اگلے وقتوں کے ہیں ہم لوگ....!

اگلے وقتوں کے ہیں ہم لوگ....!
اگلے وقتوں کے ہیں ہم لوگ....!

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

”اوئے حمزہ! تم ہر وقت موبائل کو لے کر ہی نہ بیٹھے رہا کرو، کبھی پڑھ بھی لیا کرو۔.... ہمیں تو دسمبر کی چھٹیاں ہوتی تھیں تو سکول ٹیچر اتنا ہوم ورک دے دیا کرتے تھے کہ ہم کو پڑھنے لکھنے سے فرصت ہی نہیں ملا کرتی تھی۔“ .... مَیں نے اپنے نواسے کو ڈانٹ کے انداز میں کہا جو کلاس چہارم کا طالب علم ہے۔

”نانا ابو! آپ دیکھ نہیں رہے کہ مَیں پڑھ ہی تو رہا ہوں اور کیا کر رہا ہوں؟“ ننھے حمزہ نے موبائل پر سے ایک لمحے کے لئے آنکھیں اٹھائیں اور پھر اپنے کام میں مشغول ہو گیا۔ اس کی بڑی بہن اُونا جو کلاس ششم کی طالبہ ہے اس نے اپنے بھائی کو تنبیہ کرتے ہوئے تیکھی نظروں سے گھورا اور بولی:”بے و قوف! بزرگوں کا ادب کیا کرتے ہیں ۔“.... اس کا فقرہ یہ تھا:

Stupid! Must you respect elders.

مَیں اپنے آپ کو اس لحاظ سے بھی خوش قسمت سمجھتا ہوں کہ میرے بچے چھوٹی بڑی تعطیلات میں میرے ہاں اکٹھے ہو جاتے ہیں اور مجھے تنہائی کا احساس نہیں ہونے دیتے۔ کوئی بیرون ملک سے آتا ہے تو کوئی پاکستان کے دُور دراز حصے میں واقع کسی چھاﺅنی سے لاہور کا رُخ کرتا ہے۔ الحمد للہ!

اپنی بڑی بہن کی ڈانٹ سن کر حمزہ نے موبائل بند کر دیا اور مسکراتے ہوئے مجھ سے مخاطب ہوا:” نانا ابو! میرے ہاتھ میں جو موبائل ہے ناں، وہ دراصل ٹیبلٹ (Tablet) بھی ہے اور اس میں میرے سکول کی ای بُکس (E.Books) فیڈ ہیں ۔ مَیں انہیں ہی تو پڑھ رہا تھا .... آپ یہ دیکھیں....“

اس نے میری طرف جو ”موبائل“ بڑھایا تو مَیں نے اسے آن کر کے دیکھا۔ واقعی اس میں کسی فزیکل جیوگرافی کا کوئی باب کھلا ہوا تھا۔ مجھے یہ تو معلوم تھا کہ الیکٹرانک کتابیں بھی مارکیٹ میں آ چکی ہیں ، لیکن یہ خبر نہ تھی کہ سکول کے طلباءبھی اب بھاری بھر کم سکول بیگوں (School Bags) سے بے نیاز ہوتے جا رہے ہیں ۔

اتنے میں حمزہ کے والدین بھی کمرے میں آ گئے اور ہم نے ”ای بُکس“ کے موضوع پر بحث شروع کر دی۔

 آج کل امریکہ اور یورپ کے بہت سے سکولوں میں اس جدید ترین ٹیکنالوجی کو تدریس کے ایک وسیلے کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ اس تناظر میں مجھے اپنے خادم اعلیٰ میاں شہباز شریف کی یاد آنے لگی جو ان دنوں تعلیمی اداروں میں مفت لیپ ٹاپ تقسیم کر رہے ہیں ۔ مَیںان کی مستقبل بینی کی داد دیتا ہوں کہ انہوںنے پاکستانی طلبا اور طالبات میں لیپ ٹاپ کلچر متعارف کروانے کا آغاز کیا ہے۔ اُن کے مخالفین، اُن کی اس ”مہم“ پر جتنی بھی نقطہ چینی کریں، عاقبت نا اندیشی کہلائے گی۔ آئندہ بلکہ موجودہ نسل کو لیپ ٹاپ سے دُور رکھنا ہماری بہت بڑی غلطی ہو گی۔ مَیں دیکھ رہا ہوں کہ ہمارا آئندہ کا کوئی بھی وزیراعلیٰ یا وزیراعظم، میاں شہباز شریف کی اس روش کی تقلید نہ کر سکا تو یہ نژادِ نو سے سخت ناانصافی ہو گی۔ اگر ہماری مستقبل کی حکومتیں اس کلچر سے آشنائی کو فروغ نہیں دیں گی تو پاکستان بہت پیچھے رہ جائے گا۔ آج الیکٹرانکس اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کا دور ہے اور مغرب نے تو اس ٹیکنالوجی کو جس طرح سکولوں اور کالجوں میں استعمال کرنے کی روش اپنائی ہے، وہ حیران کن ہے۔

