عمران خان اور طاہر القادری نے پیپلز پارٹی اور ن لیگ کو ”نیڑے نیڑے“ کر دیا

عمران خان اور طاہر القادری نے پیپلز پارٹی اور ن لیگ کو ”نیڑے نیڑے“ کر دیا
عمران خان اور طاہر القادری نے پیپلز پارٹی اور ن لیگ کو ”نیڑے نیڑے“ کر دیا

  

پنجاب اسمبلی پریس گیلری (نواز طاہر ) وفاقی حکمران جماعت پاکستان پیپلز پارٹی اور پنجاب میں حکمران مسلم لیگ ن کو تحریک انصاف اور تحریک منہاج القرآن نے ایک بار پھر فوجی صدر پرویز مشرف کی طرف ”اکٹھا“ ہونے کا موقع فراہم کر دیا ہے۔ ابتدائی طور پر اس کی جھلک پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں دیکھی گئی ہے جہاں پیپلزپارٹی کی طرف سے تحریک منہاج القرآن کے سربراہ طاہر القادری اور ن لیگ کی طرف سے تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کے خلاف مذمتی قرار دادیں پیش کی گئیں۔ ان قرارداد وں کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کی جانب سے ن لیگ کو ”میثاق جمہوریت“ یاد دلایا گیا اور جمہوریت کے تحفظ کیلئے تعاون کی پیشکش کرتے ہوئے مثبت جواب کی امید ظاہر کی گئی۔ فوری طور پر اگرچہ کوئی واضح کلیو نہیں دیا گیا لیکن دونوں جماعتوں کی باڈی لینگوئج اور تقاریر نے تلخ ماضی کو پھر سے ”شیریں“ بنانے کا اشارہ دے دیا ہے۔ اسمبلی کے اجلاس کے اندر اور باہر حکومت کی دو حلیف جماعتوں مسلم لیگ ق اور ایم کیو ایم کی جانب سے تحریک منہاج القرآن کی حمایت موضوع بحث رہی۔ اسمبلی کے در و دیوار نے ق لیگ کے ارکان کی اپنی قیادت کی جانب سے طاہر القادری کی حمایت پر بھی حیرانگی اور ناپسندیدگی کا عنصر نمایاں طور پر محسوس کیا۔ یہ در و دیوار اپوزیشن جماعتوں پیپلز پارٹی اور ق لیگ میں اعتماد اور کوآرڈینیشن کے فقدان بھی طویل عرصے سے دیکھ رہی ہیں اور جن دیواروں کے کان بہتر طور پر ” کام“ کرتے ہیں وہ ق لیگ اور پیپلز پارٹی کی باہمی ناپسندیدگی کو بھی ان جماعتوں کے قائدین کے مستقبل میں اتحاد کا مستقبل بھی درخشاں نہیں دیکھ رہے ہیں۔ مینار پاکستان تلے تحریک انصاف اور تحریک منہاج القرآن کے بڑے بڑے جلسے جس طرح ایک ایجنڈا اور ایک دوسرے کی آواز کہلاتے ہیں اسی طرح پنجاب اسمبلی کی جمعرات کی بند کمرے اور کھلے ایوان کی کارروائی کے دوران بڑی بڑی تقریریں بھی میثاق جمہوریت طرز کا رشتہ دیکھ رہی ہیں۔

مزید : ڈیلی بائیٹس