سیکنڈ ائیر میں پہلی ہی ملاقات میں ہم یک جان دو قالب بن چکے تھے، غلطیوں کو چھوڑنے کا وعدہ کر کے پھر محنت کا ڈول ڈال دوکامیاب ہوجاؤ گے

 سیکنڈ ائیر میں پہلی ہی ملاقات میں ہم یک جان دو قالب بن چکے تھے، غلطیوں کو ...
 سیکنڈ ائیر میں پہلی ہی ملاقات میں ہم یک جان دو قالب بن چکے تھے، غلطیوں کو چھوڑنے کا وعدہ کر کے پھر محنت کا ڈول ڈال دوکامیاب ہوجاؤ گے

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

مصنف: ع۔غ۔ جانباز
قسط:48
پچھلے چند صفحات میں درج حالات و واقعات کے نتیجہ میں آپ کسی معجزہ کی توقع تو نہیں رکھ سکتے تھے بس جو ہونا چاہیے تھا وہ ہوگیا۔ اور ایف ایس سی میں ناکامی کا طوق گلے میں لٹکائے گھر پہنچے تو والد صاحب خلاف معمول ناصحانہ انداز اختیار کرتے ہوئے پائے گئے۔ کہنے لگے ”غلطی کر بیٹھو تو اُس پر شرمندہ ہو کر …… مستقبل میں ایسی غلطیوں کو چھوڑنے کا وعدہ کر کے پھر محنت کا ڈول ڈال دو۔ کامیاب ہوجاؤ گے۔“
والد صاحب کی نصیحتِ پدرانہ کا کچھ زیادہ ہی اثر لے لیا۔ فوراً حجام کے ہاں پہنچے اور سر پر اُسترا پھروا کر ”ٹنڈ“ کروالی۔ اور اگلے روز ایک زمیندار دوست کے ساتھ مل کر گاؤں سے کوئی آدھا کلو میٹر دُور اپنی زرعی اراضی میں گھاس پھونس کا ایک عارضی مسکن بنا لیا، جس میں صرف ایک چارپائی اور اُس کے سامنے اُتنی ہی جگہ آمدورفت کے لیے بچتی تھی۔ سسّی پنوں، سوہنی مہینوال، ہیر رانجھا…… کی داستانوں کا اگر مشاہدہ کرنے کا آپ کو کبھی وقت ملے تو آپ دیکھیں گے کہ اس سے ملتی جلتی حرکات اُن سے بھی سرزد ہوئی تھیں۔ میرا مطلب ہے دنیا سے کنارہ کشی۔ بس ایک ہی لگن تھی اُن کو…… اور اِدھر بھی بس ایک ہی لگن…… ایف ایس سی…… کا حصول …… صبح سویرے ناشتہ کر کے اپنے آستانہ پر کتابوں کے بنڈل کے ساتھ پہنچ جاتے اور دنیا و مافیہا سے بے خبر علم و عرفان کے سمندر میں غوطہ زن ہوجاتے اور اگر معدہ ساتھ دیتا…… اور جس نے ساتھ نہ دیا اور دوپہر کو بھوک ستانے لگتی تو گھر کو واپسی مقدرّ بن جاتی۔ دوسرے پہر بھی دوسری شفٹ کے لیے اکثر یہاں پر ہی آجاتے اور مزید علم کی اتھاہ گہرائیوں میں گم شام کر دیتے اور واپسی کا بگل بجا دیتے۔ اس دوران گو اتفاقاً ایک دن ہمارا سامنا یہاں بھی عشق نامراد سے ہوگیا۔ ہم نے اُس کا دامن پکڑا لیکن وہ دامن چھڑا کر یہ جا، وہ جا۔ ہم نے بھی کوئی …… اصرار نہ کوئی گلہ شکوہ کیا کیونکہ یہ معاملات ہمارے موجودہ کورس کا حصّہ نہ تھے۔
1951ء میں ایف ایس سی کا امتحان ہوا۔ کامیابی نصیب ہوئی۔ سب کی چھُپی ناراضگی دُور ہوگئی اور ہم پھر سے گورنمنٹ کالج میں ”بی ایس سی“ میں داخلہ لے کر نیو ہوسٹل کی زینت بن گئے۔
مظہر حسین اور اپنی آوارگی   
سر پر یہی کوئی بالشت ڈیڑھ بالشت لمبے بال سجائے مظہر حسین یُوں تو کسی آستانے کا مُجاور لگے، لیکن چہرہ مُہرہ کچھ اور ہی رنگ دکھائے گہرے گندمی رنگ میں بھی ایک انجانی سی چمک، اور گندمی ہونٹوں کے کنارے کنارے پھیلی ایک نیلی دھار ناجانے کیوں اور کیسے قوس و قزع کے رنگ بکھرتی جائے۔ اور پاس بیٹھے ہمسائے اپناتا جائے۔ 1951؁ء گورنمنٹ کالج فیصل آباد میں سیکنڈ ائیر میں پہلی ہی ملاقات میں ہم یک جان دو قالب بن چکے تھے۔ 
دھیمی طبیعت کے مالک مظہر حسین میں نا جانے اُس عمر میں دُوسروں کی اِصلاح کرنے کا بیڑا کیونکر اور کیسے پیدا ہوا۔ خدا جانے! مجھے ہمیشہ اچھی اور صاف ستھری راہ اختیار کرنے کامشورہ دیتے اور یہ باور کرانے میں کامیاب ہوجاتے کہ لگن سے کام کرو گے تو کامیابی قدم چُومے گی۔
سیکنڈ ائیر کی گرمیوں کی چھٹیاں ہوگئیں تو ہم سب ہوسٹل چھوڑ کر اپنے اپنے آبائی گھروں کو چل دئیے۔ میں نے کوئی ایک ماہ گذارا ہوگا کہ مظہر حسین یاد آنے لگا۔ اُن دِنوں سوائے ڈاک کے اور کوئی ذریعہ خیر و عافیتّ دریافت کرنے کا نہ تھا۔ میرے دل میں آیا کہ میں خود کیوں نہ ریل گاڑی سے جا کر اُس سے مل آؤں۔(جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں)ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

ادب وثقافت -