مغرب نے لیپ ٹاپ کو خیرباد کہنے کی بجائے اس کی تصغیر(Miniaturisation) کی طرف زیادہ توجہ دینی شروع کر دی ہے۔ اب لیپ ٹاپ کو چھوٹا کر کے نیٹ بُک(Net Book) اور پھر نیٹ بُک کو بھی مزید چھوٹا کر کے آئی پاڈ اور ٹیبلٹ یعنی موبائل کی شکل دے دیگئی ہے.... یہ موبائل اور Tebletاب پاکستان میں بھی عام ہیں ۔ آپ کی کوٹ کی جیب میں جو موبائل رکھا ہوا ہے، وہ ایک جہاں نما بھی ہے۔.... ہمارے شاعر صدیوں سے جام جم کی تمنا کرتے رہے ، لیکن مغرب کا کمال دیکھئے کہ اس نے آج ہر متوسط آمدنی والے شخص کی دسترس میں جامِ جم دے دیا ہے اور اسے کسی جمشید یا فریدوں تک مخصوص اور محدود نہیں رکھا۔.... جو کچھ جمشید کو اپنے جامِ جم میں نظر آتا تھا وہ آج ہر آدمی کو اپنے ”ایپل“ یا ” ایمزان“ میں نظر آتا ہے، بلکہ کچھ زیادہ ہی نظر آتا ہے.... میرے خیال میں مستقبل قریب میں پاکستان میں بھی ”الیکٹرانک بُکس“ کا سیلاب آنے والا ہے۔

امریکہ میں الیکٹرانک بکس کو پڑھنے کے رجحان اور اس کی شرح میں گزشتہ چند برسوں کے دوران حیرت انگیز اضافہ ہو رہا ہے۔ مطبوعہ کتب کے ناشر، فکر مند ہیں اور بڑے بڑے پبلشنگ ہاﺅس دیوالیہ ہونے کی طرف ” محوسفر“ ہیں۔ امریکہ کا ایک بڑا طباعتی ادارہ ”بورڈر“ دیوالیہ ہو چکا ہے.... جب لوگ ایک کلو وزن کی مطبوعہ کتاب کو دو چھٹانک (10گرام) کی ڈیجیٹل Tablet میں محفوظ کر کے جیپ میں ڈالنے کی آسانی دیکھیں گے تو سوچئے کہ وہ کس طرف جائیں گے؟.... اور پھر آپ کے موبائل میں نہ صرف ٹیلی فون وغیرہ ہے بلکہ بے شمار کتابیں بھی موجود ہیں اور علاوہ ازیں بے شمار رسائل اور بے شمار معلومات!.... آج ہر کھاتے پیتے گھرانے میں ہر فرد کے پاس ایک جدید موبائل (مثلاً گلیکسی اور ایپل وغیرہ) موجود ہے جو ایک منی(Mini) لیپ ٹاپ بھی ہے!

امریکہ اور یورپ میں جس طرح تھنک ٹینکوں کی فوجِ ظفر موج موجود ہے، اسی طرح ر یسرچ سینٹروں کی بھی پوری ایک کھیپ جو بن پر آئی ہوئی ہے۔ یہ سنٹر اپنی آبادیوں کا سروے کر کے وقتاً فوقتاً اپنی تحقیقات کے نتائج شائع کرتے رہتے ہیں ۔ امریکہ کا اسی طرح کا ایک تحقیقی سنٹر Pew Research Center کے نام سے کام کر رہا ہے۔ اس کے ایک حالیہ سروے کے مطابق امریکہ میں کتب بینی کی صدیوں پرانی روایت دم توڑ رہی ہے۔ 2011ءمیں ای بُکس سے استفادہ کرنے والی امریکی آبادی کی شرح16فیصد تھی جو 2012ءمیں بڑھ کر 23فیصد ہو چکی ہے اور2013ءمیں اس کے40فیصد، بلکہ اس سے بھی آگے جانے کی پیشگوئی کی جا رہی ہے۔ دوسرے لفظوں میں لوگ آئندہ کتابیں خریدنے بُک سٹالوں پر نہیں جایا کریں گے، بلکہ Tabletsخریدنے کے لئے الیکٹرانکس کی دکانوں کا رُخ کیا کریں گے۔.... اسی سروے کے مطابق آج امریکہ کی کل آبادی کے ایک تہائی حصے کے پاس ایسی Tablets موجود ہیں جن پر ”ای بُکس“ کا مطالعہ کیا جا سکتا ہے۔ بُک سٹالوں پر مطبوعہ کتب کی فروخت میں نمایاں کمی ہوتی جا رہی ہے جبکہ موبائل یا ٹیبلٹس فروخت کرنے والی دکانیں بہت اچھا بزنس کر رہی ہیں ۔

