چھٹاجلسہ عطائے اسناد جامعہ گجرات

چھٹاجلسہ عطائے اسناد جامعہ گجرات

عزائم کی استقامت اور ارادوں کی پختگی راہنمائے منزل بنتے ہوئے ہمیں کار ہائے نمایاں کی انجام دہی کی جانب راغب کرتے ہیں۔ نظام تعلیم و تربیت کو ازل سے ہی دنیا کے مختلف معاشروں اور تہذیبوں میں کلیدی اہمیت حاصل رہی ہے۔ تعلیم و تربیت کے بہترین نظاموں کے بل بوتہ پر انسانیت اپنے تجربات کو بہتر سے بہترین کی شکل دیتے ہوئے آج کائنات کی لا محدود وسعتوں پر بھی قابو پانے کی فکر میں ہے۔ کرۂ ارض کو بہترین تبدیلیوں سے روشناس کروانے میں اعلیٰ تعلیم کا نظام ہمیشہ ممدو معاون ثابت ہوا۔ چاہے سائنسی ایجادات ہوں، چاہے انسان کی بلندئ فکر، تمام تر علم و تعلیم ہی کا فیضان ہے۔ للہ الحمد! پاکستان نے بھی اکیسویں صدی میں قدم رکھتے ہی ایک مصمم ارادہ کے ساتھ تعلیم و تربیت کے نظام کو اعلیٰ منازل سے روشناس کروانے کے لیے کچھ ٹھوس اقدامات کرتے ہوئے ملک کے طول و عرض میں اعلیٰ تعلیمی نظام کو ممتاز حیثیت عطا کرتے ہوئے یونیورسٹیوں کا ایک جال بچھانے کا عزم کیا اور گذشتہ چودہ پندرہ سالوں میں نئی جامعات کے وجود میں آنے سے تعلیمی ترقی کے نئے دروا ہوئے۔ ہمیں قوی اُمید ہے کہ آئندہ چند سالوں میں ہمارے ہونہار طلبا و طالبات ملکی ترقی کے بہترین دست و بازو بنتے ہوئے عملی زندگی کے مختلف میدانوں میں قائدا نہ کردار ادا کرتے ہوئے ملک کو ایک مثبت تبدیلی سے روشناس کروانے میں کامیاب ہو نگے۔

طلبہ کسی بھی ادارہ کی اُمنگوں کے ترجمان اور قوم کی آرزؤں کے شارح ہوتے ہیں۔ جامعات علاقہ کی معاشرتی اور سماجی ترقی کا استعارہ اور علمی سرگرمیوں کا محور ہوتی ہیں۔ جامعہ گجرات بھی ایک خوبصورت انفراسٹرکچر کی حامل ایک ایسی مثالی درسگاہ ہے جس نے اس صدی کے اوائل میں جنم لیا مگر اپنی انتظامیہ کی بے پایاں محنت کی بدولت چند ہی سالوں میں پنجاب کے اعلیٰ تعلیم کے اداروں کی صف میں ایک اعلیٰ مقام بنانے میں کامیاب ہوئی۔جدید دنیا میں علم کے مروّجہ تصورات و نظریات قطعاً بدل چکے ہیں۔ اعلیٰ تعلیمی اداروں کی کاوشیں اب صرف تدریس علم تک محدود نہیں بلکہ طلبہ میں علوم سے متعلق عملی شعور کی ترویج بھی جامعات کی اہم ذمہ داری بن چکی ہے۔ جامعہ گجرات کے چھٹے کانووکیشن2017ء میں شرکت کرنے اور وہاں پر موجود طلبہ، اساتذہ اور انتظامیہ کے نمائندگان سے بات چیت کرتے ہوئے مجھے اس بات کا احساس ہوا کہ جامعہ گجرات اپنے پُر عزم وائس چانسلرپروفیسر ڈاکٹر ضیاء القیوم کی قیادت میں اعلیٰ تعلیم کا ایک مثالی ادارہ بنتے ہوئے نہ صرف با صلاحیت اور نوجوان نسل کو اعلیٰ تعلیم کی رفعتوں و پہنائیوں سے روشناس کروارہی ہے بلکہ انہیں راہِ عمل پر کامیابی سے چلنے کے لیے ایک منظم لائحہ عمل مرتب کرنے میں بھی مدد گار ہے۔

