ہمت ِ مرداں،مددِ خدا

ہمت ِ مرداں،مددِ خدا
ہمت ِ مرداں،مددِ خدا

  

مجھے ایک سے زائد مرتبہ موبائل فون پر پیغام موصول ہوا کہ حکومت پاکستان کے انکم سپورٹ پروگرام میں آپ کا نام شامل کرلیا گیا ہے،لہٰذا آپ اس درج ذیل نمبر پر رابطہ کریں تاکہ آ پ کی مدد کی جاسکے۔ایسے ہی کئی پیغامات متعدد شہریوں کو موصول ہوتے ہیں کچھ ان کی چال میں پھنس جاتے ہیں۔اسی طرح آئے دن ایسے پیغامات بھی موصول ہوتے ہیں کہ میں ایک ضرورت مند ہوں اور مجھے علاج کے لئے ایک کثیر رقم درکار ہے اور آپ مجھے بذریعہ بینک یا پھر موبائل نیٹ ورک رقم ارسال کردیں۔بعض اوقات امداد کے لئے پیغام بھیجنے والا انتہائی جذباتی نوعیت کی صورتِ حال پیش کرتا ہے۔سڑکوں اور چوراہوں پر کھڑے افراد اپنا حلیہ اس طرح بناکے مدد کے طلبگار ہوتے ہیں کہ پتھر دِل بھی پل بھر میں پگھل جاتے ہیں۔

ہمارے ملک میں فی کس آمدنی بہت کم ہے۔غربت،بیماری اور بھوک کی شرح بھی بہت زیادہ ہے۔ کورونا سے پہلے بھی اور اب اس وباء کے اثرات کی وجہ سے بے روزگاری کی شرح میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔تقریباً نصف آبادی خط غربت سے کم درجے پر زندگی گذارنے پر مجبور ہے۔پانچ کروڑ سے زائد آبادی کو بجلی جیسی بنیادی ضرورت میسر نہیں اگر خوراک میں غذائیت کا ذکر کریں گے تو وزیراعظم عمران خان اپنی کئی تقاریر میں اس کا تذکرہ کرچکے ہیں کہ کم غذائیت کی وجہ سے بچوں کی نشوونما ذہنی لحاظ سے کم تر سطح پر ہورہی ہے۔یہی وجہ ہے کہ صحت مند قوم بننے کے لئے بہت بڑے چیلنج ہیں اور تعلیم یافتہ اور ہنرمند افراد بنانے کے لئے اس سے بھی زیادہ محنت کی ضرورت ہے۔ان تمام مسائل کے ہوتے ہوئے لاکھوں افراد کی ضروریات ان کی آمدنی سے پورا ہونا بھی ناممکن ہے، لیکن اس بات کی بھی کوئی گارنٹی نہیں کہ کوئی اپنی ضرورت کے مطابق مدد کا طلب گار ہو۔یہی وجہ ہے کہ معاشرہ پیشہ ور بھکاریوں سے بھرگیا ہے۔

سرکاری اداروں اور مخیر حضرات کے لئے یہ ایک مشکل صورت حال ہے کہ مستحق افراد کا تعین کیسے کریں،جو لوگ کسی کے قریبی عزیز یا ہمسائے ہیں ان میں حقیقی ضرورت مندوں کا تعین کرنا کسی حد تک آسان ہو سکتا ہے، لیکن بہت سے اداروں کے لئے مشکلات رہتی ہیں۔اکثر مخیر حضرات، صدقہ،خیرات،زکوٰۃ اور خمس کی ادائیگی کے لئے آسان طریقہ کار اختیار کرنے پر اکتفا کرتے ہیں۔ اکثر لوگ اپنے قریبی علاقوں کی عبادت گاہوں کے توسط سے بھی امدادی کام سرانجام دیتے ہیں جو  ایک مناسب طریقہ ہے لیکن ان کو اس کے لئے تعلیمی اداروں اور اسپتالوں کا رخ بھی کرنا چاہئے۔ پاکستان بھر میں مزارات کا سلسلہ بہت بڑی تعداد میں موجود ہے، لیکن وہاں کا انتظام منظم نہ ہونے کی وجہ سے پیسہ غلط لوگوں کے ہاتھوں میں چلا جاتا ہے۔کراچی میں حضرت عبداللہ شاہ غازیؒ کے مزار پر مَیں نے نذرانہ وصول کرنے کے متعدد بکس دیکھے ہیں، جو کہ غیر ضروری اور معیوب دکھائی دیتے ہیں۔ایسے بڑے مزارات کو ٹرسٹ کے زیر انتظام لانا چاہئے۔ 

