ٹیکنالوجی نہیں، انسانیت کی ضرورت!
کہا جاتا ہے کہ لباس، ماحول اور وقت انسان کی شخصیت بدل دیتا ہے، لیکن جب بات پنجاب پولیس کی ہو تو یہ مقولہ محض ایک مفروضہ نظر آتا ہے۔ گزشتہ چند برسوں میں ہم نے دیکھا کہ پولیس کی وردیاں بدل گئیں، تھانوں کی عمارتیں چمکدار ہو گئیں، انہیں جدید ترین گاڑیاں اور ہتھیار فراہم کر دیے گئے اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے نام پر اربوں روپے کے منصوبے بھی لگ گئے۔ فرنٹ ڈیسک بنے، سیف سٹی کے کیمرے لگے اور پولیس خدمت مراکز کا قیام عمل میں لایا گیا۔ لیکن افسوس کا مقام یہ ہے کہ اس تمام تر ظاہری چمک دمک کے باوجود، پولیس کی وہ ”ذہنیت“ نہیں بدلی جو اسے عوام کا محافظ بنانے کے بجائے ایک خوفناک شکاری کے روپ میں پیش کرتی ہے۔
آج بھی جب ہم کسی تھانے کی دہلیز پر قدم رکھتے ہیں تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہم 2026ء کے آزاد ملک میں نہیں، بلکہ1861ء کے اس برطانوی سامراجی دور میں کھڑے ہیں جہاں پولیس کا مقصد عوام کی خدمت نہیں بلکہ انہیں تشدد کے ذریعے دبانا، ہراساں کرنا اور خوفزدہ رکھنا تھا۔ نوآبادیاتی دور میں پولیس کا ڈھانچہ اس لئے بنایا گیا تھا کہ وہ تاجِ برطانیہ کے وفادار رہیں اور عوام کو باغی بننے سے روکیں۔ بدقسمتی سے، آزادی کی آٹھ دہائیاں گزرنے کے بعد بھی ہمارا پولیس کلچر اسی زنجیر میں جکڑا ہوا ہے، جہاں وردی کا رعب مظلوم کی ڈھارس بننے کے بجائے اس کی چیخیں نکالنے کے کام آتا ہے۔
سانحہ بھاٹی گیٹ اس بدلتی وردی اور جوں کی توں قائم ذہنیت کا زندہ جاوید ثبوت ہے۔ یہ واقعہ محض ایک جرم نہیں بلکہ انسانیت کی تذلیل کی وہ بدترین مثال ہے جو چیخ چیخ کر پکار رہی ہے کہ ہم نے پولیس کو جدید ٹیکنالوجی تو دے دی لیکن اسے ”انسانیت“ سکھانا بھول گئے۔ جب ایک خاتون اپنی معصوم بچی سمیت گٹر میں گر کر جاں بحق ہو جائے، تو یہ معاشرے کے لئے ایک المیہ ہوتا ہے، لیکن جب اس کے غمزدہ شوہر کو ڈھارس دینے اور انصاف فراہم کرنے کے بجائے تھانے کے عقوبت خانے میں ڈال دیا جائے، تو یہ نظام کے منہ پر طمانچہ ہے۔ اس بدقسمت شخص پر زبردستی جرم قبول کرنے کے لیے ظلم کے پہاڑ توڑے گئے تاکہ اصل ذمہ داروں کی غفلت پر پردہ ڈالا جا سکے۔ یہ دیکھ کر سمجھ لینا چاہئے کہ نظام اندر سے گل سڑ چکا ہے۔
جدید سہولیات، اسمارٹ پولیسنگ اور آئی ٹی بیسڈ ایپس کا ڈھنڈورا پیٹنا تب تک بے معنی ہے جب تک ایک عام شہری تھانے جاتے ہوئے خود کو محفوظ تصور نہ کرے۔ حقیقت یہ ہے کہ مراعات اور سہولیات بہتر سے بہترین ہو گئیں، افسروں کی تنخواہوں میں اضافہ ہوا، پٹرول کا کوٹہ بڑھا، لیکن پولیس کا رویہ آج بھی وہی روایتی، متکبرانہ اور ظالمانہ ہے۔ مظلوم جب انصاف کی اُمید لئے تھانے جاتا ہے، تو اسے ”صاحب“ کے موڈ اور تھانے دار کے ”ریٹ“ کا سامنا کرنا پڑتا ہے اگر اس کے پاس اثر و رسوخ نہیں، تو وہ خود کو ملزموں کے کٹہرے میں پاتا ہے۔