پاکستان میں ایک طویل عرصے سے مطبوعہ کتب کی قیمتیں اتنی بڑھ چکی ہیں کہ ایک عام آدمی کی قوتِ خرید سے باہر ہیں ( ایک عام پاکستانی کی قوتِ خرید ویسے بھی کیا ہے؟) 500صفحے کی کتاب800روپے میں فروخت کی جا رہی ہے۔ مَیں اس موضوع کی اقتصادیات میں نہیں جاﺅں گا کہ ناشر، مصنف اور خریدار کی تکون کی اپنی اپنی وجوہات اور تاویلات ہیں اور اپنے اپنے استدلال ہیں ۔.... لیکن آئندہ چند برسوں میں لگتا ہے مطبوعہ کتابوں کی سیل نہایت ہی محدود ہو جائے گی اور ناشرانِ کتب ” آنہ والی“ جگہ پر آ جائیں گے۔ .... ذرا یاد کیجئے زیادہ عرصہ نہیں گزرا جب ہمارے ہاں وی سی آروں(VCRs) کے مینا بازار لگے رہتے تھے۔ لوگ دھڑا دھڑا وی سی آر خرید کر دس بیس روپے میں اپنی پسند کی فلمیں دیکھ لیا کرتے تھے۔.... پھر ایک دم وی سی آر کی سیل بند ہو گئی ، اس کی جگہ ڈی وی ڈی(DVD) نے لے لی۔....1985ءمیں، مَیں نے نیشنل کا جو ”جدید ترین“ وی سی آر14000میں خریدا تھا، وہ کئی برسوں سے بیکار پڑا ہے اور مارکیٹ میں کوئی اسے40 روپے میں بھی لینے کو تیار نہیں۔ اس کی جگہ DVD آ چکے ہیں اور ان کے بھی دن گنے جانے والے ہیں .... اب آپ کی چھنگلی کے سائز میں ایکUSB آ رہی ہے جس پر درجنوں فلمیں اور ہزاروں فلمی گانے دیکھے اور سنے جا سکتے ہیں ۔ آپ لاہور سے موٹروے پر چڑھیں اور گاڑی میں وہ USB لگا دیں تو اگر سات بار بھی مسلسل لاہور اسلام آباد کے چکر لگاتے رہیں گے تو پھر بھی اس Pin Drive میں سینکڑوں گیت اور فلمیں ایسی باقی بچ جائیں گی جو نادیدہ اور ناشنیدہ رہیں گی۔

ہم اس موضوع پر تادیر بحث مباحثہ کرتے رہے .... تاہم میری بیٹی اور داماد نے ان جدید آسانیوں میں پوشیدہ چند جدید مشکلات کا بھی ذکر کیا۔.... مثلاً یہ کہ کوئی Tablet مستقبل میں مطبوعہ کتاب کی جگہ اس لئے نہیں لے سکے گی کہ ایک تو اس چھوٹے سے آلے میں صفحے کا سائز وہ نہیں ہوتا جو کتاب کا ہوتا ہے اور اگرچہ بعض ایسے آلات بھی اب مارکیٹ میں آ چکے ہیں جو ان Tablets کے ساتھ جوڑ کر(Plug in)ان کا سائز بڑا کر دیتے ہیں ، پھر بھی قاری کی آنکھوں پر بہت بوجھ پڑتا ہے۔ جہاں کتاب کے100صفحات پڑھ کر بھی آپ نہیں تھکتے وہاں ان آلات پر 15،20 صفحات پڑھنے کے بعد آنکھیں تھک جاتی ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ امریکی سکولوں کے طالب علموں میں نظر کی عینکوں والے طلباءاور طالبات کی تعداد روز بروز بڑھ رہی ہے۔

”فریق ِ مخالف“ کا ایک استد لال (Argument) یہ بھی تھا کہ الیکٹرانک آلات کو جب آپ آن کرتے ہیں تو آپ مقناطیسی فیلڈ کے حصار میں گھر جاتے ہیں اور زیادہ دیر تک اگر آپ اس حصار میں محصور رہیں گے تو اس کے مضر اثرات سے نہیں بچ سکیں گے.... زیادہ نزدیک بیٹھ کر ٹیلی ویژن دیکھنے والوں کی آنکھیں اسی لئے جلد خراب ہو جاتی ہیں .... اور چونکہ اس قسم کی Tablets کو نزدیک رکھ کر ہی کتب بینی کی جا سکتی ہے، اس لئے بینائی کے متاثر ہونے کا خطرہ یقینی ہوتا ہے!

مَیں نے بحث کے آخر میں یہ ”فیصلہ“ صادر کیا کہ اس سیلاب بلا خیر کو روکا نہیں جا سکتا.... یہ پاکستان میں آ کر رہے گا۔ نسل ِ نو کی بینائی کمزور ہونے کی دوسری بہت سی وجوہات بھی ہیں اور اگر انTablets وغیرہ کا استعمال ” طریقے سلیقے“ سے(Judicously) کیا جائے تو گھبرانے کی ضرورت نہیں.... ہمیں طرزِ کہن پر اڑنے کا کلچر ختم کرنا ہو گا! ٭

مزید : کالم