سٹیٹ بینک ترمیمی بل اور اپوزیشن جماعتیں ۔۔۔

سٹیٹ بینک ترمیمی بل اور اپوزیشن جماعتیں ۔۔۔
سٹیٹ بینک ترمیمی بل اور اپوزیشن جماعتیں ۔۔۔
سورس: File Photo

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

پاکستان کی عوام مہنگائی، بیروزگاری، غربت اور تنگ حالی کی چکی میں پس رہی ہے۔ غریب اور متوسط طبقہ دو وقت کی روٹی پوری کرنے کے لیے پریشانی کا شکار ہے۔۔غریب طبقے کے ان مسائل پر اپوزیشن کا دعوی ہے کہ انہیں عوام کا شدید دکھ اور احساس ہے۔جو اپوزیشن کو چین کی نیند نہیں سونے دیتا. اپوزیشن کا یہ بھی ماننا ہے کہ ملکی معیشت کی مکمل تباہی کی وجہ معیشت کوعالمی مالیاتی ادارے(آئی ایم ایف) کے حوالے کرنا، حکومت کا ہر معاملے میں آئی ایم ایف کے آگے گھٹنے ٹیکنا اور ملکی معیشت پر آئی ایم ایف کے ہی بھیجے ہوئے لوگوں کو مسلط کرنا ہے۔ انہوں نے پاکستان کا روپیہ ڈالر کے مقابلے میں گزشتہ تین سالوں میں 53 فیصد ڈی ویلیو کیا جس سے ڈالر 180 روپے کا ہوچکا ہے اور ملک میں مہنگائی کا نا تھمنے والا طوفان آچکا ہے۔۔
ملکی قرضوں میں 55 فیصد سے زائد اضافہ ان تین سالوں میں ہوچکا ہے۔پاکستان گزشتہ تین سالوں سے چھ  ارب ڈالروں کے لیے آئی ایم ایف کے گھر کی لونڈی بنا ہوا ہے اور ان کی ہر جائز و ناجائز اور سخت ترین شرائط بھی تسلیم کرتا آرہا کے تاکہ ان کی طرف سے اس قرض کی فراہمی نہ روک دی جائے۔ہم مجبور اتنے ہیں کہ تین سالوں سے مختلف اقساط میں چھ ارب ڈالر لینے کے لیے ہم ان کے آگے ہاتھ باندھے کھڑے ہیں، اس دفعہ ایک ارب ڈالر کی قسط لینے کے لیے پاکستان کا سٹیٹ بینک تک ان کے حوالے کردیا ہے،جبکہ عیاش اتنے ہیں کہ اپنے ملک میں گندم اور گنے کی پیداوار پر توجہ نہ دینے کہ وجہ سے ہمیں 10 ارب ڈالر کی گندم اور چینی باہر سے منگوانی پڑی۔۔۔
پاکستان زرعی ملک ہونے کے باوجود، ماضی میں یہی فصلیں دوسروں کے بیچنے کے باوجود آج یہ دوسروں سے منگوانے پر مجبور ہے جس کی بڑی وجہ  ہماری ناقص ترین پالیسیاں ہیں۔۔اگر گندم و گنا کی فصل کی کاشت کاری پر توجہ دی جاتی تو ہمیں آئی ایم ایف کے اس پیکج سے بھی چار ارب ڈالر زیادہ بچ جاتے. 
رواں سال بھی گندم کی فصل کے لیے کسان در در کی ٹھوکریں کھانے کے لیے مجبور ہے، انہیں کھاد کے حصول کے لیے سخت مشکلات کا سامنا ہے. کھاد کی عدم دستیابی کی وجہ سے اس سال گندم کی فصل کو شدید نقصان متوقع ہے،جسکی وجہ سے گندم اس سال دوبارہ باہر سے منگوانے کی ضرورت پڑ سکتی ہے جو ہماری معیشت کے لیے انتہائی بری خبر ہے۔۔۔
دوسری طرف حکومت نے سینیٹ میں اپوزیشن کی اچھی خاصی اکثریت ہونے کے باوجود وہاں سے سٹیٹ بینک ترمیمی بل منظور کروالیا ہے۔اس بل کے متعلق مسلم لیگ ن اور پیپلز  پارٹی کی قیادت کا کہنا  تھا کہ یہ انتہائی حساس ترین بل ہے،اس کےپاس ہونےکامطلب پاکستان کی خودمختاری کو ختم کرنا ہے، اپوزیشن نے حکومت کے اس فعل کو پاکستان سے غداری قرار دیتے ہوئےالزام عائدکیا  تھا  کہ  موجودہ حکمران پاکستان کو آئی ایم ایف کے ہاتھوں بیچنے جارہے ہیں۔۔۔جب اس بل کو قومی اسمبلی سے پاس کروایا گیا تو وہاں مسلم لیگ ن نے شدید احتجاج بھی کیا اوراس کے خلاف جذباتی تقریریں بھی کیں تاہم پارلیمانی سیاست کے طریقہ کار کے مطابق اس بل کو روکنے کے لیے اپوزیشن نے کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی۔نہ انہوں نے تمام اپوزیشن جماعتوں کو اس بل کے خلاف متحد کیا اور نا حکومتی اراکین کو اس مسئلہ پر اعتماد میں لینے کی کوشش کی، نتیجہ یہ نکلا کہ یہ بل قومی اسمبلی سے پاس ہوگیا۔۔۔اگر اپوزیشن اس بل کو روکنے کے لیے رتی برابر بھی سنجیدہ ہوتی تو یہ بل کسی طور پر بھی سینیٹ سے پاس نہیں ہوسکتا تھا۔۔۔

