علینا کتنی بڑی ہوگئی!

علینا کتنی بڑی ہوگئی!
علینا کتنی بڑی ہوگئی!

  

علینا کتنی بڑی ہوگئی؟ وہ ابھی بات نہیں کر سکتی، لیکن اسے جب سب سوال کرتے ہیں تو وہ دونوں ہاتھ اوپر اٹھا کر اپنے انداز میں بتا دیتی ہے کہ اتنی بڑی ہوگئی ہے۔ علینا ماشاءاللہ30 دسمبر کو ایک سال کی ہو گئی۔ فارسی زبان کے اس لفظ کا مطلب شہزادی ہے جو واقعتاً میری منجھلی بیٹی شاہ رخ کے گھر کی شہزادی ہے.... مَیں سارے موضوعات چھوڑ کر آج اس کا تذکرہ اس لئے کرنا چاہتا ہوں کہ وہ میری تیسری نسل کی پہلی نمائندہ ہے۔ اگرچہ میری سب سے بڑی بیٹی کنول کے ہاں اس کے چند ماہ بعد ”منت“ کی صورت میں بھی ایک بیٹی کی آمد ہوئی جو ہمیں برابر کی عزیز ہے، جس کا ذکر پھر کبھی کریں گے۔ علینا اتنی بڑی ہوگئی، اس کا یقین کیسے کر لیں، ہمیں تو ابھی تک یہ یقین نہیں آیا کہ اس کی ماں شاہ رخ بھی اتنی بڑی ہوگئی ہے۔ میرے لئے یہ بہت فخر کی بات ہے کہ وہ اس وقت گرین بیلٹ میں واقع ناسا کے دفتر میں سافٹ ویئر انجینئر ہے، بلکہ اس کے تعارف کے باعث میری سب سے چھوٹی بیٹی بسما اپنی کیمیکل انجینئرنگ کی پڑھائی کے ساتھ ساتھ ناسا میں ”سٹیٹ انجینئر“ کا جز وقتی جاب بھی کر رہی ہے۔

مجھے اچھی طرح یاد ہے، جب کسی اور سکول سے پرائمری کرنے کے بعد شاہ رخ کو چھٹی جماعت میں ہم نے پہلے لاہور گرائمر سکول گلبرگ میں داخل کرایا تھا تو وہ خوش ہونے کی بجائے پڑھائی کا معیار دیکھ کر پریشان ہوگئی کہ شاید وہ وہاں نہ چل سکے اور اسے اتنی معیاری انگلش بولنا اور لکھنا نہ آسکے۔ اس نے ٹیوشن کبھی نہیں پڑھی، لیکن اس نے اس نئے چیلنج کو قبول کیا اور اپنی والدہ کی نگرانی اور دلچسپی کے باعث کمالات دکھانے شروع کر دئیے۔ شاہ رخ اپنے سکول میگزین کے اردو سیکشن کی ایڈیٹر بنی اور دیکھتے ہی دیکھتے طالبات کے اس مختصر سے گروپ میں شامل ہوگئی ، جن سے ان کی ٹیچرز کو ملک بھر میں نمایاں پوزیشن لینے کی توقع تھی۔ مجھے یاد ہے کہ اس کی اپنی لائق فائق سہیلیوں سحر بشیر، رما اور صالحہ سے دوستی بھی بہت تھی اور ساتھ مقابلہ بھی تھا۔ ان سب نے اولیول اور پھر اے لیول میں ریکارڈ اے پلس لے کر ملکی سطح پر نمایاں پوزیشن حاصل کی۔ صالحہ ذہین ہونے کے ساتھ محنتی بھی بہت تھی اور ہمیشہ ایک آدھ نمبر سے شاہ رخ پر سبقت لے جاتی تھی۔ بعد میں شاہ رخ لمز میں بی ایس سی کے لئے داخل ہوئی تو وہاں صالحہ سے دوستی مزید پکی ہوگئی ۔

اس دوران ہماری فیملی نے امریکہ امیگریشن کا پروگرام بنایا۔ شاہ رخ لمز کے ہوسٹل میں رہ رہی تھی۔ چھٹیوں میں ہم امریکہ آگئے۔ چھٹیاں ختم ہوئیں تو شاہ رخ کی ضد کے باعث ہم پھر پاکستان آگئے کہ وہ اپنی یونیورسٹی کو چھوڑنے کے لئے تیار نہیں تھیں۔ شاہ رخ کے اٹک جانے کے باعث ہمارا امریکہ آنا جانا رہا اور ہم یہاں مستقل نہ رہ سکے۔ پھر ایک دن اس کی کسی کلاس فیلو نے اسے سمجھایا کہ سٹوڈنٹس تو امریکہ میں پڑھائی کے لئے ترستے ہیں اور تم ہو کہ سارے رستے کھلے ہونے کے باوجود ادھر لاہور میں پڑھ رہی ہو، شاہ رخ مان گئی اور اس نے اپنی بی ایس سی کے بقایا دو سال امریکہ آکر ”یونیورسٹی آف میری لینڈ بالٹی مور کاو¿نٹی“ میں مکمل کر لئے اور یہاں سے کمپیوٹر سائنس میں بیچلر کی ڈگری حاصل کر لی۔ پھر شادی ہوئی تو مزید پڑھائی کا سلسلہ ایک بار رُک گیا، لیکن اب اپنے جاب کے ساتھ ایم ایس سی انفارمیشن ٹیکنالوجی کر رہی ہے جو بہت جلد مکمل ہو جائے گی، بلکہ اس کا میاں بھی ”یونیورسٹی آف میری لینڈ کالج پارک“ میں اسی کلاس میں اس کے ساتھ ہے۔

