موت کی فکر........!

موت کی فکر........!
موت کی فکر........!

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

ڈاکٹرطاہر القادری نے مینار پاکستان پر جلسہ کے بعد جو اڑان بھری ہے تو وہ اب نیچے ہی نہیں آ رہے۔ہم سوچ رہے ہیں کہ لاہور اور کراچی کے جلسہ کے بعد ان کا انداز فکر اور انداز بیان ہی بدل گیا ہے یا پھر میڈیا والوں کو غلط فہمی ہوئی اور ان کا بیان”سیاق و سباق“ سے ہٹ کر شائع ہوگیا،لیکن یہ تاثر بھی درست نہیں کہ آج کا دور الیکٹرانک میڈیا کا بھی ہے جو تصویر کے ساتھ بیان نشر کرتا ہے۔اس لئے غلط فہمی کا تو سوال نہیں۔یہ الفاظ شیخ الاسلام ہی کے منہ سے ادا ہوئے ہیں۔وہ کہتے ہیں ”لانگ مارچ سے پہلے نگران حکومت آئی تو اسے اٹھا کر پھینک دیں گے“۔یہ وہ علامہ طاہر القادری تو نہیں ہیں ،جن کوہم جانتے ہیں، یہ تو کوئی اور ہی شخصیت بول رہی ہے یا پھر ڈاکٹر صاحب کے پردے میں....بول رہا ہے۔اب تو وہ بات ہی سننے کو تیار نہیں ۔کہتے ہیں، بات چیت کے دروازے بندنہیں کئے جاتے، میں صدر اور وزیراعظم کو ملنے کے لئے تیار ہوں لیکن جس کوبات کرنا ہے اسے لاہور آنا ہوگا۔دوسرے معنوں میں ماڈل ٹاﺅن حاضری دینا ہوگی۔یہی تو کہا ہے محترم الطاف حسین نے عبدالرحمن ملک کو کہ انہوں نے بات کرنا ہے تو ماڈل ٹاﺅن جا کرطاہر القادری سے بات کریں۔

ڈاکٹرطاہر القادری گزشتہ کئی برسوں سے کینیڈا میں مقیم تھے اور انہوں نے پاکستان آنا ہی چھوڑ رکھا تھا،حتیٰ کہ رمضان المبارک میں شہر اعتکاف اور ربیع الاول میں مینار پاکستان پر عید میلاد النبی کی تقریب سے بھی ویڈیو خطاب کرتے تھے، لیکن یکایک یہاں تشہیر شروع ہوئی۔ ”سیاست نہیں ریاست بچاﺅ“ اور پھر انہوں نے واپسی کا اعلان کردیا۔ایسے آئے کہ ہم سب دیکھتے ہی رہ گئے اور انہوں نے 23دسمبر کومینار پاکستان پر ایک بڑا جلسہ کرکے حکمرانوں کو الٹی میٹم بھی دے دیا ،بات یہیں تک نہ رکی، اب وہ ہر کام ہربات اپنی مرضی کی چاہتے ہیں اور ان کا اندازبیاں بھی بدل کر ایسا ہوگیا ہے کہ اسے اب متکبرانہ ہی کہنا پڑے گا اور وہ خود ہم عامیوں سے کہیں بہت زیادہ جانتے ہیں کہ اللہ ....پسند نہیں فرماتے۔

