غیر جانبدار نگران حکومت کا قیام ؟

غیر جانبدار نگران حکومت کا قیام ؟

آئندہ عام انتخابات کے مکمل آزادانہ، غیر جانبدا رانہ اور، منصفانہ انعقاد پرہر طرف سے زور دیا جارہا ہے۔ ہر محب وطن شہری اس بات کا متمنی ہے کہ انتخابات کی ذمہ داری ایسے لوگوں کے ہاتھ میں ہو جو غیر جانبدار اور انصاف پسند بھی ہوں اور بااختیار بھی- اُنہیں اپنے فرائض کی ادائیگی کے لئے کسی طرف سے رکاوٹ کا سامنا بھی نہ کرنا پڑے۔ اِس کے لئے غیر جانبدار اور بااختیار الیکشن کمشن کے علاوہ ایک مکمل طور پر غیر جانبدار نگران حکومت کا قیام بھی ضروری سمجھا جا رہا ہے۔ اِس سلسلے میں وفاقی حکومت کی طرف سے کافی پہلے پیش رفت کی توقع کی جارہی تھی لیکن ابھی تک اس سلسلے میں دوسری سیاسی جماعتوں سے مذاکرات اور مشاورت کا عمل شروع نہیں ہو سکا۔ مسلم لیگ ن نے انتخابات کی تاریخ کے اعلان اور نگران وزیر اعظم کے انتخاب کے لئے حکومت سے مذاکرات کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کے ایک اجلاس میں کہا گیا ہے کہ یہ مذاکرات خفیہ نہیں بلکہ کھلے ہوں گے پارلیمنٹ کی سطح پر ہوں گے- ادھر غیر جانبدار نگران حکومت کے قیام اور انتخابی اصلاحات کا ایجنڈا لے کر آنے والے علامہ طاہر القادری نے کہا ہے کہ وہ اپنے مطالبات کی منظوری کے لئے پارلیمنتٹ میں بیٹھے لوگوں کو ضامن نہیں مانتے ، الیکشن کمیشن بھی بے اختیار ہے- لیکن اگر فوج اور عدلیہ ان کے مطالبات تسلیم ہونے کی ضمانت دیں تو لانگ مارچ ختم کیا جاسکتا ہے- تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ اگر شفاف انتخابات نہ ہوئے تو ملک میں خانہ جنگی کا خدشہ ہے - تاہم انہوں نے کہا کہ نگران سیٹ اپ کی تشکیل کے لئے وقت دینا چاہئیے-

مسلسل مصائب اور مشکلات برداشت کرنے والے پاکستانی عوام جہاں مخلص اور دیانتدار باصلاحیت قیادت کے لئے ترس رہے ہیں وہاں شفاف انتخابات کے ذریعے قائم ہونے والی جمہوریت بھی ان کا خواب ہے- ماضی میں پری الیکشن رگنگ، انتخابات کے موقع پر حکومتی جماعتوں کی انتظامیہ کے بل بوتے پر دھونس اور دھاندلی ، حکومتی جماعت سے تعلق رکھنے والوں کی طرف سے لوگوں پر احسان جتلا جتلا کر ان کے علاقوں کے مسائل حل کرنا اور اکثر صورتوں میں پہلے ووٹ کا وعدہ حاصل کرکے سرکاری فنڈز سے عوام کے کام کرانا، بعض کے بچوں کو سیاسی رشوت کے طور پر سرکاری اداروں میں ملازمت دلانا اور پھر پولنگ کے دن مسلح افراد کی طاقت سے ووٹروں کو خوفزدہ کرنا ، جعلی ووٹ بھگتانا - ووٹروں کو پولنگ سٹیشنوں کے قریب ہی نہ جانے دینا اور اُن کے ووٹوں کو مخصوص امیدواروں کی طرف سے خود ہی اپنے حق میں استعمال کرجانا، اور اس طرح کے ان گنت دوسرے ہتھکنڈے ہر شہر اور قصبے میں عام ووٹرز دیکھتے رہے ہیں۔ اگر انتخابی فراڈ کے خلاف خود کو زبردستی ناکام بنا دئیے جانے والے امیدواروں کی طرف سے انتخابی نتائج کے خلاف کوئی اپیل کی جاتی ہے تواس کا فیصلہ ہوتے ہوتے اکثر اتنا وقت گذر جاتا ہے کہ دھونس دھاندلی سے منتخب ہونے والا اُ میدواراسمبلی میں چار پانچ سال پورے کر چکا ہوتا ہے۔ بے بس ووٹرز کے اسی طرح کے مشاہدے اور تجربات ہیں جن کی وجہ سے وہ انتخابات کے منصفانہ ہونے اور ان کے غیر جانبدارانہ اور با اختیار ہاتھوں سے سرانجام پانے کی شدید تمنا رکھتے ہیں۔

