حیرتوں کی تازہ منزل کا اشارہ (8)

   حیرتوں کی تازہ منزل کا اشارہ (8)
   حیرتوں کی تازہ منزل کا اشارہ (8)

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

 شام کے جھٹپٹے میں چائے کی پیالی پر میمونہ کی سفارتکاری میرے نکاح پر کیسے منتج ہوئی، یہ خبر تو بریک ہو چکی۔ پھر بھی بَیک اسٹیج کہانی ، جس کا ہیرو مَیں نہیں طاہر اکرام ہیں، ناظرین کے لیے دو حیرتوں کا سامان لیے ہوئے ہے۔ ایک تو مرحوم کا شکوہ کہ رشتے کی بات اُن کے توسط سے کیوں نہ چھیڑی گئی اور میرا فیض احمد فیض اسٹائل جواب کہ یار، یہ کام ’تھروُ پراپر چینل‘ ہی ہونے دو۔ دوسرے ، بیگم کا تاخیری انکشاف کہ مَیں جسے پسند کی شادی سمجھتا رہا ، شروع میں وہ اُن کے نزدیک ناپسند کی شادی تھی ۔ ڈاکٹر نبیلہ کا گمان تھا کہ یہ نوجوان اسسٹنٹ پروفیسر طاہر سمیت اپنے اسٹوڈنٹس کو زندگی میں باغیانہ روش اپنانے کی ترغیب دے رہا ہے۔ خود باغی اسٹوڈنٹ کی روش دیکھیے کہ مجھ سے بالا بالا بہن ہی نہیں، والدین کو بھی قائل کر لیا کہ اِس سے اچھا رشتہ ہو ہی نہیں سکتا۔ یہ تھی طاہر کی بصیرت!!

 ہاں، ایک سہ پہر عجیب اتفاق ہوا ۔ مَیں نے یونیورسٹی سے واہ پہنچتے ہی دیکھا کہ چند منٹ میں طاہر اکرام کاواساکی پر سوار ہمارے گیٹ میں داخل ہو رہے ہیں۔ سوچا کہ آج صبح ہی صبح فون پر گفتگو ہو ئی تھی، اب آنے کا مقصد کیا ہو سکتا ہے ؟ چہرے پر کچھ گھبراہٹ کے آثار بھی دیکھے ، جیسے کچھ مرضی کے خلاف ہو رہا ہو۔ کہنے لگے:”ہمارے پیرنٹس بہت ڈرے ہوئے لوگ ہیں۔ پہلے تو کہہ رہے تھے کہ شاہد وغیرہ سیالکوٹی ہیں اور وہ بھی کشمیری۔ اب لاہور والی بڑی آنٹی نے نیا پوائنٹ نکالا ہے کہ شادی کے معاملے پر استخارہ کر لینا چاہیے۔“ روحانیت پر مائل آنٹی محکمہءتعلیم میں سینئر عہدے سے ریٹائر ہوئی تھیں اور اُن کے بال بچے نہیں تھے۔ چنانچہ مَیں ایک بار پھر فیض احمد فیض بن گیا:”بھئی ہو سکتا ہے کہ اللہ میاں کا ووٹ ہمارے ہی حق ہو۔“ طاہر مسکرائے اور پھر وہی ہوا جس پر خدا کا شکر واجب ہے۔

 زیادہ مزے کا ڈرامہ مزید چھ سال گزرنے پر طاہر اور ثمرہ کی شادی پر ہوا جب ہم قیامِ لندن کے دوران کچھ عرصہ پہلے پاکستان کا چکر لگا چکے تھے ۔ یہ نہیں کہ اپنی خالہ زاد کے ساتھ بچپن سے چلی آ رہی طاہر کی انڈر اسٹینڈنگ میں کوئی کمی آ گئی یا کسی بڑھک دار بزرگ نے روایتی فلمی وِلن کی طرح ایڑی بلکہ ’اڈی‘ مار کے دھرتی ہِلا دینے کی کوشش کی۔ جی نہیں، یہاں تو خاندان کی اندرونی ہم آہنگی کا حال یہ رہا کہ نکاح تو بروقت ہو ا مگر دلہن اور اُنکی بہنوں کی لاہور سے اسلام آباد آمد میں طوفانی بارش کے سبب بارات لڑکے کی بجائے لڑکی والوں پر مشتمل تھی جبکہ دوپہر کی دعوتِ ولیمہ رات کے قیام و طعام میں بدل گئی ۔ مَیں جو ناٹک دکھانا چاہتا ہوں وہ بالکل ذاتی نوعیت کا ہے۔ یہی کہ دیرینہ طے شدہ رشتے کے باوجود طاہر کی شادی ہنگامی طور پر ہوئی اور دلی خواہش کے باوجود ہم اور بچے شریک نہ ہو سکے۔

