فلاحی منشور

فلاحی منشور
فلاحی منشور

  

اگلے الیکشن سر پہ آگئے ہیں، سیاسی پارٹیاں میدان میں اتر چکی ہیں، الیکشن کمیشن کی طرف سے انتظامات کو حتمی شکل دی جا رہی ہے۔چیف الیکشن کمشنر کی زیر صدارت ایک اعلی سطحی اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ انتخابات کو پر امن اور منصفانہ بنانے کے لئے ضرورت کے تحت فوج کی مدد لی جائے گی۔اس مرحلے پر مناسب معلوم ہوتا ہے کہ سیاسی جماعتیں اپنے اپنے انتخابی منشور کا اعلان کریں تاکہ عوام کو ووٹ ڈالتے ہوئے بہتر چوائس میں مدد مل سکے۔ میں نے ان سطور میں تعلیم کے شعبے میں ضروری اصلاحات کی طرف توجہ مبذول کروائی تھی، اب صحت کو شعبے کو لیتے ہیں جو اس وقت دگر گوں حالات سے دوچار ہے۔ چندبڑے شہروں کو چھوڑ کر ملک کے چھوٹے شہر ، قصبے اور دیہات طبی سہولتوں سے یکسر محروم ہیں ، مختلف حکومتی ادوار میں دیہی مراکز صحت اور تحصیل اور ضلع کی سطح پر ہسپتالوں کا جال تو بچھا دیا گیا مگر اب تک ان کی عمارتیں بھی خستہ ہو چکی ہیں ، اگر کوئی چار دیواری باقی بھی ہے تو اسے مقامی وڈیروں نے اپنے ڈیروں میں تبدیل کر لیا ہے یا پھر وہ اسے مویشی خانے کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔کاغذوں میں ان ہسپتالوں اور مراکز صحت کے لئے ڈاکٹروں کی تعیناتی ہوتی ہے مگر عملی طور پر یہاں کوئی ڈیوٹی دینے کے لئے تیار نہیں اور حیلے بہانے سے ہر کوئی اپنی تبدیلی کروا کر بڑے شہر کے کسی میگا ہسپتال میں پہنچ جاتا ہے۔دیہی آبادی قدرت کے رحم وکرم پر ہے، پیٹ درد سے لے کر ہیپاٹاٹئٹس تک ہر بیماری کا حملہ ہوتا ہے، جہاں پینے کو صاف پانی اور معیاری خوراک نصیب نہ ہو ، وہاں بیماریا ںہی تو پھیلیں گی، سندھ کے دیہات کے بعد اب لاہور میں خسرے کے ہاتھوں درجنوں نونہال جاں بحق ہو چکے ہیں،لاہور جیسے ترقی یافتہ شہر میں دل کی غلط دواﺅں سے لوگ ہلاک ہوئے، ڈینگی کی وبا نے لوگوں کی جان لی، اب پنجاب کے ہی مختلف شہروں میں کھانسی کے شربت نے تباہی مچا دی ہے۔اگر بڑے شہروں کا حال یہ ہے تو دور دراز کے علاقوں میں بسنے والوں کی حالت زار کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔میگا ہسپتالوں کی عمارتیں تو دیکھنے کے لائق ہیں، یہاں لائق اور فائق ڈاکٹر بھی تعینات ہوتے ہیں مگرہرایمرجنسی میں پینا ڈول کی گولیوں پر ٹرخا دیا جاتا ہے، زیادہ ترمریض نو آموز اور نوجوان ڈاکٹروں کے ہتھے چڑھتے ہیں جبکہ تجربہ کار پروفیسرز شاذ ونادر ہی کسی مریض پر توجہ دیتے ہیں۔یہ سب شام کو اپنے کلینک سجاتے ہیں جہاں کم از کم فیس پندرہ سو روپے ہے، متوسط طبقہ بھی یہ فیس ادا کرنے کی استطاعت نہیں رکھتا ، صرف امیر کبیر لوگ ہی یہ مہنگا علاج کر پاتے ہیں۔پرائیویٹ ہسپتالوں کی رونقیں دیکھنے والی ہیں ، جہاں ضرورت مند گھروں کا زیور فروخت کر کے یا قرض اٹھا کر علاج کروانے پر مجبور ہیں۔

