امریکی دھمکیاں اور جماعۃالدعوۃ کیخلاف کاروائی

امریکی دھمکیاں اور جماعۃالدعوۃ کیخلاف کاروائی
 امریکی دھمکیاں اور جماعۃالدعوۃ کیخلاف کاروائی

  

امریکی صدر نے رواں سال کی پہلی ٹویٹ میں پاکستان کیخلاف گمراہ گن الزامات لگائے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ پاکستان نے تو امریکیوں کی طرف سے شروع کر دہ نام نہاد دہشت گردی کی جنگ کا حصہ بن کرخود اپنا بہت نقصان کیاہے۔ ہزاروں کی تعداد میں افواج پاکستان، رینجرز، پولیس اور دیگر اداروں سے وابستہ اہلکاروں سمیت عام لوگوں کی شہادتیں ہوئیں۔

ایک ایک دن میں کئی کئی دھماکے ہوئے اور بے گناہوں کاخون بہایا جاتا رہا۔ پاکستان کو 130ارب ڈالرسے زیادہ مالی نقصان ہوا، مگر ٹرمپ یہ کہہ کر احسان جتلا رہے ہیں کہ ہم نے پاکستان کو تینتیس ارب ڈالر کی امداد دی ہے اس لئے وہ ہمارے ساتھ بھرپور تعاون کرے۔

افغانستان کی جنگ میں ہماری زمین، سڑکیں اور فضائیں استعمال کی گئیں۔ اس جنگ کی وجہ سے جس قدر ہمارا نقصان ہوا ہے امریکہ کی جانب سے دی گئی رقم تومحض اونٹ کے منہ میں زیرہ کے مترادف ہے۔ ویسے بھی امریکہ نے ا س دورانیے میں پاکستان کو اگر کچھ دیا ہے توکسی پر کوئی احسان نہیں کیا۔اس رقم سے تو ہماری سڑکوں کا ہونے والا نقصان پورا نہیں ہو سکتا۔

ضرور پڑھیں: اسد عمر کی چھٹی

نائن الیون کے بعد پاکستانی حکمرانوں نے جب نام نہاد دہشت گردی کیخلاف جنگ میں امریکہ کا اتحادی بننے کا فیصلہ کیا تو محب وطن حلقوں کی جانب سے اس وقت ہی کہا گیا تھا کہ آپ یہ غلطی نہ کریں ۔

امریکہ بظاہر پاکستان سے دوستی کی بات کرتا ہے ،لیکن درحقیقت وہ بھارت کا فطری اتحادی ہے اور وہ پاکستان کو نقصان پہنچانے کا کوئی موقع ضائع نہیں کرے گا اور پھر یہی کچھ ہوا ہے۔

جب تک امریکہ کو اپنا مطلب تھا وہ برداشت کرتا رہا ،تاہم پوری فوجی قوت جھونکنے اور تمام تر وسائل استعمال کرنے کے باوجود اسے جب افغانستان میں بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے تو اس نے سارا ملبہ پاکستان پر ڈالتے ہوئے دھمکی آمیز رویہ اختیار کر لیا ہے۔

پہلے ہرزہ سرائی کرتے ہوئے کہا گیا کہ جب امریکہ شراکت داری قائم رکھنا چاہتا ہے تو وہ پاکستان میں بھی ان گروہوں کیخلاف کاروائی دیکھنا چاہے گا جو اس کے مفادات کو نقصان پہنچارہے ہیں۔

پاکستان ہر سال واشنگٹن سے ایک بڑی رقم وصول کرتا ہے اس لئے وہ امریکہ کی امداد کا پابند ہے۔گزشتہ ماہ امریکی نائب صدر مائیک پنس کی جانب سے بیان سامنے آیا جس میں کہا گیا کہ امریکی صدرنے اسلام آباد کو ’’نوٹس‘‘پر رکھ لیا اور خبردار کیا ہے کہ پاکستان دہشت گردوں اور مجرموں کو پناہ دینا چھوڑ دے وگرنہ اسے بہت کچھ کھونا پڑے گا ۔

امریکہ کی یہی وہ دھمکیاں تھیں،جس پر پاکستان کی عسکری قیادت نے بھی دوٹوک موقف اختیار کیا اور واضح طور پر کہاکہ پاکستان نے بہت کچھ کر لیا اب ڈومور امریکہ کو کرنا ہو گا۔

جماعۃالدعوۃ کے سربراہ حافظ محمد سعید نے 2017ء کوکشمیر کے نام کرنے کا اعلان کیا تو انہیں نظربند کر دیاگیا،جس پر انہیں دس ماہ بعد لاہور ہائی کورٹ کے فیصلہ کے نتیجہ میں رہائی ملی۔ اب ایک بار پھر جب سال 2018ء کے آغاز پر انہوں نے کشمیریوں پر بھارتی مظالم اجاگر کرنے اور مقبوضہ بیت المقدس کی آزادی کے لئے ملک گیر تحریک شروع کرنے کا اعلان کیا تو انڈیا کے شدید پروپیگنڈا اور امریکی دباؤ پر اب جماعۃالدعوۃ اور ایف آئی ایف کی ایمبولینسیں قبضہ میں لینے کی باتیں شروع کر دی گئی ہیں۔ حافظ محمد سعید کو نظربند کرتے وقت کہا گیا تھا کہ ہم اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کے لئے یہ اقدامات اٹھا رہے ہیں۔ یہ سب معاملات لاہور ہائی کورٹ میں زیر بحث رہے اور پھر اعلیٰ عدلیہ نے واضح طور پر یہ فیصلہ دیا کہ جماعۃالدعوۃ کے سربراہ اور ان کے دیگر ساتھیوں پرلگائے گئے الزامات درست نہیں ہیں۔ہائی کورٹ نے اپنے فیصلہ میں اس امر کی بھی وضاحت کر دی ہے کہ جماعۃالدعوۃ اور لشکر طیبہ دو الگ الگ تنظیمیں ہیں، لیکن صورت حال یہ ہے کہ حکومت جب چاہتی ہے جماعۃالدعوۃ اور فلاح انسانیت فاؤنڈیشن کو لشکر طیبہ کا حصہ قرار دیکر اس کیخلاف اقدامات اٹھانا شروع کر دیتی ہے۔ فلاح انسانیت کی ایمبولینسیں ، مدارس اور دیگر اثاثے حکومت کی طرف سے تحویل میں لینے اور فنڈز جمع کرنے کی خبروں پر پاکستانی قوم میں سخت تشویش پائی جاتی ہے۔

وزیر داخلہ احسن اقبال کا یہ کہنا کہ فلاح انسانیت اور جماعۃالدعوۃ کیخلاف کاروائی امریکی دباؤ پر نہیں کی جارہی ‘ درست نہیں ہے۔ جماعۃالدعوۃ کے ترجمان یحییٰ مجاہد نے کہا ہے کہ اگر حکومت بھارتی و امریکی دباؤ پر ان کی جماعت کیخلاف کوئی کاروائی کرتی ہے تو وہ عدالتوں میں جائیں گے اور بھرپور قانونی جنگ لڑیں گے۔ عدالتوں میں جانا ان کا قانونی حق ہے اور ماضی کی طرح اب بھی اللہ تعالیٰ انہیں ان شاء اللہ ضرور سرخرو کرے گا۔

مزید : رائے /کالم