اسلام آباد کا واقعہ کوئٹہ کی تاریخ نہ دہرائی جائے

اسلام آباد کا واقعہ کوئٹہ کی تاریخ نہ دہرائی جائے
اسلام آباد کا واقعہ کوئٹہ کی تاریخ نہ دہرائی جائے

  

اسلام آباد میں پیش آنے والے واقعہ کا کیا کوئٹہ واقعے جیسا ڈراپ سین ہو گا یا قانون اپنا راستہ تلاش کر کے انصاف کے تقاضے پورے کرے گا۔ کوئٹہ واقعہ میں ایک ایم پی اے عبدالمجید اچکزئی نے اپنی لینڈ کروزر کے نیچے چوک میں کھڑے ٹریفک سارجنٹ کو کچل دیا تھا۔ منظر سی سی ٹی وی فوٹیج کے ذریعے پورے ملک کے عوام نے دیکھا، مگر عبدالمجید اچکزئی کو عدالت نے عدم ثبوت کی بنا پر بری کر دیا،اس پر بڑی لے دے ہوئی۔ قانون کی بے توقیری کا ماتم کیا گیا، پولیس کی پراسیکیوشن اور عدالتی نظام پر تنقید کے نشتر برسائے گئے، لیکن یہ سب رائیگاں گئے اور خون خاک نشیناں رزقِ خاک ہوا اور اختیار والوں کی توقیر سلامت رہی۔اب ایک اور واقعہ نے دو دن سے پورلے ملک کو ایک ہیجان اور غم و غصے میں مبتلا کر رکھا ہے۔یہ واقعہ اسلام آباد، یعنی ملک کے دارالحکومت میں پیش آیا،جہاں سیف سٹی کے جگہ جگہ کیمرے لگے ہوئے ہیں اور چڑیا بھی پَر مارے تو اُس کی فوٹیج مل جاتی ہے۔ اسی اسلام آباد کی ایک معروف شاہراہ پرایک لینڈ کروزر نے سگنل توڑتے ہوئے مہران کار کو ڈرائیور والی سائیڈ سے ہٹ کیا اور پلک جھپکنے میں چار جانیں لقمہ   اجل بن گئیں۔

یہ چار نوجوان تھے،جو اے این ایف کا ایک ٹیسٹ دینے مانسہرہ سے اسلام آباد آئے تھے۔ابھی ان کی زندگیوں نے صرف خواب دیکھے تھے، جن کی تعبیر انہیں ملنی تھی،مگر یہ اس سے پہلے اپنے خوابوں سمیت دارالحکومت کی ایک سڑک پر کچل دیئے گئے۔ حادثہ تو ایک حادثہ ہوتا ہے، کسی وقت بھی ہو سکتا ہے، لیکن جب اس کا باعث مجرمانہ غفلت ہو تو اسے اِدھر اُدھر کا رنگ دینے کی کوشش کی جاتی، خاص طور پر اُس گاڑی میں اگر کوئی بااثر شخص یا خاندان ہو تو جھوٹ بولنے، واقعات کو توڑ مروڑ کے پیش کرنے اور ذمہ داری سے فرار کی ایک ایسی گھٹیا کہانی گھڑی جاتی ہے کہ گھن آنے لگتی ہے، کچھ ایسا ہی اس واقعہ کے بعد بھی ہوا اور ہو رہا ہے۔ 

جس بڑی گاڑی نے سگنل توڑ کر مہران کار میں سوار چار نوجوانوں کو ہلاک کیا،اُس میں کشمالہ طارق،اُن کے شوہر اور بیٹا سوار تھے۔ایک سرکاری پروٹوکول گاڑی اُن کے پیچھے بھی چل رہی تھی۔ اسلام آباد ٹریفک پولیس کے موقع پر پہنچنے والے اہلکاروں نے ایک اچھا کام یہ کیا کہ ابتدائی رپورٹ میں اِس بات کی تصدیق کر دی کہ کشمالہ طارق کی گاڑی نے بند سگنل کے باوجود گاڑی نہیں روکی اور تیز رفتاری سے چوک کو کراس کیا، جس کے باعث سامنے سے گزرنے والی مہران کار کو ڈرائیور سائیڈ پر عین درمیان میں ٹکر ماری،جس کی وجہ سے وہ پچک گئی اور دور جا گری۔اُس میں پانچ نوجوان سوار تھے، جن میں سے چار موقع پر جاں بحق ہو گئے،ایک زخمی ہوا جسے ہسپتال منتقل کیا گیا،جو نوجوان بچ گیا اسلام آباد پولیس نے اُس کی مدعیت میں اس اندوہناک واقعہ کا مقدمہ درج کیا ہے، جس میں اُس نے بتایا کہ گاڑی کو کشمالہ طارق کا بیٹا اذلان چلا رہا تھا۔عینی شاہدوں نے بھی اس کی تصدیق کی ہے اور جو موقع کی ویڈیو فوٹیج سامنے آئی ہیں، ان میں بھی اذلان کو لوگوں سے الجھتے دیکھا جا سکتا ہے۔

