اوپن یونیورسٹی میں"پوسٹ ماڈرن دنیا میں میڈیا کا کردار"پر قومی کانفرنس

اوپن یونیورسٹی میں"پوسٹ ماڈرن دنیا میں میڈیا کا کردار"پر قومی کانفرنس

عزیز الرحمن

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پاکستان کو طاقتور اور خوشخال بنانے کے لئے ہمیں پوسٹ ماڈرنزم دور کے خطرات کا مقابلہ اپنی سرزمین ٗ اپنی ثقافت اور اسلامی تعلیمات سے پیار کرنے کے جواب سے دینا چاہئیے۔نئی نسل کو بیدار کرنے کے لئے تعلیمی اداروں کو "پوسٹ ماڈرنزم کا معاشرے اور ثقافت پر اثرات" کے موضوع پر سیمینارز اور کانفرنسسز منعقد کرانے کی ضرورت ہے۔اِس حوالے سے بھی علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی نے پہل کرکے22اور 23دسمبر کو "پوسٹ ماڈرن دنیا میں میڈیا کا کردار:تقاضے اور امکانات" کے زیر عنوان 2روزہ قومی کانفرنس منعقد کی۔افتتاحی تقریب کی صدارت ملک کے نامور کالم نگار/ تجزیہ نگار سجاد میر نے کی جبکہ میزبانی کے فرائض وائس چانسلر ٗ پروفیسر ڈاکٹر شاہد صدیقی نے ادا کئے۔کانفرنس کے مقررین میں نامور کالم نگار خورشید ندیم ٗ ڈاکٹر مجاہد منصوری ٗ ڈاکٹر شفیق جالندھری ٗ وجاہت مسعود ٗ پروفیسر فتح محمد ملک ٗفیکلٹی آف سوشل سائنس کی ڈین ٗ پروفیسر ڈاکٹر ثمینہ اعوان ٗ شعبہ ماس کمیونیکیشن کے چئیرمین ٗ پروفیسر ڈاکٹر ثاقب ریاضٗ ٗ شامل تھے۔ پاکستان بھر سے آئے ہوئے شعبہ صحافت سے متعلق اساتذہ اور طلبہ و طالبات کی ایک بڑی تعداد جمع تھی ۔ملک کے نامور صحافی اِس کانفرنس میں میڈیا کے طلبہ سے ہم کلام تھے ٗاساتذہ اور طلبہ نے بھی اپنے تحقیقی مقالات پیش کئے۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر شاہد صدیقی نے کہا کہ ادب اور طاقت کا آپس میں گہرا تعلق ہے ٗ بندوق اور لاٹھی کی طاقت سے آپ دوسروں سے وہ کام کرواسکتے ہیں جو آپ چاہتے ہیں لیکن زبان کی ہتھیار سے آپ لوگوں کے اذہان کو مسخر کرسکتے ہیں ٗ دوسروں کے خیالات و احساسات کو کنٹرول کرنے کا واحد ذریعہ زبان کی طاقت ہے۔ ڈاکٹر شاہد صدیقی نے کہا کہ تعلیم و تربیت کا بنیادی مقصد کسی بھی معاشرے کے مجموعی اذہان کی تربیت کرنا اور انہیں عہد حاضر کے تقاضوں سے نبردآزما ہونے کے قابل بنانا ہوتا ہے۔ یہ فریضہ آج کے دور میں محض سکول ٗ کالج انجام نہیں دے سکتے ہیں کیونکہ الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا عہد حاضر کا اجتماعی تعلیم و تربیت کا سب سے موثر ذریعہ ثابت ہورہا ہے۔ اب تعلیمی اداروں اور میڈیا کو معاشرے کی تعلیم و تربیت کے لئے مل کر کام کرنا ہوگا۔ڈاکٹر شاہد صدیقی نے اِس کانفرنس کو یونیورسٹی کا سالانہ تقریب قرار دیا اور اعلان کیا کہ اگلے سال اِسی موضوع پر انٹرنیشل کانفرنس منعقد کی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی کو بہت امتیازات حاصل ہیں ٗ ایک امتیاز یہ ہے کہ اِس قومی جامعہ کے طلبہ کی تعداد 13لاکھ ہے جو ملک بھر کے تعلیمی اداروں کے طلبہ کی مجموعی تعداد سے بھی زیادہ ہے۔دوسرا بڑا متیازیہ ہے کہ اِس جامعہ کے طلبہ کا تعلق کسی شہر یا صوبے تک محدود نہیں بلکہ اِس کے طلبہ ملک کے چاروں صوبوں ٗ آزاد کشمیر ٗ گلگت بلتستان اور شمالی علاقہ جات یعنی ملک کے ہر کونے میں اِس یونیورسٹی کے طلبہ موجود ہیں جو قومی یکجہتی کی ایک بڑی علامت ہے۔انہوں نے کہا کہ ایک امتیاز یہ بھی ہے کہ 13لاکھ طلبہ میں سے 56فیصد طالبات پر مشتمل ہے۔ڈاکٹر شاہد صدیقی نے مزید کہا کہ تین سال قبل جب انہوں نے وائس چانسلر کے عہدے کا چارج سنبھالا ٗ اٗس وقت یونیورسٹی میں پچھلے دو سال سے کوئی ریسرچ جرنل شائع نہیں ہورہا تھا۔ انہوں نے کہا کہ میں نے اپنی ترجیحات میں ریسرچ کلچر کے فروغ کو سرفہرست رکھا اور اِس جانب ھنگامی بنیادو ں پر اقدامات کئے نتیجے میں 14ریسرچ جرنل شائع کئے اور تین جرنل اشاعت کے مرحلے میں ہیں ٗ جون 2018ء تک یہ تعداد 20ہوجائے گی۔ڈاکٹر شاہد صدیقی نے کہا کہ ریسرچ کے نتائج کو دوسروں تک پہنچانے کے لئے ہم نے دو راستوں کا انتخاب کیا تھا ایک ریسرچ جرنل کی اشاعت اور دوسرا کانفرنسسز کا انعقاد ۔ ریسرچ جرنل کی اشاعت کی بات تو ہوگئی ہے ٗ کانفرنسسز کے انعقاد کی بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کی یہ کانفرنس تین سال کے دوران 28ویں کانفرنس ہے۔ڈاکٹر شاہد صدیقی نے کہا کہ نئی نسل کی لرننگ کے لئے یونیورسٹی نے سیمینارز ٗ ورکشاپس ٗ ٹاک شوز اور مختلف موضوعات پر لیکچر سیریز شروع کررکھی ہے اور اب تک 100سے زائد تقاریب منعقد کی جاچکی ہیں۔انہوں نے کہا کہ اِن تعلیمی سرگرمیوں اور علم و ادب کے تقاریب سے اوپن یونیورسٹی پاکستان کی سب سے متحرک ترین جامعہ بن چکی ہے۔خورشید ندیم اور سجاد میر نے اپنے خطاب میں کہا کہ مابعد جدیدیت کی اصطلاح نےَ مغرب میں جنم لیا اور اس کی درست تفہیم مغرب ہی میں ہوسکتی ہے۔انھوں نے کہا کہ پوسٹ ماڈرنزم نے دنیا سے حقیقت کا تصور غائب کردیا ہے۔