نہ سمجھو گے تو مٹ جاؤ گے؟

نہ سمجھو گے تو مٹ جاؤ گے؟
 نہ سمجھو گے تو مٹ جاؤ گے؟

  

’’بے شک انسان خسارے میں ہے‘‘ اور ’’یہ لوگ قرآن میں غور کیوں نہیں کرتے؟‘‘ یہ دونوں فرمان الگ الگ ہیں تاہم یہاں نقل کرنے کا مقصد یہ ہے کہ آج کے جدید تر سائنسی دور میں بھی حقیقت کی طرح واضح اور ثابت ہورہا ہے کہ رشد و ہدائت کی کتاب مقدس میں جو کچھ فرمایا گیا وہی درست ہے، اپنے چاروں طرف دیکھ لیں تو جو بھی معاشرتی امور ہیں، جو دنیاوی، سماجی اور سیاسی رشتے اور امر ہیں ان سب میں بالا آخر انسان ہی ہیں جو خسارے میں رہتے ہیں اور یہ سب خود انسانی ہاتھوں ہی سے ہوتا ہے، جہاں تک قرآن میں غور نہ کرنے والوں کا معاملہ ہے تو یہ ہم مسلمانوں کی ہدائت کے لئے ہے، جو واقعی قرآن میں غور نہیں کرتے، اس سلسلے میں ہماری جامع مسجد جہاں ہم جمعہ پڑھتے ہیں وہاں یہ اہتمام کیا گیا ہے کہ ترجمہ والے قرآن مجید رکھے گئے ہیں، نوٹس بھی لگایا گیا ہے کہ ترجمے والے قرآن مجید دفتر میں دستیاب ہیں اور کہا گیا ہے کہ قرآن شریف کو ترجمے کے ساتھ پڑھیں، مشاہدہ یہ ہے کہ لوگ مستفید تو ہورہے ہیں تاہم تعداد قلیل ہے حالانکہ ایسی سہولت سے فائدہ اٹھانا چاہئے جو نہیں اٹھایا جاتا۔

یہ آج اس لئے لکھا کہ دل دکھ گیا، پوری دنیا میں اگر کوئی نقصان میں ہے تو وہ انسانیت ہے یوں یہاں ’’دیتے ہیں دھوکا یہ بازی گرکھلا‘‘ والی بات ہے کہ دنیا میں انسانی حقوق اور انسانیت کا چیمپئن ہونے کا دعویدار امریکہ آج دنیا بھر میں انسانیت ہی کا دشمن ہوا بیٹھا ہے اس کے صدر ٹرمپ کو ایران میں ہونے والے مظاہرے تو درست نظر آتے ہیں اور ان کو روکنے والی ایرانی حکومت انسانی حقوق پامال کررہی ہے اس ٹرمپ کو ایسا کہتے وقت مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم اور فلسطینیوں پر اسرائیلی تسلط اور ظلم نظر نہیں آتا، یہی امریکہ مشرق وسطیٰ میں قتل عام کا ذمہ دار ہے اور اب ہاتھ دھو کر پاکستان اور ایران کے پیچھے پڑا ہوا ہے، ایران میں ہونے والے مظاہروں کی تو کھلم کھلا تائید و حمائت کردی ہے، جبکہ پاکستان پر الزام تراشی کے بعد اب امداد بھی روکی جارہی ہے۔

ان حالات میں پاکستان اسے دھمکی تصور کررہا ہے اور اپنے اپنے طور پر سبھی اس کی مذمت بھی کررہے ہیں۔ سب کا موقف قومی ہے تاہم اسے جس طرح اجاگر ہونا چاہئے نہیں ہوا، کہا جارہا ہے کہ 1965ء والا جذبہ کارفرما ہے لیکن عملاً ایسا نہیں،6ستمبر1965ء کو تو اس وقت کی متحدہ اپوزیشن (DAC) نے فوری فیصلہ کیا اور خود جاکر ایوب خان کی حمائت کی اور پوری قوم نے یک زبان متحد ہو کر ثابت کردیا کہ پوری قوم ایک ہے، ایک ہے ایک ہے۔