کانووکیشن کسی ادارہ کی سالانہ کامیابیوں کا ایک خوبصورت اظہار ہوتی ہے۔ کانووکیشن درحقیقت لاطینی زبان کے لفظconvocareسے مشتق ہے جو اصلاً یونانی زبان کے لفظekklesiaکا ترجمہ ہے جس کا مطلب ہے کسی کو بُلانا یا اجتماعی طورپرشرکت کرنا۔ لفظ کانووکیشن کا سرا مذہبی رسومات سے جڑا ہوا ہے کہ زمان�ۂ قدیم میں تعلیم کا سارا ربط مذہب کے ساتھ ہی جڑا ہوا تھا۔ مگر آہستہ آہستہ جب سائنس نے معاشرہ میں اپنا غلبہ حاصل کرنا شروع کیا تو اعلیٰ تعلیم کے اداروں میں دنیاوی و سائنسی علوم بھی اپنا تصرّف حاصل کر گئے اور لفظ کانووکیشن کا استعمال اعلیٰ تعلیمی اداروں کے سالانہ علمی اجتماع کے لیے ہونے لگا جس میں فارغ التحصیل ہونے والے طلبہ کو علمی اسناد سے نوازتے ہوئے انکی حوصلہ افزائی کی جاتی۔ مُسلم دنیا پر نظر دوڑائی جائے تو ہمارے وہ مدرسے جن میں دین و مذہب سے متعلقہ اعلیٰ تعلیم فراہم کی جاتی ہے وہاں پر بھی ہر سال جلسۂ دستار بندی منعقد کیا جاتا ہے۔ اسی طرح یونیورسٹیوں کی کانووکیشن کے موقع پر اسناد حاصل کرنے والے طلبہ کے لیے ہُڈ اور گاؤن کہ فضیلت علمی کی علامت ہیں ،پہن کر شرکت کرنا لازمی ہے کہ یہ علمی نشانات جلسہ عطائے اسناد کی رسم کا اہم حصہ ہیں۔

21دسمبر2017ء کی ایک رُو پہلی صبح مجھے بھی جامعہ گجرات کے جلسۂ عطائے اسناد2017ء میں بطور ناظر شرکت کرنے کا موقع نصیب ہوا۔ طلبہ کے کامیابی کے رنگوں سے دمکتے چہروں پرہزاروں مسکراہٹیں موسم بہار کی صبح کی رُو پہلی دھوپ کی طرح سجی پڑی تھیں۔ ان کے اطوارو قرینے اس بات کے عکاس تھے کہ آج اپنے علمی سفر کا ایک خوبصورت زینہ طے کرنے کے بعد انکی روحیں ایک حقیقی طمانیتِ قلب سے سرشار اور ملک و قوم کے لیے کچھ کر گزرنے کی تمنا انکے دلوں پر بسیرا کیے ہوئے تھی۔ ذہین اور باصلاحیت طلبہ کسی بھی تعلیمی ادارہ کا حُسن اور اس کے علمی اُفق پر چمکتے ہوئے ان خوبصورت ستاروں کی مانند ہوتے ہیں جو اس کی جھومر میں چاند سجانے کا باعث بنتے ہیں۔ جامعہ گجرات کے پُر ہمت اورپُر عزم وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد ضیاء القیوم اپنی انتظامی ٹیم کے ہمراہ چھٹے جلسہ عطائے اسناد2017ء کے صدرِ محفل جناب عزت مآب گورنر پنجاب و چانسلر جامعہ گجرات ملک محمد رفیق رجوانہ کا پُر شوق نظروں سے انتظار کر رہے تھے۔ گورنر پنجاب وقت کی ازحد پابندی کرتے ہوئے اپنے مقررہ وقت پر جلوس علمی کے ہمراہ پنڈال پہنچے تو تمام حاضرین محفل اور طلبا و طالبات علم و فضل کے اس عظیم الشان جلوس کے احترام میں اپنی اپنی نشستوں پر کھڑے ہو گئے۔ معزز مہمان کے اسٹیج پر جلوہ افروز ہونے کے ساتھ ہی جلسۂ عطائے اسناد کی باقاعدہ کاروائی کا آغاز کر دیا گیا۔ حسب روایت خوش گفتار ڈائریکٹرپریس ومیڈیا پبلی کیشنز جامعہ گجرات شیخ عبدالرشید نے نظامت کے فرائض سنبھالتے ہوئے انتہائی کامیابی کے ساتھ کانووکیشن کی تمام کاروائی کو پایۂ تکمیل تک پہنچایا۔ جلسۂ عطائے اسناد2017ء کے رسمی آغاز کے لیے وائس چانسلر نے چانسلر جامعہ گجرات سے اجازت طلب کی۔ تقریب کا آغاز تلاوت کلام پاک اور نعت رسول مقبول ؐ سے ہوا۔