انھوں نے کہا کہ مغرب میں پوسٹ ماڈرنزم کا دور جدیدت کے بعد آیا جبکہ ہمارے ساتھ یہ حادثہ ہوا کہ سماجی سطح پر ماڈرن دور میں داخل ہوئے بغیر ٗ ہمارا میڈیا ٹیکنالوجی کے اعتبار سے پوسٹ ماڈرن دور میں داخل ہوگیا اور ڈیجیٹل دور میں داخل ہونے کے بعد ہمیں بالجبر پوسٹ ماڈرن دور میں داخل ہونا پڑا یوں میڈیا سماج کی صورتحال سے الگ ٗ لاشعوری طور پر پوسٹ ماڈرن دور میں داخل ہوچکا ہے اور معاشرہ ابھی قبل از جدیدت کے دور میں کھڑا یا کسی حد تک جدیدت کو سمجھنے کی جدوجہد کررہا ہے ٗ اس طرح میڈیا نے معاشرے میں اقدار کا ایک فساد برپا کردیا ہے اور اٗسے اس بات کا کوئی ادارک بھی نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمارا نوجوان طبقہ جو میڈیا کی دنیا میں قدم رکھنے والا ہےٗ اگر پہلے ہی سے خبردار ہوجائے اور انہیں معلوم ہو کہ پوسٹ ماڈرن ازم کا چیلنج کیا ہے تو یہ امکان پیدا ہوسکتا ہے کہ وہ سماج کو فکری پراگندگی سے بچانے کی کوئی تدبیر تلاش کرسکے اور یہ اس وقت ممکن ہوگا جب ہماری جامعات کے ذمہ داروں کو اس چیلنج کی سنگینی کا احساس ہوجہاں سے پڑہ کر نوجوان میڈیا کا حصہ بنیں گے۔مقررین نے کہا کہ ڈاکٹر شاہد صدیقی نے علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی میں اِس کانفرنس کا انعقادکرکے امیدکا کرن پیدا کیا۔مشرق وسطیٰ باالخصوص پاکستان میں جدیدیت کا دور آیا ہی نہیں ہے بلکہ گلوبل ویلج نے زبردستی ہمیں اِ س دور میں داخل کروایا ہے جس کی وجہ سے ہم حقیقت سے ایک قدم اور دور ہوچکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم آفاقی حقائق پر یقین رکھنے والے ہیں اور ہماری ثقافتی و تہذیبی ساخت بہت حساس ہے جس وجہ سے ہم اِس دور کے تقاضوں پر پورا نہیں اترسکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ جدیدت دور میں داخل کئے بغیر ہمیں پوسٹ ماڈرن ازم دور میں پھینکا گیا ہے جس سے ہماری اخلاقی اور تہذیبی وجود کو خطرہ لاحق ہے۔انہوں نے کہا کہ آج جس مصنوعی صورت حال کا ہم سامنا کررہے ہیں وہ حقیقت نہیں ہے ٗ ہمیں سوچنا ہوگا ٗ ہمیں جوانوں کو بیدار کرنا ہوگا ٗ نئی نسل کو دور جدید کے مصنوعی صورت حال سے نکالنے اور انہیں صراط مستقیم پر ڈالنے کے لئے میڈیا اور تعلیمی اداروں کو مزید کام کرنا ہوگا ۔کانفرنس کے پہلے دن مختلف موضوعات پر چار ورکنگ سیشن جبکہ دوسرے دن پانچ سیشن منعقد ہوئے۔پہلے دن افتتاحی تقریب کے بعد ایک گھنٹہ اور 10منٹ کے اوقات پر مشتمل آٹھ آٹھ موضوعات پر تین متوازی سیشن منعقد ہوئے ٗ سیشن 1-Aاکیڈمک کمپلیکس کے روم نمبر 106میں ڈاکٹرزاہد یوسف کی صدارت میں منعقد ہوئی جس کی موڈیریٹرسعدیہ انور پاشا تھی۔