وقت کو تھامئے

وقت کو تھامئے
وقت کو تھامئے

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

قومی اسمبلی اپنی آئینی مدت ختم کرنے کو ہے جس کے بعد انتخابات کی تاریخ کا اعلان ہونا ہے ،لیکن وفاقی حکومت کی مخالف تمام قوتوں نے انتخابات کی تاریخ کا مطالبہ شروع کر دیا ہے۔ برسر اقتدار کہتے ہیں کہ ....اگلی باری پھر زرداری.... مخالفین کہتے ہیں کہ اب ہماری باری.... جمہوریت جہاں بھی نافذ ہے، وہاں انتخابات ہی تبدیلی کا ذر یعہ ہوتے ہیں۔ انتخابات میں حصہ لینے والی جماعتیں اپنے اپنے پروگرام سے ووٹروں کا آگاہ کرتی ہیں تاکہ لوگ انہیں ووٹ دے کر منتخب کریں اور وہ انداز حکمرانی میں تبدیلی لا سکیں۔ پاکستان میں ایسا لگ رہا ہے کہ پروگرام اور منشور کی وہی پرانی کتابیں ہیں اور سیاسی جماعتوں اور قوتوں کو ادراک ہی نہیں ہے کہ پاکستان کے عوام کس طرح کی حکومت چاہتے ہیں اور وہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے کیا توقعات رکھتے ہیں؟.... عوام کی اکثریت کا یہ مسئلہ ہی نہیں ہے کہ سربراہ مملکت کون ہے، حکومت کا سربراہ کون ہے اور وزرائے اعلیٰ کون ہیں؟

 ایک بہت ہی محدود گروہ کو تو یہ فکر کھا سکتی ہے کہ ان بڑے عہدوں پر کون براجمان ہیں، لیکن اکثریت اس سے اس لئے لا تعلق رہتی ہے کہ انہیں تو ایک محدود دائرے میں رہتے ہوئے اپنی زندگی گزارنا ہوتی ہے ۔ وہ اس بات کی فکر میں رہتے ہیں کہ امن و امان قائم ہو، ان کے لئے مواقع موجود ہوں، انہیں بر وقت انصاف مل رہا ہو،انہیں کوئی انفرادی اور اجتماعی مسئلہ درپیش ہو تو وہ اسے حل کراسکیں اور کوئی ان کی بات سننے اورسمجھنے والا ہو.... انہیں اس سے کوئی غرض نہیں کہ صدر آصف علی زرداری ہیں یا کوئی اور، حکومت میں نواز شریف ہیں یا کوئی اور.... دینی جماعتیں اقتدار میں ہیں یا سیکولر جماعتیں ملک پر حکمرانی کر رہی ہیں۔ عام لوگ نظام حکومت کے بارے میں بھی متفکر نہیں ہیںکہ آپ صدارتی نظام رکھتے ہیں یا پارلیمانی نظام، آپ فرد واحد کی حکمرانی کر رہے ہیں یا کسی مشاورت سے حکمرانی کر رہے ہیں؟ پاکستان میں پینسٹھ سال کی تاریخ میں لوگوں نے کئی نظام دیکھے ہیں اور بہت دکھ جھیلے ہیں۔ وقت گزارنے اور تفریح طبع کے لئے یہ بحث ٹھیک ہے کہ پاکستان میں ایک بار پھر کسی نئے نظام کا تجربہ کیا جائے ۔ سوال یہ ہے کہ عوام الناس کو سوائے انتظار کے کیا ملے گا؟

پاکستان کے حکمرانوں نے شہروں کی گلیوں میں پیدل چل کر دیکھنا بھی گوارا ہی نہیں کیا کہ لوگ کن مسائل سے دوچار ہیں، عام لوگوں کے مسائل کیا ہیں، انصاف کی فراہمی، ان کی زندگی اور ذات کا تحفظ، بہتر ذریعہ معاش اور مواقع، بوقت ضرورت ان کی مالی مدد، سر چھپانے کے لئے مکان، پانی، بجلی، گیس، علاج و معالجہ، تعلیم، آمد و رفت کی سہولت، نکاسی آب کا اطمینان بخش نظام عام لوگوں کی ضرورت ہے۔ کیا پاکستان میں یہ سہولتیں لوگوں کو میسر ہیں ؟ عام لوگ جن ہسپتالوں میں علاج کے لئے جاتے ہیں، وہاں تو اشرافیہ اپنے کتوں کا علاج کرانا بھی گوارہ نہیں کرتی۔ اکثریت کے بچے جن سکولوں میں تعلیم حاصل کرنے جاتے ہیں، وہاں تو اشرافیہ اپنے بچوں کو کھیلنے کے لئے بھی نہیں بھیجتی ۔ حکمران طبقے والوں نے تو عام لوگوں کے بچوں کے سکولوں میں اپنے جانوروں کے اصطبل بانئے ہوئے ہیں یا اپنے جانوروں کے چارے کا گودام بنایا ہوا ہے۔

