2017 ء کے اختتام پر یورو زون کی صنعتی پیداوار دو عشروں کی بلند ترین سطح پر رہی

2017 ء کے اختتام پر یورو زون کی صنعتی پیداوار دو عشروں کی بلند ترین سطح پر رہی

لندن (اے پی پی) ماہرین نے کہا ہے کہ 2017 ء کے اختتام پر یورو زون کی صنعتی پیداوار دو عشروں کی بلند ترین سطح پر رہی جبکہ ایشیاء کی صورتحال میں کوئی خاص تبدیلی دیکھنے میں نہیں آئی تاہم بھارت براعظم کا تیز صنعتی پیداوار کا حامل ملک رہا۔امریکا میں صنعتی پیداوار کی شرح مستحکم رہنے کے باعث اس کے پوری دنیا پر مثبت اثرات رہے۔یورپین تنظیم آئی ایچ ایس مارکیٹ کے شعبہ بزنس کے سربراہ کرس ولیم سن کی جانب سے جاری بزنس سروے جائزہ رپورٹ کے مطابق دسمبر 2017 ء کے دوران خطے میں صنعتی پیداواری سرگرمیوں میں تیزی رہی جو 20 سال کی بلند ترین سطح ہے اس سے 2018 ء کے آغاز میں کوئی خاص مشکل سامنے نہیں آئے گی۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ دسمبر کے دوران یوروزون کا پرچیزنگ مینیجرز انڈیکس 60.6 پوائنٹ رہا جو جون 1997ء میں اس طرح کے سروے کے آغاز سے اب تک کی بلند ترین سطح ہے۔ماہ کے دوران یورو ڈالر کے مقابلے میں تین ماہ کی بلند ترین 1.20 ڈالر فی یورو کی سطح پر رہا۔فیکٹریز کا پیداواری انڈیکس نومبر کی سطح 61 پوائنٹ سے بڑھ کر دسمبر میں 62.2 پوائنٹ رہا جو 17 سال کی بلند ترین سطح ہے۔جرمنی اور فرانس میں صنعتی پیداوار کی سطح 17 سال کی بلند ترین سطح پر رہی تاہم بلاک کی تیسری بڑی معیشت اٹلی کی صنعتی پیداوار نسبتاً سست رہی۔برطانیہ کی صنعتی پیداوار میں نومبر کی نسبت کمی ہوئی ۔

بھارت میں دسمبر کے دوران صنعتی پیداوار کی شرح 5 سال،تائیوان میں ساڑھے چھ سال کی بلند ترین سطح پر رہی جبکہ چین میں بھی صنعتی پیداوار میں بھی استحکام دیکھنے میں آیا تاہم جنوبی کوریا،ملائیشیاء اور انڈونیشیاء میں صنعتی پیداوار کی شرح میں کمی دیکھنے میں آئی جو اس سمت اشارہ ہے کہ اس سے علاقے میں قرضوں پر سود کی شرح میں اضافے کی رفتار سست رہے گی۔ماہرین کا کہنا تھا کہ ایشیائی ملکوں کی صنعتی مصنوعات کی بیرونی طلب میں اضافہ اور مناسب مالیاتی پالیسیوں کے نتیجے میں ایشیاء کی صنعتی پیداوار کو اچھی سطح پر لے جایا جا سکتا ہے۔انھوں نے کہا کہ دسمبر کے دوران چین کی صنعتی پیداوار غیر متوقع طور پر بڑھ کر چار ماہ کی بلند ترین سطح پر رہی جس کی وجہ بیرونی طلب ہے جو عالمی سطح پر تجارتی سرگرمیوں میں اضافے کی جانب اشارہ ہے۔چین کا کائی شین مارکیٹ مینوفیکچرنگ انڈیکس دسمبر کے دوران بڑھ کر 51.5 پوائنٹ رہا جو نومبر میں 50.8 پوائنٹ کی سطح پر رہا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ 2017 ء کے دوران چین کی اقتصادی شرح نمو 7 فیصد کے قریب رہی تاہم 2018 ء کے دوران اس کے کم ہوکر 6.5 فیصد کی سطح پر رہنے کا امکان ہے۔

مزید : کامرس