اب ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ اخلاقی جرأت کا مظاہرہ کر کے سچ سامنے لایا جاتا۔ اس حقیقت پر زور دیا جاتا کہ یہ ایک حادثہ تھا،جس کی ذمہ داری ہم قبول کرتے ہیں، مگر اس کی بجائے پھر وہی الٹی چکی چلائی گئی۔ کشمالہ طارق اور اُن کی فیملی موقع سے غائب ہو گئے اور کچھ دیر بعد اپنے ڈرائیور کو یہ کہہ کر تھانے پیش کر دیا کہ حادثے کے وقت گاڑی وہ چلا رہا تھا۔ پولیس نے اُسے گرفتار کر لیا ہے،لیکن مقدمے کی ایف آئی آر میں اُس کا کہیں ذکر نہیں،بلکہ کشمالہ طارق کے بیٹے اذلان کا نام بطور ڈرائیور موجود ہے،جس نے سگنل توڑ کر مہران کو روندا۔

کشمالہ طارق جو ایک سیاست دان بھی ہیں اور اب ایک سرکاری منصب پر فائز ہیں یقینا ایک مشکل صورتِ حال کا شکار ہیں،مگر اُن کا دُکھ اور مشکل اُُن خاندانوں سے بڑی نہیں ہو سکتی، جن کے بیس بائیس سالہ نوجوان اس دُنیا سے چلے گئے، جس طرح کشمالہ طارق اپنے بیٹے کے لئے پریشان ہیں، حالانکہ وہ تو زندہ ہے،اس سے کہیں زیادہ وہ مائیں دُکھی اور پریشان ہوں گی، جن کے لخت ِ جگر  روزگار کی خواہش لے کر اسلام آباد گئے اور وہاں سے اُن کے لاشے واپس آئے۔اس موقع پر کشمالہ طارق اُن کے لئے ہمدردی کے بول بولتیں تو پوری قوم کو اچھا لگتا،لیکن افسوس کہ وہ پریس کانفرنس میں اپنا دکھڑا لے کر بیٹھ گئیں۔ یہ تک کہہ گئیں کہ اُن کی کردار کشی کی جا رہی ہے اور گزشتہ دو دِنوں سے انہیں پریشان کر رہے ہیں، اب کوئی بتائے کہ کیا یہ حادثہ بھی ان کے خلاف کسی کی سازش ہے؟ کیا ان نوجوانوں کو جب وہ مانسہرہ سے چلے اِس بات کا علم تھا کہ ہم کسی سازش کا حصہ بننے جا رہے ہیں۔ ویسے تو یہاں ہر معاملے میں سیاست کو بطور ڈھال استعمال کیا جاتا ہے،مگر اس معاملے میں سیاست کو لانا ایک ایسا ظالمانہ اور بے حسی کا پرتو فعل ہے، جس کی قطعاً حمایت نہیں کی جا سکتی۔ بھلا یہ کون سا موقع ہے اس قسم کی باتوں کا۔ بیٹا ڈرائیونگ کر رہا تھا یا نہیں یہ بات تفتیش میں سامنے آ جائے گی،مگر یہ کہنا کہ مجھے نشانہ بنایا جا رہا ہے، لواحقین کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے برابر ہے۔

اب ساری ذمہ داری اسلام آباد پولیس پر ہے۔

آئی جی اسلام آباد کو تفتیش پر نظر رکھنی چاہئے۔ مانسہرہ سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کے ورثا  شاید اتنے بااثر نہ ہوں جتنے اس واقعہ کے دوسرے فریق ہیں۔ اگر انہیں انصاف نہیں ملتا اور دباؤ کی وجہ سے وہی ناانصافی ہوتی ہے جو کوئٹہ میں ٹریفک سارجنٹ کے لواحقین سے ہوئی،تو قانون کی رہی سہی ساکھ بھی عام آدمی کی نظر میں ختم ہو جائے گی اور معاشرے میں مایوسی اور نفرت بڑھے گی۔بچ جانے والے نوجوان کا دعویٰ ہے کہ جب اُن کی کار سے لینڈ کروزر ٹکرائی تو اُسے کشمالہ طارق کا نوجوان بیٹا چلا رہا تھا۔ ویسے بھی منطق اِس بات کو نہیں مانتی کہ کوئی مشاق ڈرائیور ٹریفک سگنل توڑے، جبکہ اُس کے مالکان بھی گاڑی میں سوار ہوں۔یہ کام تو کوئی اناڑی اور کھلنڈرا نوجوان ہی کر سکتا ہے جسے قانون کی پروا نہ ہو اور اُسے گاڑی میں بیٹھے والدین لاڈ پیار کی وجہ سے روکنے کو تیار نہ ہوں۔ ڈرائیور کو اگر موقع پر کشمالہ طارق اور اُن کے شوہر پولیس کے حوالے کرتے تو بات اور تھی، بعد میں تھانے پیش کرنا ایک طے شدہ حکمت ِ عملی کا نتیجہ نظر آتا ہے۔

مزید :

رائے -کالم -