4فروری کینسر کا عالمی دن

4فروری کینسر کا عالمی دن
4فروری کینسر کا عالمی دن

  

4فروری پاکستان سمیت دنیا بھر میں کینسر کے عالمی دن کے طور پر منایا جاتا ہے جس کا مقصد اس موزی مرض سے متعلق معلومات کا فروغ اور اس سے محفوظ رہنے کی تدابیر سے لوگوں کو آگاہ کرنا ہے۔ اس سال کے دن کا موضوع ہے ''ہم سب کینسر کے خطرات کو کم کرنے میں اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں ''۔ کینسر کی ابتدائی سطح پر تشخیص، احتیاط اور علاج کے ذریعے اس کے پھیلنے کو بہت حد تک کم کر سکتے ہیں۔ کینسر کا عالمی دن ہمیں دنیا میں اس کو پھیلنے سے روکنے کے لئے حمایت، آواز بلند کرنے اور اپنی ذاتی حیثیت میں اقدامات اٹھانے اور حکومت پر کینسر سے ہونے والی اموات کو روکنے کے لیے دباؤ ڈالنے کی ترغیب دیتا ہے۔ آج دنیا بھر میں ہر ایک منٹ میں 17افراد کینسر کے مرض سے ہلاک ہو جاتے ہیں۔ کینسر کے مرض کی 100سے زیادہ اقسام ہیں اور یہ مرض جسم کے کسی بھی حصے کو متاثر کر سکتا ہے۔ کینسر دنیا میں بیماریوں کے باعث اموات کی دوسری وجہ ہے۔ لہذا اس کی وجوہات، علامات اور احتیاط کے بارے میں جاننا بہت ضروری ہے۔

کینسر کی وجوہات میں سگریٹ نوشی سرفہرست ہے جو منہ، پھیپھڑوں، نرخرہ غذا کی نالی، مثانے اور گردن کے پچھلے حصے کا کینسر کا باعث بن سکتی ہے اسی طرح فیکٹریوں میں استعمال ہونے والے مختلف رنگ وروغن معدنی اور جلانے کا تیل معدے کے کینسر کی وجہ بن سکتے ہیں۔ مختلف وائرس جیسے HIV(ایڈز)کی وجوہات سے بھی جگر کے کینسر کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔ جسم پر کوئی مخصوص دیرینہ پھوڑ ا یا پھنسی یا رسولی کینسر میں مبتلا کر سکتی ہے۔ اسی طرح HPV منہ، مقعد اور بچہ دانی کے کینسر کا باعث بن سکتا ہے۔ غیر صحت مند غذا اور مرغن کھانوں کا زیادہ استعمال، الکوحل کا استعمال، زیادہ سستی اور کاہلی، جنسی بے راہ روی بھی کینسر کی وجہ بن سکتے ہیں۔ تیز دھوپ انسانی جلد کو نقصان پہنچا سکتی ہے جس کے نتیجے میں جلد کا کینسر لاحق ہو سکتا ہے۔ فیملی ہسٹری بھی اس مرض کے امکانات بڑھا سکتی ہے۔

کینسر کے موذی مرض سے محفوظ رہنے کے لئے اس کی علامات جاننا بھی ضروری ہیں مثلاً اگر آپ جلد کے نیچے گلٹی یا سوجن محسوس کریں یا وزن میں تبدیلی یعنی بڑھ جانا یا کم ہونا محسوس کریں یا جلد کی رنگت میں تبدیلی یعنی پیلی، سیاہ یا سرخ ہونا، جلن محسوس ہونا یا غیر معمولی موہکے یا تل وغیرہ نکلے یا پیشاب یا پاخانہ (بول و براز)کے معمولات میں تبدیلی ہونے لگے، مستقل کھانسی یا سانس لینے میں تکلیف رہنے لگے اور خوراک نگلنے میں دشواری ہو یا آواز کا بیٹھ جانے کی تکلیف محسوس کریں، جوڑوں یا پٹھوں میں غیر معمولی دردہو، بلا وجہ کا بخار یا رات کو پسینہ آنے لگے، جلد کے اندر زخم یا خون کا رسنا شروع ہو جائے یا بلا وجہ تھکاوٹ محسوس کریں تو ڈاکٹر سے رجوع کریں۔ یہ علامات کینسر کی وجہ بن سکتی ہیں۔

کینسر کے مرض سے محفوظ رہنے کے کوئی مخصوص طریقے موجود نہیں، تاہم ڈاکٹروں کی ہدایات کے مطابق چند احتیاطی تدابیر اختیار کرنے سے اس مرض سے بچا جا سکتا ہے۔ مثلاًسگریٹ نوشی اور الکوحل سے مکمل پرہیز کیا جائے۔ یہ کئی اقسام کے کینسر کی وجہ بنتے ہیں۔ جس میں گلے، منہ اور پھیپھڑوں کا کینسر شامل ہے۔ سورج کی تیز شعاعوں میں بھی زیادہ وقت مت گزاریں۔ خطرناک الٹرا وائلٹ شعاعیں جلد کے کینسر کا باعث بن سکتی ہیں۔

اپنی خوراک میں پھلوں اور سبزیوں کی زیادہ مقدار شامل رکھیں۔ جسم کو چست اور مستعد رکھیں۔ ورزش اور چہل قدمی کو معمول بنائیں۔ وزن کو زیادہ نہ بڑھنے دیں، طویل عرصہ تک قبض یا اسہال کی بیماری کا جاری رہنا بھی خطرناک علامت ہو سکتی ہے۔ اس کے علاوہ ہیپا ٹائٹس، ایڈز وغیرہ کے خلاف احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔ کینسر لا علاج نہیں۔ کینسر کا علاج اس کی اقسام کے پیش نظر کیا جاتا ہے۔ یہ سرجری، کیمو تھراپی، ریڈیشن تھراپی، ہارمون تھراپی اور دیگر ادویات پر مشتمل ہو سکتا ہے۔ یاد رکھیں ایک پاک صاف زندگی، باقاعدی کے ساتھ سیر اور ورزش، سادہ غذا اور سگریٹ نوشی /الکوحل سے اجتناب ہمیں بہت سی بیماریوں سے محفوظ رکھتے ہیں۔

مزید :

رائے -کالم -