جامعہ گجرات اس وقت تقریباً اُنتیس ہزار طلبا و طالبات کو مختلف شعبہ جات میں اعلیٰ تعلیم کے نور سے منور کر رہی ہے۔ اس وقت جامعہ گجرات میں چھ فیکلٹیز فیکلٹی برائے آرٹس، فیکلٹی برائے کمپیوٹنگ و انفارمیشن ٹیکنالوجی، فیکلٹی برائے انجینئرنگ و ٹیکنالوجی، فیکلٹی برائے مینجمنٹ و ایڈمنسٹر یٹو سائنسز ، فیکلٹی برائے سائنس ، فیکلٹی برائے سوشل سائنس کے علاوہ سکول برائے آرٹ، ڈیزائن و آرکیٹیکچر اور نواز شریف میڈیکل کالج اعلیٰ تعلیمی مقاصد کے حصول کے لیے اپنی خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔یہاں پر یاد رہے کہ جامعہ گجرات کے اس چھٹے جلسۂ عطائے اسناد میں جامعہ گجرات کے مختلف شعبہ جات بشمول نواز شریف میڈیکل کالج گجرات کے2011-2016ء کے سیشن کے کامیاب طلبا و طالبات کو اسناد و اعزازات سے نوازا گیا۔ تعلیمی سیشن2016ء کے تقریباً3600طلبا و طالبات کو چانسلر جامعہ گجرات و گورنر پنجاب ملک محمد رفیق رجوانہ نے اسناد عطا کیں۔ علاوہ ازیں 76کے قریب طلبا و طلبات کو بہترین تعلیمی کارکردگی دکھانے پر گولڈ میڈل کا حقدار ٹھہرایا گیا۔ تقریب کے مہمان اعزاز ی میں وائس چانسلرسرگودھا یونیورسٹی ڈاکٹر اشتیاق احمد، وائس چانسلر ویمن یونیورسٹی باغ آزاد کشمیر ڈاکٹر محمد حلیم خاں اور چیئر مین فیڈرل بورڈ ڈاکٹر محمد اکرام ملک شامل تھے۔ گورنر پنجاب ملک محمد رفیق رجوانہ اور ڈاکٹر ضیاء القیوم نے طلبا وطالبات میں گولڈ میڈل تقسیم کیے۔ اس موقع پر رجسٹرارڈاکٹر طاہر عقیل اور کنٹرولر امتحانات پروفیسر ڈاکٹر محمد دانش نے انکی معاونت کی۔ جامعہ گجرات کے چھٹے کانووکیشن میں ڈین، ڈائریکٹروں، صدور و چیئر پرسن شعبہ جات، اساتذہ و طلبہ کے علاوہ طلبہ کے والدین ، سول سوسائٹی کے اراکین، صحافیوں، ضلعی انتظامیہ کے اراکین، ڈپٹی کمشنر محمد علی رندھاوا، ڈی پی او جہانزیب خاں، اراکین صوبائی اسمبلی میجر ریٹائرڈ معین نواز وڑائچ،، حاجی عمران ظفر،مختلف کالجوں کے ڈائریکٹر کیمپس اور پرنسپلوں سمیت سول سوسائٹی کے نمائندوں، صحافی برادری اور والدین نے شرکت کی۔