ایک محدود، مخصوص اور مٹھی بھر عناصر کو وہ تمام سہولتیں حاصل ہیں جو کسی بھی معاشرے میں لوگوں کی ضرورت ہوتی ہیں ،لیکن ملک کی اکثریت ان سہولتوں سے ناآشنا ہے۔ منتخب نمائندے اور وزیر ملاقات نہیں کرتے، پولیس تھانے میں گھسنے نہیں دیتی، وکیل کی خدمات حاصل کرنے کے لئے اگر پیسہ نہیں ہے تو عدالت سے رجوع نہیں کیا جاسکتا، حکومتی مالیاتی ادارے بوقت ضرورت کوئی رقم فراہم کرنے پر تیار نہیں ہوتے۔ پیسہ نہیں ہے تو زندگی اس ملک میں ایک بوجھ محسوس ہوتی ہے.... لوگ طریقہ حکمرانی میں تبدیل چاہتے ہیں۔ چہروں کی تبدیلی سے وہ بےزار ہو گئے ہیں۔ مخصوص گھرانوں کے مخصوص لوگ، ان کی نمائندگی کا دعویٰ کرتے پارلیمنٹ اور اسمبلی میں پہنچ جاتے ہیں اور جن کی نمائندگی کا دعویٰ کیا جاتا ہے، وہ منہ دیکھتے رہ جاتے ہیں۔ اتنے سادہ لوگ بھی اس ملک میں بستے ہیں جو صدر اور وزیراعظم کی سواری دیکھ کر ایک دوسرے سے پوچھتے ہیں کہ کیا یہ بادشاہ ہے؟ انہیں نہیں معلوم کہ ان کے یہ نام نہاد نمائندے بادشاہ تو نہیں ہیں، لیکن بادشاہوں جیسے طور طریقے اور شاہانہ زندگی ضرور گزارتے ہیں۔

 اس کے بعد بھی کہا جاتا ہے کہ پا کستان میں التحریر سکرائر کی جگہ نہیں ہے۔ کسے معلوم تھا کہ انقلاب فرانس کے دوران گیلوٹین بھی ایجاد کیا جائے گا تاکہ کم سے کم اور ایک ہی وقت میں درجنوں گردنیں تن سے علیحدہ ہوسکیں ۔ التحریر سکوائر کے بارے میں تو مصر کے آمر مطلق حسنی مبارک نے بھی کبھی نہیں سوچا ہوگا کہ ہزاروں لوگ کسی چوک میں اس وقت تک دھرنا ڈالے رکھیں گے، جب تک وہ قصر صدارت خالی نہیں کردے گا....پھر ایسا ہی ہوا، دنیا نے دیکھا۔ قصر صدارت سے نکلنے والے صدر کو پنجرے میں عدالت کے سامنے پیش کیا گیا۔ لیبیا میں چالیس سال حکمرانی کرنے والے قذافی بھی محکوموں کو قائل نہ کر سکے کہ ان کے ملک کے ساتھ کیا ہو رہا ہے ؟ وہ اپنی زندگی بچانے کے لئے بھاگ رہے تھے ،لیکن عبرت ناک طریقے سے محکوموں کے ہاتھوں مارے گئے ۔ اس سے قبل ایران میں شہنشاہ کا بوریا بستر لپٹا تو وہ عالم پناہ کی بھیک مانگتا در در کی ٹھوکریں کھا تا رہا۔ یہ قانون قدرت ہے۔ مخلوق کو معتوب رکھنے والے لوگ کبھی نہ کبھی مٹی کے ڈھیر میں ضرور تبدیل ہوجاتے ہیں۔

یہ بحث اور دعویٰ وقت کا ضیاع ہیں کہ پاکستان میں التحریر سکوائر کی جگہ نہیں اور کہیں بھی نہیں بن سکتا، عرب سپرنگ نہیں آسکتا، تبدیلی تو صرف انتخابات کے ذریعے ہی آئے گی وغیرہ وغیرہ۔دنیا بھرمیں جب بھی محکوم غصے میں کھڑے ہوئے ہیں ، تو وہ قہر بن گئے ہیں۔پاکستان میں سیاست کرنے والوں کو اپنی اپنی جگہ سنجیدگی سے غور و فکر کرنا ہوگا کہ عوام اب کیا چاہتے ہیں؟.... کیا وہ انداز اورطریقہ حکمرانی سے مطمئن ہیں یا نہیں اور اگر مطمئن نہیں ہیں تو پھر کیا چاہتے ہیں اور ان کے اطمینان کے لئے کیا کیا اقدامات کرنے کی ضرورت ہوگی اور ان کے عدم اطمینان کے سد باب کے لئے کیا اسباب پیدا کرنا ہوں گے ؟ کیا عام لوگوں کو یہ یقین ہے کہ ان کی حکومت اور حکمرانوں کو ان کی فکر رہتی ہے ؟ مارچ کا مہینہ قومی اسمبلی کی آئینی مدت ختم ہونے کا مہینہ ہے ۔ ایسا نہ ہو کہ کوئی لانگ مارچ، کوئی شارٹ مارچ، کوئی لیفٹ رائٹ مارچ، کوئی چنگاری، کوئی گولی اس تماش گاہ میں بادشاہ نہ سہی، بادشاہوں جیسے کر و فر اور طور طریقے اختیار کرنے والوں کو ، لوگوں کی نمائندگی کو وراثت تصور کرنے والوں کو اور قومی و صوبائی اسمبلیوں کی نشستوں کو خاندانی وراثت سمجھنے والوں کو پلک جھپکتے میں کوئی سبق سکھا دے اور پاکستان میں حکمرانی کرنے والے لوگ ہاتھ ملتے رہ جا ئیں کہ وقت تو کسی ساکت چیز کا نام نہیں ہے۔ یہ کبھی کسی کے لئے ٹھہرا ہے اور نہ ساکت ہوا ہے ۔ اس کی اپنی طے شدہ رفتار ہے جس کے دوران ہی یہ اپنا کام کر جاتا ہے ۔  ٭

مزید : کالم