سیشن 1-Bروم نمبر 105میں پروفیسر ڈاکٹر غلام شبیرکی صدارت میں منعقد ہوئی ٗ اس سیشن کے موڈیریٹر ڈاکٹر ثاقب ریاض تھے۔ِسیشن 1-C روم نمبر 104میں پروفیسر ڈاکٹر شفیق جالندری کے زیر صدارت منعقد ہوئی اور موڈیریٹر ڈاکٹر عبدالواجد تھے۔دوسرے دن صبح 9بجکر 10منٹ سے 10بجکر 20منٹ تک بھی تین متوازی سیشن منعقد ہوئے۔ سیشن 2-Aکی صدارت پروفیسر ڈاکٹر عبدالعزیز ساحر نے کی اور موڈیریٹر وحید حسین تھے۔ سیشن 2-Bکی صدارت ڈاکٹر واجد خان جبکہ موڈیریٹر ڈاکٹر مدثر شاہ تھے اور سیشن 2-Cکی صدارت پروفیسر ڈاکٹر مجاہد منصوری نے کی جبکہ اِس سیشن کے موڈیریٹر ڈاکٹر بابر حسین تھے۔دوسرے دن تین مزید متوازی سیشن منعقد ہوئے جن کے اوقات 2:30تا 3:40تھے۔سیشن 3-Aکی صدارت ڈاکٹر بخت رواں نے کی اور ڈاکٹر شبیر حسین موڈیریٹر تھے۔ سیشن 3-Bکی صدارت ڈاکٹر ثاقب ریاض نے کی جبکہ موڈیریٹر اسد منیر تھے۔سیشن 3-Cکی صدارت پروفیسر ڈاکٹر معیزالدین اور موڈیریٹر ڈاکٹر شاہد حسین تھے۔کانفرنس میں 30موضوعات پر تفصیلی لیکچرز دئیے گئے۔عوامی تعلقات اور اشتہارات ٗ سیاسی مواصلات اور جمہوریت ٗ برصغیر میں میڈیا اور مزاحمت کی تحریک ٗکریٹیکل اور ثقافتی مطالعہ ٗ نوجوا ن۔ جنس اور مواصلات ٗ آفت اور میڈیا کوریج ٗ میڈیا ۔ زبان و ادب ٗ میڈیا کی اجارہ داری ٗ میڈیا ۔ موسمیاتی تبدیلی اور ماحولیاتی مسائل ٗ میڈیا ۔ انفارمیشن اینڈ کمیونیکیشن لیٹریسی ٗ ریڈیو ٗ ٹیلی ویژن اور تفریحی مطالعہ ٗ میڈیا مینجمنٹ ٗ صحت کے مواصلات ٗ میڈیا اور قومی سلامتی ٗ صحافت:اصول اور عمل ٗ ماس کمیونیکشن:سوسائٹی اور گلوبلائزیشن ٗ کھیل اور صحافت ٗ کمیونٹی صحافت ٗ ڈیویلپمنٹ سپورٹ کمیونیکیشن ٗ میڈیا:پراپیگنڈا اور نفسیاتی جنگ ٗ گلوبلائزیشن اور عالمی مواصلات ٗ پاکستان میں میڈیا تعلیم ٗ میڈیا اخلاقیات ٗ کاپی رائٹ اور دانشورانہ ملکیت ٗ میڈیا انڈسٹری اور رجحانات ٗ سوشل میڈیا اور ویب صحافت ٗ مواصلاتی پالیسی اور ریگولیشن ٗ میڈیا:شناخت اور امج بلڈنگ ٗ ذرائع ابلاع کی سیاسی معیشت ٗ مواصلات کا اسلامی تصور اور میڈیا:مسلم دنیا کانفرنس کے عنوانات میں شامل تھے۔اختتامی تقریب کی صدارت پروفیسر فتح محمد ملک نے کی۔ اختتامی تقریب سے مقررین نے کہا کہ انسانی اقدار ٗ لوگوں کی معیار زندگی بلند کرنے اور معاشرے میں مثبت تبدیلی لانے کے لئے میڈیا اور اکیڈمیہ کو مل کر کام کرنا ہوگا۔

***

مزید : ایڈیشن 1