زندہ ہے، وائے ڈی اے زندہ ہے

زندہ ہے، وائے ڈی اے زندہ ہے
 زندہ ہے، وائے ڈی اے زندہ ہے

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

کیا پنجاب کی حکومت میں اتنا دم ہے کہ وہ ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کو غیر قانونی تنظیم قرار دیتے ہوئے اس کے تمام عہدے داروں کو ہسپتال بند کرنے جیسے گھناو¿نے جرم کے بار بار کرنے پر نوکریوں سے برخواست کرتے ہوئے گرفتار کرلے، اگر کوئی مریض اس دوران جاں بحق ہوا ہے تو قتل بالسبب کا مقدمہ درج کرتے ہوئے ان عہدے داروں کو جیل میںہی نہ ڈالے بلکہ عدالت سے فوری سماعت کی درخواست کرتے ہوئے انہیں جلد از جلد قرار واقعی سزا بھی دلوائے، اس دوران اگر ہسپتال بند رہتے ہیں تو رہیں مگر حکومت اعلان کر دے کہ جو ڈاکٹر فوری طور پر اپنی ڈیوٹی پرواپس نہیں لوٹے گا تو اگلے 24گھنٹوں میں ان کی ڈگریاں منسوخ کرتے ہوئے اس کا نام تمام قومی اور بین الاقوامی اداروںاور ہسپتالوں کو ان کے ظالمانہ اور غیر پیشہ وارانہ روئیے کی شکایت کے ساتھ بھیج کر انہیںنوکری نہ دینے کی سفارش کی جائے اور وہ ہڑتالی ڈاکٹرز جو قوم کے خرچ پر اعلیٰ پیشہ وارانہ تعلیم مکمل کر رہے ہیں، ان کو فوری طور پر نہ صرف تعلیمی اداروں سے نکال باہر کیا جائے گا بلکہ اب تک ان پر ہونے والے اخراجات کی وصولی کے لئے بھی کارروائی کی جائے گی۔ ینگ ڈاکٹرز کہتے ہیں کہ ہسپتال چلانا ان کی نہیں بلکہ حکومت کی ذمہ داری ہے اور کیا حکومت ان کو بتا سکتی ہے کہ جب وہ ایک طالب علم کو طب کی اعلیٰ تعلیم انتہائی رعایتی واجبات کے ساتھ حاصل کرنے کی سہولت دیتی اور ہسپتالوں میں بہترین تنخواہوں اور مراعات کے ساتھ تعینات کرتی ہے تو وہ اپنی ذمہ داری پوری کر دیتی ہے اورا س کے بعد ان سرکاری ملازموں کی ذمہ داری ہے کہ وہ ڈیوٹی پر حاضر رہیں، اگر یہ سرکاری ملازم ڈیوٹی پر حاضر نہیں ہوتے تو کیا وہ ان کے ساتھ وہی سلوک کر سکتی ہے جو دیگر محکموں میں قانون کے مطابق رائج ہے ۔

مجھے حکومت پنجاب سے یہ بھی کہنا ہے کہ جب یہ سرکاری ملازم مسلم لیگ نون کی صوبائی حکومت کے خلاف مدد مانگنے کے لئے ان کے بدترین مخالفین تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان، پیپلزپارٹی پنجاب کے صدر میاں منظور وٹو اور مسلم لیگ (ق) کے صوبائی صدر چودھری پرویز الٰہی کے پاس جائیں گے تو کیا اس میں ہمت ہے کہ ان سیاسی مخالفین کے تند و تیز حملوں کو برداشت کر سکے کیونکہ قدرت نے ہمارے سیاستدانوں میں وہ صلاحیت ہی نہیں رکھی کہ مخالفت برائے مخالفت سے ہٹ کے کوئی بیان دے سکیں، کوئی فیصلہ کر سکیں۔ یہاں تو اگر آئین، جمہوریت اور انتخابات پر بھی اتفاق رائے کا اظہار ہوجائے تو بہت سارے پریشان سیاست دان اسے مک مکا قرار دینے لگتے ہیں۔ کیاپنجاب کے حکمران ان ڈاکٹروں کے خاندانوں کی مخالفت بھی مول لے سکتے ہیںجو اپنے بیٹوں اور بیٹیوں کے ہڑتال کرنے پرانہیں حق پرسمجھتے ہیں، ان پروفیسروں کا بھی دباو¿ برداشت کرسکتی ہے جو ہمارے سیاست دانوں، بیورو کریٹوں اور جرنیلوں ، ان کی ماو¿ں، باپوں، بیٹیوں، بہووں اور سسروں، ساسوں جیسے پیاروںکے معالج ہیں۔ ایسے میں کئی مریض بھی ایسے ہو سکتے ہیں جو حکومت کو تنقید کا نشانہ بنائیں اور انتخابات کے دنوں میں یہ ایشو مسلم لیگ(ن) کے گلے میں پھنس جائے، اس وقت مسلم لیگ(ن) کی سیانی حکومت نے وعدے پورے نہ کرنے کی روایت نبھاتے ہوئے پیرا میڈیکس کا وزن بھی ڈاکٹروں کے پلڑے میں ڈال دیا ہے ، پی ایم اے کے صدر ڈاکٹر اشرف نظامی بھی وزیراعلیٰ سے ملاقات کا وقت نہ ملنے پر خفا خفا پھر رہے ہیں حالانکہ پی ایم اے تو ہمیشہ حکومت کی طر ف سے پلائی جانے والی چائے کی پیالی میں بڑے بڑے طوفا ن غرق کر سکتی ہے ۔