اسلام آباد میں ایک بہت معتبر اور دین دار صحافی ہیں۔ہمیں ان سے کئی باتوں پر اختلاف ہے اور ان کے آج کے کالم سے بھی ہم بصدادب ایسا کرنے پر مجبور تو ہیں لیکن کیا کریں یہ ایک دین دار سے دین دار کا مکالمہ ہے۔ وہ دونوں جانیں۔ہم اس جھگڑے میں نہیں پڑتے، البتہ ایک بات ہمیں بھی کھٹکتی ہے۔ڈاکٹر طاہرالقادری نے اپنی سیکیورٹی کی بات کی ہے حالانکہ وہ اس کے لئے کسی حکومت یا انتظامیہ کے محتاج نہیں۔انہوں نے تو خود اپنی سیکیورٹی کا انتظام کررکھا ہے۔جہاں جاتے ہیں ان کے سیکیورٹی والے ان کے ساتھ ہوتے ہیں۔گھر پر بھی معقول انتظام ہے۔اس سے یاد آیا کہ ایم بلاک ماڈل ٹاﺅن میں ہمارے ایک ملنے والے رہتے ہیں۔ان کو میڈیا والوں سے بہت شکوہ ہے اور وہ ہمارے لئے سخت زبان بھی استعمال کرلیتے ہیں۔ہم نے ان کی ناراضی کا سبب پوچھا تو انہوں نے ہمیں ڈانٹ دیا اور کہا یا تو تمہیں صحےح طرح نظر نہیں آتا یا پھر تم بھی ان حضرات میں شامل ہوجو منہاج القران سیکرٹریٹ میں مرغ کھا کر ڈکار مارتے ہیں۔بڑی منت کے بعد سبب پوچھا تو وہ بولے :”میڈیا کے لوگ روزانہ منہاج القرآن سیکرٹریٹ آتے ہیں، کیا ان کو اس کے اردگرد رہنے والوں کی حالت پر ترس نہیں آتا۔منہاج القرآن سیکرٹریٹ والوں نے رکاوٹیں اورلوہے کے جنگلے اور پلر لگا کر اردگرد کی تمام سڑکیں بند کررکھی ہیں۔سیکرٹریٹ کے ساتھ والے تو ان کے رحم و کرم پر ہیں کہ آنے جانے کے لئے ان کو لوہے کے لمبے لمبے پائپ اٹھوا کر گزرنا پڑتا ہے، جبکہ دوسرے بلاک والوں کو چکر لگا کر آنا جانا پڑتا ہے۔ہم نے بڑی مشکل سے یہ کہہ کر جان چھڑائی کہ آج کل ہم رپورٹنگ میں نہیں، اس لئے آنا جانا نہیں ہوتا،یہ الگ بات ہے کہ جس روز ہمیں ویڈیو کانفرنس میں مدعو کیا گیا تو ہم بھی ایک لمبا چکر کاٹ کر ہی مرکزی دروازے تک پہنچ سکے تھے۔

شیخ الاسلام ڈاکٹر طاہر القادری کے بارے میں ایک بات کہی جاتی ہے کہ انہوں نے خود اپنی عمر کے بارے میں پیش گوئی کررکھی ہے کہ ان کی عمر حضور کی عمر مبارک سے کم ہوگی اور ڈاکٹر طاہر القادری سے منسوب ہے کہ یہ بات انہوں نے خود فرمائی۔اس کا زندہ ثبوت وہ مقبرہ ہے جس کی اب تزئین بھی ہو چکی اور یہ مقبرہ منہاج القران سیکرٹریٹ کے مرکزی دروازے کے داہنی جانب ہے ،جس کی ہر روز صفائی بھی ہوتی ہے۔

