12 ربیع الاول۔۔۔ آیئے سیرت طیبہؐ کو اپنانے کا عہد کریں!

12 ربیع الاول۔۔۔ آیئے سیرت طیبہؐ کو اپنانے کا عہد کریں!
12 ربیع الاول۔۔۔ آیئے سیرت طیبہؐ کو اپنانے کا عہد کریں!

  

آج پورے عالم اسلام میں حضور نبی کریمﷺ کی ولادت با سعادت کا دن بڑے جوش و جذبے اور عقیدت و احترام سے منایا جا رہا ہے، دنیا کا کوئی گوشہ ایسا نہیں ہے جہاں سے قال اللہ وقال الرسولﷺ کی صدائے دلنواز سنائی نہ دے رہی ہو، 12 ربیع الاول کے دن ہر صاحب ایمان اپنے دل میں محبت رسولﷺ کی جوت جگائے مسرت و خوشی کا اظہار کر رہا ہوتا ہے کیونکہ اس مقدس اور پاکیزہ ترین دن میں اللہ رب العزت نے اپنے سب سے پیارے محبوب پیغمبر انسانیت، رسول رحمتﷺ کو ہم میں مبعوث فرمایا، اللہ تعالیٰ نے اپنی پاکیزہ کتاب قرآن مجید میں رسول رحمت، پیغمبر انسانیت حضور نبی کریمﷺ کے بارے میں ارشاد فرمایا: ’’میں نے تمہارے درمیان خود تم میں سے ایک رسول بھیجا جو تمہیں میری آیات سناتا ہے، تمہاری زندگیوں کو سنوارتا ہے، تمہیں کتاب اور حکمت کی تعلیم دیتا ہے اور تمہیں وہ باتیں سکھاتا ہے جو تم نہیں جانتے تھے (البقرہ، 151) ایک اور جگہ ارشاد فرمایا: ’’وہ اللہ وہی ہے جس نے اُم القریٰ کے رہنے والوں کے درمیان ایک رسول اُٹھایا جو اُنہیں اللہ تعالیٰ کی آیات پڑھ کر سناتا ہے اور ان کی اصلاحِ نفس کرتا ہے اور انہیں کتاب اور حکمت کی تعلیم دیتا ہے۔‘‘ (جمعہ) ماہرین کتب کے مطابق دنیا میں سب سے زیادہ پڑھی جانے والی کتاب قرآن مجید ہی ہے جبکہ پیغمبر انسانیت، رسول رحمتﷺ دنیا کی وہ واحد شخصیت ہیں جن کی حیاتِ طیبہ کے مختلف پہلوؤں پر سب سے زیادہ لٹریچر شائع ہوا اور آج دنیا میں جتنے لوگ بھی مسلمان ہو رہے ہیں وہ سب کے سب حضور نبی کریمﷺ کی سیرت پاک کو پڑھ کر مسلمان ہو رہے ہیں کیونکہ حضور نبی کریمﷺ کی سیرت پاک زندگی کے ہر شعبہ میں ہماری راہنمائی کرتی نظر آتی ہے زندگی کا کوئی بھی گوشہ ایسا نہیں ہے جس کے لئے حضور نبی کریمﷺ نے ضابطہ اخلاق ترتیب نہ دیا ہو، اور دنیا میں واحد ایسی شخصیت ہیں کہ جن کی ولادت باسعادت سے لے کر ظاہری وصال تک ہر لمحہ رخشندہ، تابندہ اور نکھرا ہوا نظر آتا ہے امورِ کتب خانہ میں عالمی شہرت یافتہ مصنف اور لائبریرین مسٹر روز نتھال، ایف اپنی تصنیف:

Four Eassays on art and Literature in islam.... Leiden. 1971)

میں لکھتے ہیں کہ ’’پیغمبر اسلام کی شخصیت پر کتب لکھنے کا سلسلہ گزشتہ ڈیڑھ ہزار سال سے مسلسل جاری ہے اسلام کے ابتدائی دور میں کاغذ اور قلم ایجاد ہو چکا تھا اس لئے مصنفین نے سیرت پاک کے ہر پہلو کو ابتداء ہی میں من و عن محفوظ کر لیا مسلم مورخین، مصنفین، مفکرین، ادباء اور شعراء بغرض عقیدت لکھنا پسند کرتے تھے جبکہ غیر مسلم عالمی مورخین، محقیقین، اور مصنفین آپﷺ کی شخصیت کے مطالعہ کی ابتداء فنی ضرورت کے ضمن میں کرتے مگر بعد ازاں یہ مطالعہ ان کو بھی آپﷺ کا گرویدہ اور عقیدت مند بنا دیتا ہے عقیدت اور ضرورت کے اس تناظر میں سیرت پاک پر ناقابل شمار کتب تصنیف کی گئیں۔برٹش لائبریری لندن کے سابق مہتمم C.A.COULSON کے مطابق سیرت پاکﷺ پر لکھی گئی کتب کی حتمی تعداد کا تعین ممکن نہیں البتہ یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ سب سے زیادہ مواد اگر کسی شخصیت پر لکھا گیا ہے تو وہ بلا شبہ پیغمبر اسلامﷺ کی ذات ہے۔

بین الاقوامی لائبریریوں میں اگر ہم سیرت پاک کے کیٹلاگ کا مطالعہ کریں تو پتہ چلتا ہے کہ تاریخ کے ہر دور اور جغرافیہ کے ہر خطے میں مختلف رنگ و نسل و ملت کے باشعور افراد نے نبی کریمﷺ کے حضور ہدیہ عقیدت پیش کرنے کی کوشش کی ہے ہم اگر ماضی میں سفر کرتے ہوئے عالم تصور میں عہد رسالت میں دربار رسالتﷺ کی زیارت کریں تو ہم دیکھیں گے کہ اس دربار میں بے شمار ملک و ملت، قبیلہ و نسل کے لوگ پہلو بہ پہلو بیٹھے نظر آتے ہیں، یہ نہیں کہ دربار صرف مسلمانوں کے لئے مخصوص و محدود ہو بلکہ یہاں صحائف قدیم کے عالم اور ماہر لسانیات سرمہ بن انس ہیں یہودیوں کے سب سے بڑے پیشوا اور توریت کے عالم کامل عبداللہ بن سلام ہیں یہاں نجران کے عیسائیوں کا اسقف اعظم کرزبن علقمہ ہیں یہاں کعبہ کے کلید بردار عرب کے امیر ترین عثمان طلحہ موجود ہیں اور یہیں ٹاٹ کے کمبل میں ببول کے کانٹوں سے بخیہ گری کئے ہوئے ذوالیجان بھی ہے حضور نبی کریمﷺ نے ہمیشہ مساوات اور رواداری کا سبق دیا ہے آج بھی اگر اُمت اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کرنا چاہتی ہے تو اس کا واحد حل یہی ہے کہ سیرت طیبہﷺ کو اپنے دل میں اتار لے اور زندگی کے ہر شعبہ میں اپنا لے تو آج بھی ہم کامیابی و کامرانی حاصل کر سکتے ہیں اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں ہر لمحہ سیرت طیبہﷺ کی روشنی میں بسر کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین)

مزید :

کالم -