اگر حکومت پنجاب او پر لکھاسب نہیںکر سکتی تو پھر اسے ینگ ڈاکٹروں کی حکمرانی اور اس اختیار کو تسلیم کرلینا چاہئے کہ وائے ڈی اے کے ایک ایس ایم ایس پر تمام سرکاری ہسپتال بند ہو جائیں۔ سیکرٹری صحت کیپٹن ریٹائرڈ عارف ندیم کی برطرفی کا مطالبہ فوری طور پر تسلیم کرتے ہوئے ملک جاوید آہیر جو کہ وائے ڈی اے پنجاب کے نئے نومنتخب صدر ہیں، کو اس عہدے کاچارج دے دینا چاہئے۔ تمام اضلاع میں بالعموم اور گوجرانوالہ میں وائے ڈی اے کے صدر کاشف بلال کو بالخصوص یہ اختیار دے دینا چاہئے کہ وہ جب چاہیں سرکاری ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ کو ، چاہے وہ کتنے ہی سینئر کیوں نہ ہوں، تھپڑاور ٹھڈے مار کے ان کے دفتر سے باہر نکال سکتے ہیں۔ ان کی کرسی پر بیٹھ کرسلطان راہی سٹائل میں بڑھکیں لگا سکتے ہیں۔ وائے ڈی اے سے تعلق رکھنے والے تمام ڈاکٹرز دوران ڈیوٹی موبائل فون پر ہی نہیں بلکہ ڈیوٹی روم میں بغیر کسی وقفے کے گپیں لگا سکتے ہیں اور اگر اس دوران کسی مریض کی ہلاکت ہوجائے تو وہاں لواحقین کو یہ علم ہونا چاہئے کہ زندگی اور موت اللہ کے ہاتھ میں ہے ، اگر وہ اللہ کے اس فیصلے کے خلاف باتیں بنائیں گے تو ان کو پھینٹی لگانے کا اختیار بھی وائے ڈی اے کے پاس ہونا چاہئے۔ اسی طرح گوجرانوالہ میں جس طرح الیکٹرانک میڈیا کے رپورٹروں او رکیمرہ مینوں کو اس غنڈہ گردی کی رپورٹنگ کرنے پرمزا چکھایا گیا، جناح ہسپتال لاہور کی طرح ہر ہسپتال میں وائے ڈی اے کی طرف سے نوٹس لگا ہونا چاہئے کہ یہاں میڈیا کا داخلہ ممنوع ہے ۔ اسی طرح ہر طرح کی ٹرانسفر پوسٹنگ کا اختیار پہلے ہی کافی حد تک وائے ڈی اے نے اپنے پاس رکھا ہوا ہے ، محکمہ صحت میں سیکرٹری کے ساتھ ساتھ ایڈیشنل سیکرٹری، سپیشل سیکرٹری ہی نہیں بلکہ سیکشن آفیسر بھی وائے ڈی اے سے ہی لگائے جانے چاہئیں، بات یہاں تک ہی محدود نہیں رہنی چاہئے بلکہ سیکرٹری فنانس اور سیکرٹری ریگولیشن سمیت دیگر سیکرٹری بھی یا تو وائے ڈی اے سے ہوں یا قواعد میں ترمیم کر کے لازمی قرار دے دیاجائے کہ سیکرٹری صحت جو کہ وائے ڈی ائے کے صوبائی صدر ہوں گے، کی بھیجی ہوئی ہر سمری کو فوری طور پر دستخط کر کے واپس محکمہ صحت بھجوائیں۔ اس کے بعد بھی امید ہے کہ ہسپتالوں میں ہڑتال نہیں ہو گی۔