پاکستان ایک ایسا بد نصیب ملک ہے جہاں صحت پرجی ڈی پی کا ایک فی صد سے کم خرچ ہوتا ہے، اس بجٹ کے ساتھ اٹھارہ کروڑ عوام کو کیا سہولت بہم پہنچائی جا سکتی ہے، جبکہ ترقی یافتہ اور مہذب ممالک میں ہر شہری کے لئے علاج کی سہولت فری ہے، جو نہی کوئی مریض ہسپتال میں داخل ہوتا ہے تو کوئی اس سے دواﺅں کے پیسے نہیں مانگتا ، نہ اس کے لواحقین کو دواﺅں کی لمبی چوڑی فہرست تھما دی جاتی ہے۔جو لوگ مہنگے علاج کی استطاعت رکھتے ہیں ، وہی نجی ہسپتالوں کا رخ کرتے ہیں ورنہ ملک کے تمام ہسپتالوں میں علاج کا معیار یکساں ہے، اس کے لئے غریب اور امیر کا کوئی فرق نہیں کیا جاتا۔پاکستان کا قیام تو ایک فلاحی ریاست کے طور پر عمل میں آیا مگر یہاں ہر کام کو کاروبار بنا لیا گیا۔اور فلاحی ریاست کا خواب شرمندہ تعبیر نہ ہو سکا، بس لوٹ مار کا ایک بازار ہے جو ہر کسی نے گرم کر رکھا ہے اور صحت کے شعبے کو کاروبار بنا لینا تو کسی بڑے ظلم سے کم نہیں۔اس کاروبار میں انسانی جانوں سے کھیلنا ایک مشغلہ بنا لیا گیا ہے۔یہ سلسلہ کہیںختم ہو جانا چاہئے اور بہتر یہ ہے کہ موجودہ الیکشن میں ہر سیاسی پارٹی اپنے منشور میںواضح کرے کہ وہ اقتدار میں آنے کی صورت میںلوگوں کی ہیلتھ کئیر کے لئے کیا پروگرام رکھتی ہے۔امریکہ جیسے ترقی یافتہ ملک کے صدارتی الیکشن میں ہیلتھ کئیر ایک بنیادی اشوہوتا ہے، جس پر ملک کی دونوں پارٹیا ں کوئی کمی نہیں چھوڑتیں اور ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر وعدے کرتی ہیں۔ہمارے ہاں بھی تعلیم کے ساتھ صحت کے مسئلے کو اہمیت دی جانی چاہئے اور الیکشن میں حصہ لینے والی پارٹیاں اپنے ووٹروں کوکھل کر بتائیں کہ وہ ان کے علاج معالجے کی کیا سہو لتیں بہم پہنچائیں گی۔ہمارے ہاں تو بدقسمتی یہ ہے کہ ہم صحت کے شعبے سے متعلق افراد کو بھی دہشت گردی کا نشانہ بنا رہے ہیں ، پولیو ورکر ز کو حال ہی میں نشانہ بنا یا گیا ، گزشتہ روز بھی ایک میڈیکل ٹیم پر حملے میں قیمتی جانیں ضائع ہوئی ہیں۔اس رویے پر جس قدر افسوس کا اظہار کیا جائے، کم ہے۔ ملک کے مسیحاﺅں کو جو موت کے خلاف جدو جہد میں مریض کے شانہ بشانہ کھڑے ہوتے ہیں ، ہلا ک کرنا کسی جرم عظیم سے کم نہیں۔ہسپتالوں کی ایمرجنسی تک میں دہشت گردی کا ارتکاب کیا جاتا ہے۔اس کردار کے ساتھ ہم دنیا کی مہذب اور متمدن اقوام کی صفوں میں کھڑے ہونے کے قابل نہیں رہے۔

تعلیم کے شعبے کی طرح صحت کے میدان میں بھی ہم مختلف تجربے کر رہے ہیں ، ایک طرف یونانی نظام چل رہا ہے، دوسری طرف ہو میو پیتھک سسٹم کارفرما ہے، تیسری طرف جدید میڈیسن ہے اور ان سب کے ساتھ ساتھ عطائیت کو بھی فروغ مل رہا ہے اور نیم حکیم لوگوں کی جانوں سے کھیل رہے ہیں۔ٹونے ٹوٹکے اور بنگالی بابے الگ ہاتھ دکھا رہے ہیں۔ہماری انتظامیہ کسی کو چیک کرنے کی اہلیت نہیں رکھتی ، کرپشن کی وجہ سے ڈرگ انسپکٹرز اور متعلقہ ادارے ملی بھگت کا مظاہرہ کر رہے ہیں جس کی وجہ سے نہ دواﺅں کا معیار چیک کیا جا سکتا ہے، نہ کسی کو یہ پتہ چلتا ہے کہ جعلی دوائی کونسی ہے، غیر ملکی مہنگی دواﺅں سے ملتے جلتے ناموں کے ساتھ گھٹیا دوائیں بھی سپلائی ہو رہی ہیں۔اس طرح صحت کا شعبہ سر تاپا مال پانی بنانے میں مصروف ہے اور انسانی اقدار اور پیشہ ورانہ ذمے داریوں کو پس پشت دھکیل دیا گیا ہے اب تو ہسپتال میدان جنگ بنے ہوئے ہیں، نوجوان ڈاکٹر اپنے مسائل کے حل کے لئے ہڑتالوں پر مجبور ہیں اور ایمرجنسیوں تک کو تالے لگا دئے جاتے ہیں،اس نظام کو درست کرنے کے لئے ہماری سیاسی جماعتوں کو قابل عمل منشور سامنے لانا چاہئے تاکہ یہ الیکشن ایک بامعنی اور نتیجہ خیز ایکسر سائز کے طور پر لوگوں کی بھلائی اور فلاح کے نئے دور کا حرف آغاز ثابت ہو۔

مزید : کالم