آئندہ بار الیکشن اوروکلاء سیاست کا احوال (1)

آئندہ بار الیکشن اوروکلاء سیاست کا احوال (1)
 آئندہ بار الیکشن اوروکلاء سیاست کا احوال (1)

  



یہ وقت ہے، وکلاء سیاست اوروکلاء نمائندوں کو منتخب کرنے کا۔سب سے پہلے ایشیا کی سب سے بڑی باریعنی لاہور بار ایسوسی ایشن کے ممبران ماہِ رواں میں اپنے نمائندوں کا انتخاب کریں گے جس کے بعد لاہورہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے عہدیداروں کا انتخاب فروری میں ہوگا۔ سب سے آخر میں مارچ کے مہینے میں لاہور ٹیکس بار ایسوسی ایشن اپنے نمائندوں کوچُنے گی۔ لاہور بار ایسوسی ایشن کا ’’انتخابی دنگل‘‘14جنوری کو ہونے والا ہے پہلی با ر یہ الیکشن مکمل طور پر ’’بائیو میٹرک ووٹنگ سسٹم‘‘ کے تحت ہوگا جس میں لاہو ر کے وکلاء 2017-18ء کے لئے اپنے نمائندوں کا انتخاب کریں گے جن میں صدر ، دو نائب صدر،دو سیکرٹری اور لائبریری سیکرٹری کا انتخاب کیا جائے گا۔ انتخابات کی خاص بات جوائنٹ سیکرٹری اور فنانس سیکرٹری کاتاریخ میں پہلی بار بلامقابلہ منتخب ہونا ہے جبکہ آڈیٹراور ممبر ایگزیکٹوکی سیٹوں پرجو امیدوارہوتے ہیں وہ عموماً ہر بار ہی بلامقابلہ منتخب ہوجاتے ہیں۔ایک نائب صدر ماڈل ٹاؤن سیٹ سے بھی منتخب ہوتا ہے مگر وہاں بھی اِس بار تاریخ بدل چکی ہے ۔آخری بار اِس نشست سے ممبر پنجاب بارکونسل عبدالصمد بسریا گروپ کے امیدوار شہزاد خان کاکڑ کامیاب ہوئے تھے جو موجودہ نائب صدر بھی ہیں شہزاد خان کاکڑ نے دیپالپور سے لاہور ہجرت کرنے والے میاں نعیم حسن وٹو کو شکست سے دوچار کیا تھا مگر اِس بارمیاں نعیم حسن وٹوکی پوزیشن مستحکم نظر آرہی تھی جس پر مخالف گروپ کے امیدوار حسام خان بسریا نے دوبارہ میاں نعیم حسن وٹو کی لاہور بار کی ممبر شپ کو چیلنج کردیا ۔تنازعہ بارکونسلوں سے ہوتا ہوا ہائی کورٹ جا پہنچا تو لاہور ہائی کورٹ نے معاملے کو حل کروانے کے لئے وکلاء کی ایک کمیٹی چیئرمین الیکشن بورڈ وقار حسن میر کی صدارت میں قائم کی جس نے دونوں امیدواروں کو 6 ،6 ماہ کے لئے نائب صدرماڈل ٹاؤن بنا دیا ہے۔