 عام شہری اِس بات پر پورا ایمان رکھتا ہے کہ اگر منصفانہ انتخابات ہوں اور اِن میں محض دھن ، دھونس اور دھاندلی ہی کے ذریعے نہ جیتا جاسکتا ہو تو پھر جمہوریت جیسا نظام کوئی نہیں - لوگ اپنی مرضی کے مطابق اپنے نمائندے منتخب کرسکیں تو وہ خود کو حکومت کے کاموں میں حصہ دار بھی محسوس کریں گے، لیکن ایسی نام نہاد جمہوریت جس کے منتخب شدہ نمائندوں کے انتخاب میں لوگوں کی اکثریت اپنا کوئی ہاتھ ہی نہ سمجھے وہ جمہوریت نہ عوام کے مفاد کے لئے کام کرتی ہے، نہ لوگ اِس کے کاموں سے مطمئن ہوسکتے ہیں ۔ ایسی حکومتیں عوام کی حقیقی نمائندہ بھی نہیںہوتیں۔ اِنہی حقائق کے پیش نظر آج عوامی سطح پر ہرطرف سے منصفانہ انتخابات کی شدید خواہش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ حزب مخالف کی سیاسی جماعتیں انتخابی عمل کے زیادہ سے زیادہ منصفانہ ہونے کی ضمانت چاہتی ہیں اور اِس مرحلے پر منصفانہ انتخابات کی ضمانت مہیا کرنے والی غیر جانبدار اور بااختیار نگران حکومت کے سلسلے میں وسیع تر اتفاق رائے کی خواہش رکھتی ہیں، لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وفاقی حکومت کے حلقوں میں اس معاملے کو بھی کسی طرح کی سودے بازی کے لئے استعمال کرنے کی خواہش موجود ہے۔ یا کم از کم یہ سوچا جا رہا ہے کہ نگران حکومت عین آخری وقت پر اس طرح قائم کی جائے کہ نہ اس کو اپنے کرنے کے کام کا کوئی ہوش ہو گااور نہ ہی اسے اتنا وقت مل سکے گاکہ وہ اہم عہدوں پر موجود کرپٹ اور جانبدار افسروں کے تبادلے کرسکے یا انتخابات کومنصفانہ بنانے کے لئے الیکشن کمیشن کی رائے سے دوسرے ضروری اقداما ت کے لئے غور و فکر اور مشاورت کرسکے-

ایک طرح سے وسیع تر اتفاق رائے سے قائم ہونے والی نگران حکومت ہی منصفانہ انتخابات کی ضامن بن سکتی ہے۔ اِس سلسلے میں بر وقت اتفاق رائے اور مرکز اور صوبوں میں نگران وزیراعظم اور وزرائے اعلی کے ناموں کا اعلان اس لئے بھی ضروری ہے کہ اس دوران غیر جابندارانہ انتخابات کے لئے اِن لوگوں کو اپنی اپنی ٹیم بھی تیار کرنا ہوگی۔ حکومتی معاملات اور موجودہ انتخابی قوانین کو سمجھنے اور حکومتی مشینری کا جائزہ لینے کے بعد اپنے سامنے موجود کام کے لئے اپنی صلاحیت ،کمزوریوں اور چیلنجوں کا جائزہ بھی لینا ہوگا۔ رکاوٹوں کو دور کرنے کے لئے کچھ ضروری کام بھی کرنے ہوں گے۔ نگران حکومت کوبلاشبہ انتخابات کرانے کی مدت ہی کے لئے حکومت دی جائے گی لیکن حکومت ملنے کے بعد یہ انہی کی حکومت ہونی چاہیے، ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ چند ماہ کے لئے یہ لوگ جھنڈے والی گاڑیوں اور دوسری مراعات کے مزے لوٹنے اور سابق وزیر اعظم ، وزیر اعلی یا وزیر کا ٹائیٹل حاصل کرنے کے علاوہ قوم و ملک کے لئے کچھ بھی نہ کرسکیں- اگر فوج اور عدلیہ سے مشاورت کرنے کے علاوہ فوج یا عدلیہ کی ضمانت حاصل کرنے کی بات کی جارہی ہے تو اس کے پیچھے کسی طرح کی سازش نہیں بلکہ یہ عوام کے وہ جذبا ت و خواہشات ہیں جن کا اوپر ذکر کیا گیا ہے، لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آئینی حدود کے اندر رہتے ہوئے فوج یا عدلیہ سے ضمانت کیسے حاصل کی جاسکتی ہے؟

اِن سطور میں بار بار اس خواہش کا اظہار کیا گیا ہے کہ حکومتی جماعتوں کی طرف سے بھی کچھ خدمت جمہوریت کی ضرور کی جانی چاہیے ۔ اِس کا پہلا طریقہ یہی ہے کہ انتخابات پر عوام کا اعتماد پختہ کیا جائے اور اعتماد بحال کرنے کے لئے انتخابات سے پہلے کئے جانے والے تمام ضروری اقدامات بھی کئے جائیں۔ حکومتی جماعتوں کے علاوہ دوسری سیاسی جماعتوںکو بھی ملک کے چاروں کونوں میں نظر دوڑانے کے بعدسب کے لئے قابل قبول ایسے اہل اور دیانتدار لوگوںکی نشاندہی کرنی چاہئیے جن پر دوسری جماعتوں کو بھی نگران حکومت کی ذمہ داریاں سونپنے میں کوئی اعتراض نہ ہو۔ نگران حکومت کے لئے یقینا بے حد قابلیت اور انتظامی صلاحیتوں کے حامل افراد کی ضرورت ہوگی۔ اِس سلسلے میں اعلی عدالتوں کے موجودہ یا سابقہ بہترین شہرت والے جج حضرات ،یونیورسٹیوں کے موجودہ یا سابقہ وائس چانسلر حضرات، سینئر صحافیوں سے غیر جابندار اور سب کے لئے قابل قبول افراد، قابل اور غیر جانبدار وکلاء اور بیورو کریسی کے اعلی شہرت والے اصول پسند لوگوں سے نام لئے جاسکتے ہیں۔ سیاسی جماعتیں اِس معاملے کو جس طرح بھی نمٹائیں لیکن یہ حقیقت ہر حال میں سامنے رکھیں کہ اس بار انتخابات میں دھاندلی اور بددیانتی کا نتیجہ نہ صرف جمہوریت بلکہ ملک و قوم کے لئے بھی انتہائی سنگین ہوگا۔ بالخصوص بلوچستان میں اِس وقت آزادانہ اور شفاف منصفانہ انتخابات کی ضرورت شدت سے محسوس کی جارہی ہے۔ ٭

مزید : اداریہ