علینا کا باپ ایک گورا امریکن ہے۔ رائن کا ہم نے اسلامی نام ریحان رکھا، لیکن پھر بھی اسے ہم رائن ہی پکارتے ہیں۔ رائن کہنے کو امریکن ہے، لیکن سچ پوچھئے تو وہ مشرقی روایات کا نمونہ ہے۔ اتنا شریف، خوش اخلاق، بامروت اور سب سے بڑھ کر یہ کہ انتہائی ذہین اور محنتی۔ امریکہ میں جو مشاغل عام ہیں،ا ن کے قریب تک نہیں گیا، حتیٰ کہ سگریٹ کو بھی کبھی ہاتھ نہیں لگایا۔ اپنے گھر، فیملی اور جاب کے بعد اپنے ہی جیسے دو چار دوستوں کے علاوہ اسے سپورٹس سے دلچسپی ہے۔ رائن کا باپ پیشے کے اعتبار سے مکینیکل انجینئر ہے جو حال ہی میں میری لینڈ یونیورسٹی سے ڈائریکٹر ایڈمن کے طور پر ریٹائرڈ ہوا ہے۔ اس نے یونیورسٹی میں شاہ رخ کو دیکھا اور اس سے اتنا متاثر ہوا کہ اپنے بیٹے کو ساتھ لے کر شاہ رخ کی والدہ کے پاس جا کر شاہ رخ کا رشتہ مانگ لیا۔ ہماری سب سے بڑی بیٹی کنول کی شادی ہو چکی تھی اور ہمیں بھی شاہ رخ کے لئے رشتے کی تلاش تھی۔ میری بیگم کو رشتہ پسند آگیا، لیکن انہوں نے بتایا کہ آخری فیصلہ شاہ رخ کا باپ کرے گا۔ مَیں اس وقت پاکستان تھا۔ مجھے پیغام ملا اور مَیں جلدی سے امریکہ پہنچ گیا اور اپنی بیگم کے فیصلے کی تائید کر دی، پھر یونیورسٹی سے فارغ ہوتے ہی ہم نے شادی کر دی۔

علینا میں قدرتی طور پر اپنے ماں، باپ دونوں کے نقوش کی جھلک پائی جاتی ہے۔ مجھے یقین ہے کہ وہ اپنی عادتیں بھی اپنے ماں، باپ جیسی پائے گی۔ علینا کے ساتھ میرا مذاق یہ ہے کہ جب بھی مَیں اسے ملتا ہوں، اسے چڑیا دکھانے کے لئے باہر جانے کو کہتا ہوں۔ وہ ایک خاص مسکراہٹ کے ساتھ اُمڈ کر میرے پاس آ جاتی ہے۔ مَیں اسے باہر درخت، پودے، پھول اور پتے دکھاتا ہوں۔ وہ تتلیوں کو دیکھ کر تالی بجاتی ہے اور درختوں پر چڑیا دیکھ کر خوش ہوتی ہے۔ علینا ماشاءاللہ ایک بڑے گھر میں رہتی ہے۔ اس کی بیسمنٹ سے لے کر اوپر کی دونوں منزلوں میں آسائش کی ایسی ہر چیز موجود ہے، جس کا سوچا جا سکتا ہے۔ پورے گھر میں جگہ جگہ کھلونے اور اس کی ضرورت کی اشیاءبکھری ہیں کہ کسی جگہ پر بھی اس کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ اس کا اپنا الگ کمرہ ہے جس کو کیمرے کے ذریعے اس کے والدین اپنے بیڈ روم میں مانیٹر کرتے ہیں، جہاں اس کے کھلونوں اور کپڑوں کی بھر مارہے۔ علینا کے ماں باپ کے علاوہ ننھیال اوردودھیال دونوں طرف کے خاندان اس پر فریفتہ ہیں۔ علینا کی گورننس اسے سنبھالنے میں شاہ رخ کی مدد کرتی ہے۔ علینا صرف گھٹنوں کے بل چل لیتی ہے اور ابھی پوری طرح چلنا نہیں سیکھا، لیکن پورے گھر میں تبدیلیاں کی جا رہی ہیں کہ جب وہ چلنے لگے گی تو اس کی پوری حفاظت رہے۔

رائن کے ڈیڈی انجینئر ہیں اور یونیورسٹی میں ڈائریکٹر تھے، لیکن ان کا اپنے بچوں کے لئے کوئی نخرہ نہیں ہے۔ وہ ہفتے میں ایک دن اپنی گاڑی پر گھاس کاٹنے والی مشین لے کر آتے ہیں اور گھر کے اگلے اور پچھلے لان کی مکمل صفائی کر دیتے ہیں۔ اتنا پسینہ نکالنے کا کام کرنے کی وجہ سے وہ اس روز گھر کے اندر نہیں جاتے۔ ان کے پاس پانی وغیرہ کا بندوبست ہوتا ہے اور وہ کام کر کے باہر سے ہی واپس چلے جاتے ہیں۔ علینا کے پاس اتنے کھلونے ہیں ، لیکن اسے کھلونوں سے زیادہ باہر کے مناظر زیادہ بھلے لگتے ہیں۔ نیک فطرت لوگوں کو فطرت کے اصل رنگ زیادہ لبھاتے ہیں۔ میرا گمان ہے کہ علینا بھی اپنے ماں باپ جیسی فطرت پائے گی۔ میری دعا ہے کہ اس کا جسمانی قد جتنا بڑھے، اس کی سیرت کا قد اس سے کہیں زیادہ بڑھے....اس لحاظ سے بھی علینا پورے فخر کے ساتھ دونوں ہاتھ کھڑے کر لے اور سب لوگ یہ کہنے پر مجبور ہو جائیں کہ علینا کتنی بڑی ہوگئی۔ ٭

مزید : کالم