اب آپ کہہ سکتے ہیں کہ اوپر دی گئی دونوں تجاویز انتہاپسندانہ ہیں تو اس کے علاوہ دو راستے اور بھی ہیں مگر اس سے پہلے مجھے بھی عرض کرنا ہے کہ ہم ایک انتہاپسندانہ معاشرے میں ہی رہ رہے ہیں۔ جہاں بہت ساری باتیں ماورائے آئین اور قانون ہی نہیں، ماورائے عقل بھی ہوتی ہیں ،اسی معاشرے سے عقل کے پیچھے لٹھ لے کر پھرنے والوں کو خم ٹھونک کے حمایت بھی ملتی ہے ۔ ہسپتالوں کو چلانے کے لئے ایک تجویز تو یہ بھی ہے کہ معاملات اسی طرح چلائے جائیں، اس طرح ہسپتال چلیں گے تو سہی مگر کبھی کبھی، اور آخری تجویز یہ ہے کہ ڈاکٹر اور حکومت دونوں ہی طاقت کی بجائے انصاف سے کام لیں۔ اگر وائے ڈی اے یہ کہتی ہے کہ اس کے ڈاکٹروں کی تنخواہیں روکی جا رہی ہیں، ان کے کنٹریکٹ منسوخ ہو رہے ہیں، سروس سٹرکچر کا اعلان ہونے کے باوجود اس پرکوئی پیش رفت نہیں بلکہ مختلف محکموں کے سیکرٹری دستاویز پر دستخط کرنے کے باوجود اعتراضات لگا رہے ہیں تو حکومت کو اس کا نوٹس لینا چاہئے، سیکرٹری صحت کو وائے ڈی اے کے ہاتھوں سروس سٹرکچر کے ایشو پر شکست کو انا کا مسئلہ نہیںبنانا چاہئے اور معاملات کو طے شدہ شیڈول کے مطابق ہی حل کرنا چاہئے۔ دوسری طرف وائے ڈی اے کو سمجھنا ہو گا کہ وہ ہسپتال بند کر کے اس قوم کے ساتھ سنگین جرم کی مرتکب ہو رہی ہے جس کی اسے کسی طور اجازت نہیں ہے ۔ اس کے ارکان کو ڈیوٹی سے ہرگز استثنیٰ نہیں ہے اور اگر سول ہسپتال گوجرانوالہ کی طرح جنرل ہسپتال لاہور میں بھی ان کے قائدین کی طرف سے ڈیوٹی نہ کرنے پر غیر حاضری لگتی ہے تو یہ عین قانون کے مطابق ہے ۔ اس پر کوئی کاشف بلال ہو یا کوئی اور عہدے دار، اسے مولا جٹ بننے پر تھانے اور جیل کا راستہ ناپناہو گا۔ میں سمجھتا ہوں کہ جب تک معاشرے میں طاقت کی حکمرانی کا اصول کار فرما رہے گا وائے ڈی اے اپنے اتحاد کے ذریعے پورے نظام کو یرغمال بنائے رکھے گی۔ جہاں اپنا پیٹ ہی سب سے پہلے نظر آئے اور اپنی انا ہی سب سے مقدم ہو ، اس معاشرے میں چاہے سارے کے سارے غریب مریض علاج سے انکار ہونے پر مر جائیں،وہاں کی ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشنیں زندہ رہتی ہیں، ہڑتالوں کے باوجود تنخواہیں او ر مراعات وصول کرتیں اور پھلتی پھولتی رہتی ہیں ۔ میرا المیہ یہی ہے کہ میں ایسے ہی ایک معاشرے میں رہ رہا ہوں جہاں انسانیت اور اخلاقیات کے جنازے نکل رہے ہیں اور لاٹھی والے بھینسیں ہانکے لئے جا رہے ہیں۔

مزید : کالم