اِس معاملے کے بعد دونوں امیدواروں کے حامیوں نے کامیابی کا خوب جشن منایا مگر سابقہ نائب صدر ماڈل ٹاؤن عرفان ریاض بسرا اور ایک امیدوارندیم ضیاء بٹ نے اِس فیصلے کو ’’سلیکشن‘‘ قرار دیتے ہوئے23 دسمبر کولاہور ہائی کورٹ سے رجوع کرلیا درخواست میں عرفان ریاض بسرا نے مذکورہ فیصلے پر شدید تنقید کی ہے۔ جب میری اُن سے اِس بارے میں بات چیت ہوئی تو انہوں کہا کہ ہم تو مارشل لاء کے ادوار میں بھی اپنے نمائندوں کو ووٹ کی طاقت سے منتخب کرتے چلے آئے ہیں لہٰذا ہم جمہوریت پسند لوگ ہیں اور مذکورہ فیصلے کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہیں جبکہ دوسری طرف ندیم ضیاء بٹ نے اپنی درخواست میں موقف اختیار کیا ہے کہ وہ بیماری میں مبتلا تھے اور وہ اِس نشست پر اپنے کاغذاتِ نامزدگی جمع کروانا چاہتے تھے مگر کمیٹی نے جو فیصلہ کیا، وہ اِس سے سخت نالاں ہیں، لہٰذا ہائی کورٹ مذکورہ فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے ندیم ضیاء بٹ کو کاغذاتِ نامزدگی جمع کروا نے کی اجازت دے۔ کمیٹی کے اِس فیصلے سے دونوں امیدواروں کے حامیوں کے علاوہ وکلاء کی اکثریت نا خوش نظر آرہی ہے ۔اب دوبارہ بات کرلی جائے الیکشن کی۔صدر کی نشست پر دوسری بار انتخاب لڑنے والے حامدخان گروپ اور آرائیں گروپ کے مشترکہ امیدوار چودھری تنویر اخترجبکہ اِن کے مد مقابل عاصمہ جہانگیر گروپ کے ملک محمد ارشد کے مابین ون ٹوون اور کانٹے کا مقابلہ متوقع ہے۔ اِس مقابلے کے بارے میں اِس وقت کوئی پیش گوئی کرناقبل ازوقت ہے ،مگر یاد رہے چودھری تنویر اخترصدارت کی نشست پر دوسری بار قسمت آزمارہے ہیں اور اِس طرح کے امیدوار کے لئے بار ممبران کی ہمدردیاں زیادہ ہوتی ہیں۔لاہور بار کی باقی نشستوں پرہر بار حامدخان اورعاصمہ جہانگیر گروپوں کے چھوٹے چھوٹے گروپ آپس میں مدمقابل ہوتے ہیں ۔

اِس بار نائب صدر کی دو نشستوں پرکل چھ امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہے۔دوسری بار الیکشن لڑنے والے دو امیدوار ہیں، جن میں سید فرہاد علی شاہ گروپ کے امیدوار چودھری عرفان صادق تارڑ اور برہان معظم ملک گروپ کے امیدوار نوید چغتائی سمیت چار نئے امیدواربھی شامل ہیں اِن میں رانا انتظار گروپ کے امیدوار الیاس حبیب چوہان ، چودھری اشتیاق گروپ کی امیدوار سید ہ تحسین زہرہ کاظمی ، میاں عبدالقدوس کے شاگرد اور آرائیں گروپ کے امیدوار مہر تنویر افتخار اور ایک آزاد امیدوار محترمہ مسرت رحمٰن وڑائچ کے مابین مقابلہ ہے۔سیکرٹری کی دو نشستوں پر چھ امیدوار مدمقابل ہیں جن میں حال ہی میں سبکدوش ہونے والے سیکرٹری سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن اسد منظور بٹ کے شاگرد اجمل خان کاکڑ ، رائے بشیر احمداور المصطفیٰ گروپ کے امیدوار فرحان مصطفی جعفری ،رانا قمر گروپ کے امیدوار رانا کاشف سلیم ، برہان معظم ملک گروپ کے حمایت یافتہ امیدوارملک سہیل مرُشد، طاہر نصراللہ وڑائچ کے امیدوار ملک فیصل اعوان ، اور لہراسب گوندل اور انجمنِ طلبہ اسلام کے حمایت یافتہ ایم ایچ شاہین کے درمیان مقابلہ ہوگا۔اِسی طرح لائبریری سیکرٹری کی ایک نشست پر دو امیدوار ہیں۔ دوسری بار انتخاب لڑنے والے ملک ممتاز اعوان اور ایک بزرگ امیدوار سمیع اللہ خان کے درمیان مقابلہ ہوگا،جبکہ جوائنٹ سیکرٹری کی نشست پررانا عیش بہادر کی شاگرد عالیہ عاطف خان، فنانس سیکرٹری کی نشست پر سابق جوائنٹ سیکرٹری لاہور بارطاہر ریاض سلہریا کے ساتھی شاہد علی بھٹی اور آڈیٹر کی نشست پر موجودہ فنانس سیکرٹری رفعت طفیل ملک کی بہن ثمینہ طفیل ملک پہلے ہی بلامقابلہ منتخب ہیں۔لاہور بار کی باقی ماندہ چھ نشستوں صدر ، نائب صدور، سیکرٹریز اور لائبریری سیکرٹری پر کانٹے کا مقابلہ متوقع ہے ۔وکلاء سیاست میں قبل ازوقت پیش گوئی غلط بھی ہوجاتی ہے، کیونکہ اِس الیکشن میں مختلف گروپوں کی آخری وقت کی ’’معاملہ کاری‘‘ بہت اہمیت کی حامل ہوتی ہے۔(جاری ہے)

مزید : کالم