 ہر محرومی کی اپنی انتقامی منطق ہو تی ہے۔ 1989 میں اچانک طاہر کی تاریخ طے پائی تو شام کے وقت نواحی شہر سے لندن لَوٹتے ہوئے ایک مزاحیہ سہرے کا مصرع یاد آ گیا جس میں ایک ناپاک جانور کا ذکر تھا۔ اردو کے قاعدہ میں الف آم، ب بکری، پ پنکھا کی طرح مذکورہ جانور کو اگر اُس کے نام کے پہلے حرف تک محدود کر دیں تو ٹِیپ کا مصرع ہوگا ”کِس ’س‘ کی بوتھی پہ منور ہے یہ سہرا۔“ اوریجنل سہرا، جس کی بس ایک لائن میرے ذہن میں رہ گئی تھی، صحافی خالد حسن نے ایک دوست کی شادی پر کہا اور بارات کے موقع پر پڑھ بھی دیا۔ ڈاکٹر نبیلہ نے میری زبان سے یہ مصرع سُن کر داد دی تو آمد ہونے لگی اور مرزا سودا کے ”غنچے لانا ہمارا قلمدان “ کی طرح مَیں نے بھی کہا کہ ڈیش بورڈ سے کاغذ قلم نکالیے اور جو کہوں لکھتی جائیے۔ واوین میں درج مصرعے البتہ خود محترمہ نے فی البدیہہ کہے:

ضَو بار ہے، خورشید کا ہم سر ہے یہ سہرا

ہر انجم و مہتاب سے بڑھ کر ہے یہ سہرا

دل شاد ہے، دلدار ہے، دلبر ہے یہ سہرا

گو حسن میں ہر سہرے سے خوشتر ہے یہ سہرا

جوتوں کا ہدف تھا جو ، اُسی سر ہے یہ سہرا

کِس ’س‘ کی بوتھی پہ منور ہے یہ سہرا

اِن سہرے کی لڑیوں میں صحافت کا ہنر ہے

تہذیب کی شوکت ہے، ثقافت کا ہنر ہے

جو کام ترا ہے وہ بغاوت کا ہنر ہے

جلدی کی یہ شادی بھی سیاست کا ہنر ہے

’پیدائشی اسکیم کا چکر ہے یہ سہرا‘

دم اِس کی محبت کا نہ بھرنا کبھی ثمرہ

اِن جھوٹی اداوئں پہ نہ مرنا کبھی ثمرہ

کچھ بات کہے کان نہ دھرنا کبھی ثمرہ

ساٹھ انچ کے شوہر سے نہ ڈرنا کبھی ثمرہ

یہ مشورہ بھولِیں تو ستم گر ہے یہ سہرا

عادت ہے کریں ختم ہر اِک کام دعا پر

استادہ ہیں اِس گھر کے در و بام دعا پر

منظوم تمسخر کا ہو انجام دعا پر

’اولاد کی بھرمار ہو، الزام دعا پر‘

خواہش میں مونث، نہ مذکر ہے یہ سہرا

 یہ ’پرائیویٹ‘ سہرا دوستوں کی نجی محفل میں سنایا گیا۔ بموقع شادی ایک تہنیتی نظم الگ بھیج دی تھی جس میں دولہا طاہر، دلہن ثمرہ ، دونوں کے نانا عبدالرحمن اور والدین کے نام لغوی معنوں میں استعمال ہوئے۔ مختصر نمونہءکلام ملاحظہ ہو:

دیکھ رحماں کی عنایت کا اثر سہرے میں

قلبِ طاہر کا ہویدا ہے ثمر سہرے میں

یہ بھی اکرامِ وفا ہے، اے دلِ حئی و رشید

شوخ رنگوں کے نمایاں ہیں گُہر سہرے میں

سات دریا کی مسافت سے پہنچتے ہیں خیال

خواب یوں رہتے ہیں مشغولِ سفر سہرے میں

اپنی آنکھوں میں تو تھا کب سے نبیلہ شاہد

آج دیکھے گی جو اوروں کی نظر سہرے میں

(جاری ہے) 

مزید :

رائے -کالم -