کاشتکار قبل از وقت کورے سے بچاؤ کیلئے حفاظتی اقدامات سے آگاہی رکھیں ‘ ترجمان محکمہ زراعت

کاشتکار قبل از وقت کورے سے بچاؤ کیلئے حفاظتی اقدامات سے آگاہی رکھیں ‘ ...

لاہور ( این این آئی)محکمہ زراعت پنجاب کے ترجمان نے کہا ہے کہ کورا پڑنے کا عموماً خطرہ شروع دسمبر سے وسط فروری تک ہوتا ہے تاہم کورا پڑنے کا زیادہ امکان آخر جنوری تک رہتا ہے،کورا پڑنے کا عمل اس وقت شروع ہوتا ہے جب رات کو درجہء حرارت 4ڈگری سینٹی گریڈسے کم ہوجاتا ہے تب پودوں کے پتوں میں موجود پانی جمنا شروع ہوجاتاہے جس سے پتوں میں موجود سیل کو نقصان پہنچتا ہے۔ترجمان نے مزید کہا کہ پھل بننے کے ابتدائی مرحلہ پر کورا پڑ جانے سے پھل کی ڈنڈی کے گرد مردہ خلیوں کا دائرہ بن جاتا ہے جو برداشت تک موجود رہتا ہے ۔اس دائرے کے بننے سے پھل بد شکل ہو جاتا ہے۔ پکے ہوئے ترشاوہ پھلوں پر کورا پڑ جائے تو پھل کی پھانکیں خشک ہو جاتی ہیں۔

باغبانوں کو چاہئے کہ ریڈیواور ٹی وی سے نشر ہونے والی موسمیاتی رپورٹ سے آگاہ رہیں تاکہ قبل از وقت کورے سے بچاؤ کے لئے حفاظتی اقدامات کئے جاسکیں۔ کورا پڑنے کی متوقع راتوں کو کھیتوں میں ہلکا پانی دیا جائے اس سے کورے کے اثرات سے پودوں کو باآسانی بچایا جا سکتا ہے۔ پودوں کے تنوں پر بورڈ ومیکسچر کی سفیدی کی جائے۔ چھوٹے پھلدار پودوں کوکورے سے بچانے کے لئے جنتر جیسے پودے کی چھڑیوں کا پودے کی قامت تک ڈھانچہ بنا کر اس کو اوپر سے پرالی یا پولی تھین سے ڈھانپ دیا جائے۔ پھلدارپودوں پرپوٹاشیم نائیٹریٹ بحساب ایک فیصد سپرے کرنے سے بھی پودوں کو کورے سے کافی حد تک بچایا جاسکتا ہے۔ پھول نکلنے سے پہلے موسم بہار میں پودوں پر سردی سے متاثرہ شاخوں کو کاٹ دیا جائے اور زخموں پر بورڈو پیسٹ لگائی جائے۔

مزید : کامرس