شازیہ طہاس خا ن کا نوٹین پاﺅچز پالیسی کیخلاف قرار داد پیش

  شازیہ طہاس خا ن کا نوٹین پاﺅچز پالیسی کیخلاف قرار داد پیش

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

                                                                        پشاور(سٹی رپورٹر)خیبر پختونخوا اسمبلی میں نکوٹین پر مشتمل زبانی مصنوعات (نکوٹین پا_¶چز) سے متعلق ایک اہم پالیسی تنازع سامنے آ گیا ہے۔ رکن صوبائی اسمبلی شازیہ تہماس خان نے وفاقی حکومت کے اس اقدام کے خلاف قرارداد پیش کی ہے جس کے تحت نکوٹین پا_¶چز کے رضاکارانہ تکنیکی معیار کو تیزی سے لازمی بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ قرارداد میں خبردار کیا گیا ہے کہ یہ اقدام بچوں اور نوجوانوں کو شدید نکوٹین کے نشے کی جانب دھکیل سکتا ہے۔قرارداد میں اس مجوزہ معیار پر سخت تشویش کا اظہار کیا گیا ہے جس کے تحت فی پا_¶چ نکوٹین کی مقدار 20 ملی گرام تک مقرر کرنے کی اجازت دی جا رہی ہے۔ ماہرینِ صحت کے مطابق یہ مقدار انتہائی نشہ آور ہے، بالخصوص نوجوانوں اور پہلی بار استعمال کرنے والوں کے لیے۔ خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ اس حد کو قانونی حیثیت دینے سے نکوٹین کی دستیابی بڑھے گی، تجرباتی استعمال میں اضافہ ہوگا اور طویل المدتی انحصار کے خطرات میں اضافہ ہوگا، خاص طور پر ایسے حالات میں جہاں عمر کی جانچ اور قانون کا نفاذ کمزور ہے۔ایوان میں یہ سوال بھی اٹھایا گیا کہ آیا اس فیصلے سے قبل محکمہ صحت خیبر پختونخوا سے باقاعدہ مشاورت کی گئی تھی یا نہیں، اور اگر کی گئی تو صوبائی حکومت نے نکوٹین کی اتنی زیادہ مقدار کو معیار بنانے پر کیا م_¶قف اختیار کیا۔ اس پیش رفت نے عوامی صحت سے متعلق فیصلوں میں صوبائی اداروں کے کردار پر بھی بحث کو جنم دیا ہے۔سول سوسائٹی تنظیموں نے اسمبلی میں اس معاملے کو اٹھانے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ رضاکارانہ معیار کو لازمی بنانا نکوٹین کے استعمال کو معمول بنانے کے مترادف ہے، جو نشے کی روک تھام کے بجائے اس کے پھیلا_¶ کا سبب بن سکتا ہے۔ سماجی کارکن قمر نسیم نے کہا کہ فی پا_¶چ 20 ملی گرام نکوٹین کو قانونی معیار بنانا نوجوانوں میں نشے کو جائز قرار دینے کے مترادف ہو سکتا ہے۔قومی اتحاد برائے پائیدار تمباکو و نکوٹین کنٹرول کے کوآرڈینیٹر عثمان آفریدی نے بھی قرارداد کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ نکوٹین کی مصنوعات کسی بھی شکل میں ہوں، صحت کے لیے سنگین خطرات رکھتی ہیں اور نوجوانوں کا تحفظ ریاست اور معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔قرارداد کی پیشی کے بعد یہ معاملہ باضابطہ طور پر صوبائی اسمبلی کے ریکارڈ کا حصہ بن چکا ہے، جس سے وفاقی حکام پر دبا_¶ بڑھ گیا ہے کہ وہ مجوزہ معیار بندی، صوبائی مشاورت اور بچوں و نوجوانوں کے تحفظ سے متعلق خدشات پر واضح م_¶قف پیش کریں۔