اس سلسلے میں ہم نے بارہا قومی راہنماؤں کی توجہ اس طرف مبذول کرائی لیکن صدا بصحرا ثابت ہوئی، ہم نے 1965ء کی مثال دی اور بتایا کہ اپوزیشن چل کر گئی تھی اور پھر محمد خان جونیجو کی کل جماعتی کانفرنس کا بھی ذکر کیا اور گزارش کی تھی کہ حکومت کو پیش قدمی کرنا چاہئے اور خود کل جماعتی کانفرنس بلانے کا اہتمام کرنا چاہئے اور اب تو اور بھی ضروری ہوگیا کہ ایسا ہو، یہ درست کہ قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس ہوا تاہم ابھی تک اپوزیشن سے رابطے نہیں کئے گئے یہ بھی عیاں ہے کہ حزب اقتدار ہویا حزب اختلاف سب نے باری باری امریکی صدر کے روپے کی اپنے اپنے طور پر مذمت کی اور قومی وحدت کا بھی اعلان کیا ہے تاہم بے حد اصرار کے باوجود ایسے کوئی آثار نظر نہیں آرہے کہ اس سلسلے میں مشاورت ہو، اتفاق وہدائت کا مظہر بن جائے اور پوری قوم کا موقف سامنے آئے، لیکن یہاں ایسا نہیں ہورہا اور انسان خود خسارے میں رہنے کے اسباب پیدا کررہا ہے حالانکہ موجودہ معروضی حالات میں اپوزیشن اور حکومت کو مل کر مشترکہ جدوجہد کا اعلان کرنا چاہئے۔ ورنہ یاد رہے کہ یہ ٹرمپ دوسرا دجال ہے اور اسے معنوی اعتبار ہی سے چھوٹا دجال کہا جارہا ہے اور یہ خوبصورت سا فقرہ بالکل ٹھیک بیٹھا ہے، ایسے میں تو پوری مسلم امہ کو اتفاق اور ہدائت کا اعلان کرناہوگا۔

جہاں تک نہ سمجھنے والی بات ہے تو یہ شکائت ملی ہے کہ قدرتی اور آسمانی آفات کے باوجود سمجھا نہیں جارہا۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق مغرب میں بھی غیر معمولی بارشوں اور سمندری طوفانوں نے ڈیرہ ہی لگا لیا، جبکہ برف باری بھی غیر معمولی طور پر ہو رہی ہے، یہ کہا جاتا ہے کہ انسانی ہاتھوں ہی سے موسمی تغیرات پیش آرہے ہیں بلکہ جب ان کو قدرتی آفات کہا جاتا ہے تو پھر غور کرنے کی بھی ضرورت ہے، پیش آمدہ حالات کے بارے میں چودہ سوسال پہلے آگاہ کیا گیا تھا، اس وقت کون سا نظام تھا کہ تحقیق کرکے بتادیا جائے۔

آج کے دور میں اتنا جدید علم ہے کہ موسمیاتی تغیرات کا بھی حوالہ دیا جاتا ہے لیکن یہ امر بھول جاتا ہے کہ یہ سب قیامت کی نشانیوں میں سے ہے ہم نے اس سلسلے میں ڈاکٹر علی سراج سے سوال کیا کہ کیا جو پیش گوئیاں کی گئیں وہ سوفیصد پورا ہونے کے لئے تھیں یا پھر ان کو پیشگی وارننگ بھی تصور کیا جاسکتا ہے ان کا جواب تھا بے شک جو کہا وہ پورا ہوگا لیکن یہاں یہ امر بھی غور طلب ہے کہ ان فرامین کو پیشگی اطلاع بھی تصور کیا جاسکتا ہے اور ان باتوں اور اعمال سے گریز کیا جاسکتا ہے جن کی وجہ سے یہ سب پیش آرہاہے، ورنہ یہ بھی تو ایک حقیقت ہے کہ قیامت آئے گی، یہ دنیا یہ پہاڑ روئی کے گالوں کی طرح اڑ جائیں گے، جدید سائنس ہی کے نظریئے کو لیں تو کشش ثقل کے فارمولے کے مطابق اگر یہ دنیا کسی بھی بڑے دھماکے کی وجہ سے اپنے محور سے بہت ہی خفیف طور پر سہی ہٹی تو ایک دم اس طرف انتہائی تیز رفتاری سے جائے گی( زمین بھی سیارہ ہے)جدھر کی کشش زیادہ ہوگی کہ خلا میں اسی طرح پھٹے گی جیسے کہا گیا کہ روئی کے گالوں کی طرح، اب قرآن پڑھنے والوں کو تو یہ سمجھنا چاہئے اور غور کرنا چاہئے کہ اس کرہ ارض پر کیا ہورہا ہے۔

مسلمانوں کو غور و فکر کرکے ہی اپنا لائحہ عمل مرتب کرنا چاہئے، ورنہ یہ ٹرمپ تو چھوٹا دجال ہی ہے پھر گزارش ہے کہ کس نے کیا کیااس پر بات ہونا چاہئے لیکن یہ وقت نہیں اس وقت تو مثالی اتحاد کا مظاہرہ ضروری ہے اور حکمرانوں کو بھی اس کا اہتمام کرنا چاہئے۔

مزید : رائے /کالم