سینیٹ میں کل 99 نشتوں میں سے اپوزیشن کے پاس 57 نشستیں ہیں۔ اس سادہ ترین اکثریت کے باوجود بھی اپوزیشن کا اس بل کو آسانی سے پاس کروادینے کا مطلب صاف ہے کہ اپوزیشن خود اس حکومت کی سہولت کار ہے۔۔۔اگر حکومت پر یہ الزام ہے کہ یہ سلیکٹڈ ہے، ناکام ہے، عوام دشمن ہے،بے حس ہے، غیر ملکی ایجنٹ ہے اور پاکستان کی خودمختاری کی سوداگر ہے تو عین اسی معاملے میں حکومت کو بھرپور مدد فراہم کر کے اپوزیشن عوام دوست، پاکستان کی ہمدرد اور عوام کی منتخب نمائندہ کیسے ہے؟؟؟حقیقت یہ ہے کہ اس حمام میں سبھی ننگے ہیں۔۔۔جہاں حکومت کو اس غریب و لاچار، بے بس و مجبور اور مہنگائی و غربت کے ہاتھوں بے آسرا قوم کی کوئی پرواہ نہیں وہیں اپوزیشن بھی بس ان لاچاروں کے نام پر اپنی سیاست چمکانا جانتی ہے۔۔۔
بڑی گاڑیاں، بنگلے، نوکر چاکر، مراعات، بھاری تنخواہیں اور بھاری الاؤنس لے کر موجیں اڑانے والوں کو حقیقت میں کوئی فرق نہیں پڑتا کہ ہمارے ملک کے دوکاندار، ریڑھی بان، تاجر، مزدور، دیہاڑی دار اور متوسط و غریب طبقے کی زندگی کن مشکلات کا شکار ہے؟؟؟جس بل پر اپوزیشن کئی مہینوں سے دھواں دار بیانات داغ رہی تھی کہ یہ حکومت ہمارے ملک کی خودمختاری و سالمیت کو داؤ پر لگانے جا رہی ہے جب اس کو عملی طور پر روکنے کا وقت آیا تو باوجود روکنے کی قدرت رکھنے کے، یہی اپوزیشن اس بل کو خوشدلی سے خود پاس کروانے میں سہولت کاری کرتی دکھائی دی۔۔۔اپوزیشن کےآٹھ عدد اراکین نے اس اہم ترین اجلاس میں شرکت کرنا ہی گوارا نہیں کی  اور تو اور سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر جناب یوسف رضا گیلانی صاحب بھی اس روز ایوان میں موجود نہیں تھے۔۔۔
جب پی ٹی آئی کی خاتون سینیٹر اس بل کو پاس کروانے کے لیے کورونا کی مریض ہونے کے باوجود ویل چیئر پر بیٹھ کر آکسیجن ماسک لگائے اپنا ووٹ دینے آئی تب جمہوریت کے علمبردار ہونے کے دعویدار مسلم لیگ ن کے تین عدد اراکین بھی ایوان سے غائب تھے۔۔مولانا فضل الرحمن  کی جماعت کے سینیٹر طلحہ محمود  بھی ایوان میں نہیں پہنچے حالانکہ  مولانا فضل الرحمن  سے بڑھ کر اس وقت اس حکومت کو ملک دشمن، عوام دشمن،غیر ملکی ایجنٹ سمجھنے والا کوئی دوسرا نہیں۔۔۔
یوں ہماری تینوں جمہوریت کی جنگ لڑنے والیں، نا جھکنے والیں نا بکنے والیں سیاسی جماعتوں کے (جس میں پیپلز پارٹی کے  دو، پاکستان مسلم لیگ ن کے تین اور جے یو آئی کے ایک سینٹر  شامل ہیں)اراکین ایوان سے غائب تھے۔عوامی نیشنل پارٹی کے سینیٹر عمر فاروق کاسی ایوان میں موجود تھے مگر جب انہیں محسوس ہوا کہ ان کے ایک ووٹ سے یہ بل پاس ہونے سے رک سکتا ہے تو وہ بھی وہاں سے کھسک گئے تاکہ حکومت کو اس کارروائی کے لیے کوئی مشکل درپیش نا ہو۔۔اس بل کے پاس ہوجانے کے بعد ہمارا قومی بینک براہ راست آئی ایم ایف کے زیر کنٹرول جا چکا ہے۔۔ اب پاکستان کی حکومت کو اپنے ہی بینک سے قرض لینے کے لیے آئی ایم ایف کی اجازت درکار ہوگی۔۔۔
سننے میں آرہا ہے کہ لوگ اپنا پیسہ کاروبار سے نکال کر بینکوں کی جانب لے جانا شروع ہوگئے ہیں جس سے ہماری انڈسٹری تباہ ہوجائے گی، بیروزگاری میں اضافہ ہوگا، غربت بڑھے گی، مہنگائی کا مزید طوفان آئے گا اور یوں ہر بڑھتی ہوئی گھٹن کے ساتھ اپوزیشن بھی ہلکی ہلکی ڈھولکی پر اپنے شادیانے بجاتی نظر آئے گی۔۔۔سٹیٹ بینک آئی ایم ایف کے حوالے کردینے کا مطلب پاکستان کو مکمل طور پر کسی کے آگے ڈال دینے کے مترادف ہے۔۔۔سلطنت عثمانیہ کے خاتمے کی وجوہات پر کبھی غور کیجئے گا۔۔۔حزب اختلاف و اقتدار کا راوی ناجانے کیوں چین ہی چین لکھ رہا ہے حالانکہ یہ مسئلہ بہت حساس مسئلہ ہے   ۔۔۔

 نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

بلاگ -