پاکستانی قوم نے دہشت گردی کے خلاف ایک طویل جنگ میں خود کو دنیا کی سب سے مضبوط قوم ثابت کردیا ہے۔70ہزار سے زائد شہادتیں، ایک لاکھ سے زائد معذور افراد،ہزاروں گھرانوں میں یتیم ہونے والے بچے،دہشت گردوں کے عزائم کو شکست دینے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ افواج پاکستان کے ساتھ پولیس اور دیگر سیکیورٹی ادارے آج بھی قربانیاں دے کر وطن ِ عزیز کی حفاظت کررہے ہیں، لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پاکستانی قوم کی مقابلے کی قوت کو کیسے بڑھایا جائے۔کیا امدادی کاموں میں اضافہ کیا جائے، خیراتی اداروں پر انحصار بڑھایا جائے یا پھر متاثرین کو اس قابل بنایا جائے کہ وہ دنیا میں جسم و روح کا رشتہ برقرار رکھنے کے لئے خود اپنے پاؤں پر کھڑے ہوجائیں۔حقیقت پسندانہ جواب یہی ہوگا کہ ہمت مرداں،مددخدا!لوگ باعزت زندگی گذارنے پر یقین رکھتے ہیں وہ اپنے بازؤں پر بھروسہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔خدا بھی اسی قوم کی حالت بدلتا ہے جو اپنی حالت آپ بدلنے کی کوشش و ہمت کرتے ہیں۔

ایک عام آدمی کو جب دشواری کا سامنا ہو تو اس کی نظر ریاست کے اداروں پر پڑنی چاہئے،لیکن المیہ یہ ہے کہ وہ اپنی مشکلات کے حل کے لئے کسی بااثر شخصیت کی طرف دیکھتا ہے۔دنیا کے کئی ممالک میں بلدیاتی نظام بہت مضبوط اور فعال ہے جہاں عوام کے بنیادی مسائل کا حل موجود ہے۔گویا ریاست کے قائم کئے ہوئے ادارے ہی اس کا مداوا کریں گے تو اس شہری کا اعتماد بڑھ جائے گا۔اس کے رویے میں ایک مثبت طرز عمل پیدا ہوگا اور وہ مشکلات کا مقابلہ کرنے کے لئے ڈٹ کر کھڑا ہوجائے گا۔وہ خیرات لینے کے لئے نہیں،بلکہ اپنی خدمات کئی کاموں کے لئے رضا کارانہ بنیادوں پر انجام دینے کے لئے آمادہ ہو جائے گا۔وہ اپنی غربت،بیماری اور بھوک کی پروا نہ کرتے ہوئے دوسروں کی مشکلات میں ان کی مدد کرنے کے لئے پہنچ جائے گا۔حکومت پاکستان کے لئے یہ ایک امتحان اور آزمائش سے کم نہیں کہ وہ ایک اتنی بڑی قوم،جو 200ملین افراد سے زائد ہے اسے کمزوری خیال نہ کرتے ہوئے اسے اپنی طاقت میں تبدیل کرے۔عوام کی کثیر آبادی کا اعتماد حاصل کرنے کے لئے عدل و انصاف کے معیار بہتر کرنے ہوں گے تو یہی آبادی فعال بھی ہوگی اور داخلی سلامتی کے لئے ایک ڈھال بن جائے گی۔

پاکستانی قوم کی قوت و استعداد میں اضافہ اسی طرح ممکن ہے کہ اداروں کو مضبوط بنایا جائے۔ اداروں کے اجتماعی فیصلے میرٹ کی بنیاد پر ہوں۔ اس میں تعلیم و تربیت کے ادارے سب سے اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔سکول،مدرسہ،کالج اور یونیورسٹی ایک مضبوط ڈھال کا کام کرسکتے ہیں۔  بڑے کارنامے انجام دیتے ہیں، لیکن اجتماعی سطح پر خود کو بہتر کرنے کی ضرورت ہے۔غیر منظم انداز سے زیادہ خیرات دی جاتی ہے، لیکن ایک اندازے کے مطابق سالانہ 2ارب ڈالر خیرات کی جاتی ہے۔اگر یہ منظم انداز سے اداروں کے ذریعے ہو تو قوم کی بہت سی مشکلات دور ہوسکتی ہیں۔

مزید :

رائے -کالم -