔ ادارہ منہاج القرآن کی دیواروں میں دھنسی گولیوں کونکالا اورچشم دید گواہوں کے بیانات قلم بند کیے۔ دوسری جانب جے آئی ٹی کو کام سے روکنے کیلیے لاہور ہائی کورٹ میں درخواست دائر ہوچکی ہے۔ جس کے سبب خود جے آئی ٹی کاکام بھی کھٹائی میں پڑنے کاامکان ہے۔ راناثناء اللہ جے آئی ٹی میں پیش ہونے سے انکار کرچکے ہیں اور شہبازشریف کے بھی پیش ہونے کاکوئی امکان نہیں ہے۔ سپریم کورٹ کے حکم پربنی جے آئی ٹی کو غیرقانونی قرار دے کرپیش نہ ہونا دراصل ایک تاخیری حربہ ہے , جوکہ شہبازشریف اور راناثناء اللہ کیسانحہ ماڈل ٹاون میں کردارکومزیدمشکوک ثابت کرتاہے۔

دوسری جانب شہبازشریف کے پی اے سی چیئرمین بننے کے بعد اب ایک اورنامزدملزم خواجہ سعدرفیق پبلک اکاونٹس کمیٹی میں پہنچنے والے ہیں۔ جہاں ایک جانب سانحہ ماڈل ٹاون اور سانحہ ساہیوال کے متاثرین انصاف کیلیے دربدر پھر رہے ہیں۔ وہاں سابق حکمران خاندان کو آئے روزرعایتیں مل رہی ہیں۔ سابق وزیراعظم نواز شریف کو جیل سے ہسپتال منتقل کردیاگیاہے۔ میڈیکل بنیادوں پر ضمانت کیلیے نواز شریف نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں بھی اپیل کررکھی ہے ۔ کیا نوازشریف کی علاج کے بہانے بیرونِ ملک روانگی کیلیے راہ ہموارہورہی ہے ؟؟؟ پی پی پی رہنما چوہدری منظور ایک مبینہ این آراو کابڑی سنجیدگی سے دعویٰ کرچکے ہیں ۔ گویاکرپٹ اشرافیہ کومراعات اورعام آدمی کوانصاف کیلے دھکے , یہ ہمارے فرسودہ نظام کااصل چہرہ ہے۔ 

شہبازشریف کے دورحکومت میں پنجاب پولیس , سی ٹی ڈی , ڈولفن فورس اورافسرشاہی میں سیاسی بنیادوں پر بھرتیاں کی گئیں لہذٰا وھاں سابقہ حکمران جماعت ن لیگ کے بہت سے ہمدرد اور وفادار موجود ہیں۔ سانحہ ساہیوال میں مبینہ طور پر ن لیگ کے وفادارسی ڈی ڈی افسران کا ہاتھ ہوسکتا ہے۔ اسی طرح پولیس اصلاحات کمیٹی میں میجر ریٹائرڈ اعظم سلیمان کی موجودگی بھی کمیٹی کے کردار پر سوالیہ نشان ہے۔ ایسی مشکوک کمیٹی اصلاحات کیلیے بھلا کیا تجاویز مرتب کرے گی ؟؟؟ بہتر یہ ہے کہ موجودہ پنجاب پولیس , سی ٹی ڈی اور ڈولفن فورس کو ختم کرکے محمکہ پولیس کیلیے ازسرنو میرٹ پر باصلاحیت اور پڑھے لکھے نوجوانوں کو بھرتی کیا جائے اور انہیں پاک فوج سے پیشہ وارانہ تربیت دلوائی جائے تاکہ سابقہ دورِ حکومت کے اثرات کا تدارک ممکن ہوسکے۔ کیونکہ صرف تقرری اورتبادلے کی پالیسی میں ردوبدل کافی نہیں ہے۔ اس کے علاوہ تھانہ کلچرکوبھی بدلنے کی اشد ضرورت ہے۔ 

۔

نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

مزید : بلاگ