یہ تو بہت اچھی بات ہے کہ انسان کو موت یاد رہے کہ آخر ایک روز تو اس کے حضور حاضر ہونا ہی ہے، لیکن تعجب یہ ہے کہ جب کسی کو یہ معلوم ہو کہ اسے موت اتنی عمر میں آئے گی تو پھر اسے اپنی سیکیورٹی کا اتنا ہی وہم اور دھیان کیوںہو،حضرت علیؓ فرماتے ہیں کہ موت خود زندگی کی حفاظت کرتی ہے ۔علامہ طاہر القادری عالم دین ہیں ان سے زیادہ اور کون جانے گا کہ موت کا ایک دن متعین ہے، اس لئے نیند رات بھر کیوں نہیں آتی والی بات نہیں ہونا چاہیے۔ہر مسلمان جب یہ کہتا ہے کہ جو رات قبر میں آنا ہے وہ باہر نہیں آ سکتی تو عمومی توجہ کے سوا اسے اور کیا کرنا چاہیے۔پھر یہ پختہ اعتقاد والے لوگ اتنے سخت حفاظتی حصار میں کیوں رہتے ہیں، ہماری سمجھ سے تو باہر ہے۔ یہ جو ہمارے رہنما ہمارے غم میں گھلے جارہے ہیں، ان کے نزدیک ہماری زندگیاں تو زندگیاں نہیں،ان کی جان بہت عزیز ہے اور ان کے سیکیورٹی والے فرشتہ اجل کو روک لیں گے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ اس مرتبہ ڈاکٹر طاہر القادری بڑے دھوم دھڑکے سے آئے اور کھڑاک پر کھڑاک کئے جارہے ہیں، اس سے وہ حاصل کیا کرنا چاہتے ہیں یہ ابھی تک ظاہر نہیں ہوا، ہم ان سے دیرینہ واقفیت رکھتے اور کسی حد تک بے تکلفی کے بھی دعویدار ہیں۔ہم ان کے تھوڑے سے مزاج آشنا یوں بھی ہیں کہ کئی اہم واقعات ہمارے زمانہ رپورٹنگ میں ہمارے سامنے پیش آ چکے ہیں، ان میں ایک قصہ جی ڈی اے کا بھی ہے۔ہمارے بابائے جمہوریت نوابزادہ نصراللہ خان اے آر ڈی سے بھی بڑا اتحاد بنانے جارہے تھے۔انہوں نے محترمہ بے نظیربھٹو کو آمادہ کرلیا کہ ڈاکٹر طاہر القادری کی پاکستان عوامی تحریک کو بھی ساتھ ملایا جائے۔محترمہ نے نوابزادہ نصراللہ کی بات مانی اور کہا کہ قادری صاحب کو اے آر ڈی میں شامل کرلیں۔نوابزادہ نصراللہ نے مذاکرات کئے تو ڈاکٹر طاہر القادری نے اپنی شرائط پیش کیں۔ اتحاد کا نام تبدیل کرنے کی بات ہوئی مان لی گئی پھر سربراہی کا مسئلہ آیا تو بات بگڑتی نظر آئی۔نوابزادہ نصراللہ پیچھے ہٹنے والوں میں سے نہیں انہوں نے بے نظےربھٹو کی طرف سے اپنے احترام کا فائدہ اٹھایا اور وعدہ کرلیا۔ڈاکٹر اپنی پاکستان عوامی تحریک کے ساتھ آ گئے۔ اے آر ڈی کی جگہ جی ڈی اے (گرینڈ ڈیمو کریٹک الائنس) بن گیا۔اب مسئلہ سربراہی کا تھا اس وقت نوابزادہ نصراللہ کے پاس سربراہی بطور کنوینر تھی اور طے یہ تھا کہ بار ی باری سب سربراہوں کو یہ اعزاز حاصل ہوگا۔اگلا اجلاس منہاج القرآن میں ہوا، اخبار نویس بھائی قیاس آرائیاں ہی کرتے رہے۔محترمہ کو خود اس اجلاس میں شریک ہونا پڑا جہاں اچانک نوابزادہ نصراللہ نے جی ڈی اے کی سربراہی کا تاج ڈاکٹر طاہر القادری کے سر پر رکھ دیا۔محترمہ جِزبز ہوکر رہ گئیں اور شیخ الاسلام جی ڈی اے کے سربراہ بن گئے یہ الگ بات ہے کہ تھوڑے عرصہ بعد وہ مستعفی ہوگئے تھے۔تو معززقارئین! آپ ہمیں کیوں مجبور کرتے ہیں کہ ہم آپ کے سوال اپنے کالم کے ذریعے ان تک پہنچائیں۔براہ کرم آپ براہ راست ٹیلی فون، ایس ایم ایس یا پھر منہاج القرآن کی ویب سائٹ پر ان سے مخاطب ہو لیں و ماعلینا.... ٭

مزید : کالم