پولیس کے محکمے کے بارے میں ایک مشہور مقولہ ہے کہ ”پولیس میں یا تو ایس ایچ او ہوتا ہے یا آئی جی، درمیان میں کوئی عہدہ نہیں ہوتا“۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کاغذوں میں چاہے کتنی ہی رینکنگ کیوں نہ ہو، فیلڈ میں اصل طاقت ایس ایچ او کے پاس ہوتی ہے۔ وہ اپنے علاقے کا سیاہ و سفید کا مالک سمجھا جاتا ہے اگر کسی علاقے کا ایس ایچ او ایماندار، نڈر اور فرض شناس ہو تو وہ اپنے علاقے کو جرائم سے پاک رکھ سکتا ہے، لیکن اگر وہی ایس ایچ او ظالم اور کرپٹ ہو جائے تو آئی جی کے تمام ویژن، وزیر اعلیٰ کی تمام ہدایات اور حکومت کی تمام اصلاحات دھری کی دھری رہ جاتی ہیں۔ بھاٹی گیٹ کے واقعے میں متعلقہ ایس ایچ او نے وہی روایتی اور وحشیانہ طریقہ اپنایا جس نے پولیس کے امیج کو مٹی میں ملا دیا۔ جب مظلوم شوہر نے میڈیا کے سامنے آکر اپنے جسم پر موجود تشدد کے نشانات دکھائے، تو وہ دراصل اس فرسودہ نظام کے خلاف چارج شیٹ تھی۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے اس واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کا حکم دیا ہے، جو کہ ایک مستحسن قدم ہے لیکن مریم نواز شریف کا ”محفوظ پنجاب“ کا خواب تبھی شرمندہ تعبیر ہو سکتا ہے جب تھانہ کلچر میں جڑ پکڑنے والی ان کالی بھیڑوں کا مکمل قلع قمع کیا جائے۔ محض معطلی یا لائن حاضر کرنا کافی نہیں، بلکہ ایسے عناصر کو عبرت کا نشان بنانا ضروری ہے جو وردی کی آڑ میں غنڈہ گردی کرتے ہیں۔جب تک تھانے دار کو یہ خوف نہیں ہوگا کہ اس کی ذرا سی زیادتی اسے حوالات کے پیچھے پہنچا سکتی ہے، تب تک انسانی حقوق کی پامالی نہیں رکے گی۔
پولیس کے محکمے میں ابھی بھی کچھ ایماندار اور فرض شناس افسر موجود ہیں جن کی وجہ سے اس ادارے کا تھوڑا بہت بھرم باقی ہے، وگرنہ حالات وہی ہیں جو بھاٹی گیٹ کے متاثرہ شہری نے بیان کیے۔ آج بھی تھانے بہت سے شہریوں کے لئے دہشت کی علامت ہیں جہاں غریب کی فریاد سننے کے بجائے اسے ہی حوالات کی سیر کروا دی جاتی ہے۔ ایک تھانے کا ایماندار انچارج داخلی سلامتی کا اصل ضامن ہوتا ہے اگر ہر علاقے کا ایس ایچ او اپنے فرائض کو عبادت سمجھ کر ادا کرے، تو معاشرے سے جرائم کی شرح میں نمایاں کمی آ سکتی ہے اور عوام کا پولیس پر اعتماد بحال ہو سکتا ہے۔
یہ سمجھنا انتہائی ضروری ہے کہ ٹیکنالوجی، سافٹ ویئرز اور نئی گاڑیاں تبھی کارگر ثابت ہوں گی جب ان کو چلانے والے دلوں میں انسانیت کا احترام اور قانون کی پاسداری کا جذبہ ہو گا۔ بھاٹی گیٹ کا واقعہ ہمیں یہ تلخ یاد دلاتا ہے کہ اصلاحات کا سفر ابھی بہت طویل اور کٹھن ہے۔ ہمیں ایسے نظام کی ضرورت ہے جہاں پولیس کا نام سن کر مجرموں کے دل کانپیں، نہ کہ معصوم شہریوں کے۔ تھانوں کو واقعی ”خدمت مراکز“ میں تبدیل کرنے کے لئے صرف پینٹ کی ضرورت نہیں بلکہ پولیس اہلکاروں کی نفسیاتی تربیت اور کڑا احتساب ناگزیر ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ تشدد کرنے والے افسران کو عبرت کی مثال بنایا جائے تاکہ آئندہ کسی معصوم کے زخموں پر نمک نہ چھڑکا جائے اور ریاست اپنی ذمہ داری پوری کر سکے۔
٭٭٭٭٭