گورنر پنجاب و چانسلر جامعہ گجرات ملک محمد رفیق رجوانہ نے جامعہ گجرات کے چھٹے جلسہ عطائے اسناد کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نظام تعلیم و تربیت کا مقصود انسانی طرزِ احساس میں مثبت تبدیلی ہے۔ سماجی تطہیر کے لیے خود احتسابی لازم امر ہے۔ پاکستان کو کئی مسائل کا سامنا رہا ہے مگر مایوسیوں کے سمندر میں اُمیدوں کے جزیرے بستے رہتے ہیں۔ مایوسی، منفی پراپیگنڈہ اور غیر مثبت روّیوں سے نجات حاصل کرتے ہوئے ہمیں مثبت تنقید کے ذریعے معاملات کو بہتر بنانے کی از حد ضرورت ہے۔ اظہارِ رائے ہر شخص کا بنیادی حق ہے مگر اس حق کو استعمال کرتے ہوئے دوسروں کے جذبات و احساسات کا خیال رکھنا لازم ہے۔ موجودہ حکومت وفاقی اور صوبائی دونوں سطح پر بے پناہ وسائل مہیا کرتے ہوئے قومی ترقی کے نئے دروا کر رہی ہے۔ گورنر پنجاب ملک محمد رفیق رجوانہ نے مزید کہا کہ پاکستان کا قیام لاکھوں لوگوں کی قربانیوں کا ثمر ہے۔ ہمارے ذہین و محنتی طلبہ پاکستان کا روشن مستقبل اور پائیدار ترقی کی امید و آس ہیں۔ دورِ حاضر کے تقاضوں کے پیش نظر ہمارے طلبہ کے کندھوں پر ایک بھاری ذمہ داری عائد ہے۔جامعہ گجرات کی علمی و تعلیمی ترقی پر میں ڈاکٹر ضیاء القیوم کے حسنِ انتظام کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔جامعہ گجرات کے چھٹے کانووکیشن2017ء کے موقع پر وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ضیاء القیوم نے اپنے تعارفی خطاب میں جامعہ گجرات کی گذشتہ کارکردگی اور آئندہ امکانات پر تفصیلی روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ عالمگیریت کے دورِحاضر میں علم و تعلیم کوتخصیصی اہمیت حاصل ہے۔ اعلیٰ تعلیم کو پاکستان کے قومی بیانیہ میں اہم مقام حاصل ہے۔جامعہ گجرات اپنے طلبہ و اساتذہ میں علمی تحقیق کے مختلف پہلوؤں کو اُجاگر کرتے ہوئے ایک اہم فریضہ کی انجام دہی میں مصروف ہے۔ تعلیمی حوالہ سے پاکستان کا مستقبل نہایت روشن ہے اور ہماری تمام تر توجہ اپنے طلبہ میں عملی صلاحیتوں کے فروغ پر مرکوز ہے۔ دورِ حاضر میں قوموں کی علمی ترقی ہی انکی سیاسی، سماجی، معاشی اور معاشرتی حیثیت متعین کرنے کا پیمانہ ہے۔ جامعہ گجرات کی انتظامیہ طلبا و طالبات میں معیاری تعلیم کے فروغ کے لیے ہر اس کوشش کو بر سر عمل لا رہی ہے جو ملک عزیز پاکستان کی معاشی و سماجی بنیادوں کو مضبوط کرتے ہوئے انہیں سماجی خدمت وقیادت کے جذبہ سے مامُور کر دے۔ جامعہ گجرات نے مستحق طلبہ کی مالی امداد کے لیے انڈومنٹ فنڈ اور طلبہ میں انٹر پرینئرشپ کے فروغ کے لیے بزنس انکوبیشن سنٹر کا قیام عمل میں لایا ہے۔ جامعہ گجرات کی انتظامیہ داخلوں اور ملازمتوں میں میرٹ کو اپناتے ہوئے تعلیمی معیار میں بہتری لانے میں مصروف عمل ہے۔ جامعہ گجرات کا ORICاور مرکز برائے السنہ و علوم ترجمہ اپنی بیش قیمت سرگرمیوں کے ذریعے پاکستان کے سماجی اُفق پر مثبت تبدیلیوں کے حصول کے لیے ہر لمحہ کوشاں ہیں۔ ڈاکٹر ضیاء القیوم نے جامعہ گجرات کے مختلف مسائل کا ذکر کرتے ہوئے حکومت پنجاب سے استدعا کی کہ وہ اپنا دست تعاون دراز کرتے ہوئے جامعہ گجرات کو ایک بہترین تعلیمی ادارہ بنانے کے عمل میں اپنے حصہ کا ہاتھ بٹائے تاکہ طلبا و طالبات کو مزید سہولیات سے مستفید کیا جا سکے۔ علاوہ ازیں گورنر پنجاب ملک محمد رفیق رجوانہ نے جامعہ گجرات میں حال ہی میں اساتذہ کے لیے تعمیر ہونے والے12اپارٹمنٹس کا افتتاح کیا اور مزید12اپارٹمنٹس کی تعمیر کا سنگ بنیاد رکھا۔ ان اپارٹمنٹس کی تعمیر کا مقصد اساتذہ کو بہتر رہائشی سہولیات فراہم کرتے ہوئے ان کی استعداد کار کو بہتر بنانا ہے۔ گورنر نے جامعہ گجرات میں جاری تدریسی سرگرمیوں پر خوشی اور اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ طلبہ کو تعلیم کے ساتھ ساتھ سماجی شعور و تربیت سے بہرہ کرنا یقیناًجامعہ گجرات کی ایک بیش بہا خدمت ہے۔ بعد ازاں گورنر پنجاب نے جامعہ گجرات میں حال ہی میں تعمیر ہونے والے صادقین بلاک کا افتتاح کیا اور وہاں پر SADAکے طالب علموں کی جانب سے بنائی گئی تصاویر اور دیگر فن پاروں کا معائنہ کرتے ہوئے طلبہ کی تخلیقی کاوشوں کو سراہا۔ملک محمد رفیق رجوانہ نے جامعہ گجرات میں حبیب بنک لمیٹڈ کی نئی قائم ہونے والی برانچ کا بھی افتتاح کیا۔ تقریب کے اختتام پر مہمان خصوصی و مہمانانِ گرامی نے یونیورسٹی آف گجرات کی انتظامیہ اور کانووکیشن منتظمین کے حُسنِ انتظام کو خوب سراہا۔

۔۔۔۔۔۔***۔۔۔۔۔۔

مزید : ایڈیشن 1