سیاسی اشرافیہ چیلنجوں سے بے خبر کیوں؟

سیاسی اشرافیہ چیلنجوں سے بے خبر کیوں؟
 سیاسی اشرافیہ چیلنجوں سے بے خبر کیوں؟

  


مجھے پورے ملک میں سے کوئی ایک بھی ایسا بندہ تلاش کردیں جو یہ کہہ سکے کہ اُسے سمجھ آگئی ہے، اس وقت ملک میں کون کیا کررہا ہے؟ یا کیا ہورہا ہے؟ ہر طرف جھوٹ اور مکروفریب کی چادر تنی ہے، جس کے پیچھے کیا ہے، کسی کو کچھ معلوم نہیں۔

سامنے کے واقعات کو بھی اس طرح چھپادیا جاتا ہے کہ اُن کا سرا تک نہیں ملتا۔ جب ملک کے لیڈر ایک دوسرے پر جھوٹ میں ڈوبے تیروں کی بارش کرتے ہوں تو سچ کیسے سامنے آئے؟ قومیں سچ کے ساتھ زندہ رہتی ہیں، یہاں سچ بولنے کو شکست سمجھا جاتا ہے۔

گردوغبار میں اٹا یہ سیاسی منظر نامہ قوم کو تسلی یا یقین کیسے دے سکتا ہے؟ ایسے وقت میں جب دشمنوں کی نظریں ہم پر جمی ہیں اور وہ موقع کی تاک میں ہیں، ہمارے اندر عجیب قسم کی بے یقینی اور انتشار موجود ہے۔ یہاں ایک دوسرے کو لاڈلا ثابت کرنے کی دوڑ لگی ہوئی ہے۔

ارے بابا یہ لاڈلا ہوتا کیا ہے؟ کیسے بنتا ہے؟ کون بناتا ہے؟ عوام کو تو یہاں ہر بالا دست لاڈلا نظر آتا ہے، جس پر کوئی ہاتھ نہیں ڈال سکتا۔ ایسی باتیں کیوں کی جارہی ہیں، جن سے ملک میں موجود نظام کے حوالے سے مزید بے یقینی پھیلے؟

کیا مضحکہ خیز صورت حال ہے جسے عدالت سے ریلیف مل جائے وہ لاڈلا کہلاتا ہے اور جسے نہ ملے وہ دوسرے کو لاڈلا ہونے کے طعنے دیتا ہے۔ اس کا مطلب ہے، وہ لاکھوں افراد جو اس وقت جیلوں میں بند ہیں، وہ بھی یہ کہنا شروع کردیں کہ ہم چونکہ لاڈلے نہیں، اس لئے جیلوں میں پڑے ہیں، جو لاڈلے ہیں وہ آزاد گھوم رہے ہیں۔

اب شریف برادران سعودی عرب سے واپس آئے ہیں تو ایک نئی بحث شروع ہوگئی ہے۔ کیا انہیں کوئی این آر او مل گیا ہے، کیا وہ آنے والے دنوں میں خاموشی سے مقدمات اور مشکل صورت حال کی گرفت سے نکل جائیں گے، ایسا کب اور کیسے ہوگا، اس کا توکسی کو بھی کچھ علم نہیں، شاید اس کی وجہ اس دورے کی پُراسراریت ہے۔

طرح طرح کی چہ میگوئیاں جاری ہیں، مخالفین اپنی دور کی کوڑی لارہے ہیں اور حامیوں کی اپنی کہانیاں ہیں۔ حیرت ہے کہ ایک آزاد ملک میں اس طرح بھی سوچا جاتا ہے؟ مریم نواز شریف اس بات پر فخر کررہی ہیں کہ نواز شریف کو پاکستان بھیجنے کے لئے شاہی طیارہ دیا گیا، جبکہ شہباز شریف تو گئے اور آئے ہی سعودی طیارے پر ہیں، لیکن کیا یہ کوئی فخر کی بات ہے، کیا پاکستان میں طیاروں کی کمی ہے، کیا پہلے شریف برادران سعودی عرب نہیں جاتے تھے؟

کیا پہلے بھی اُن کے لئے طیارے آتے تھے۔ آخر ایسا کیا ہوا ہے کہ یہ سب اہتمام کیا گیا، اب اصولاً تو شریف برادران کا فرض بنتا ہے کہ وہ اس بارے میں قوم کو سب کچھ بتائیں تاکہ چہ میگوئیوں کا خاتمہ ہوسکے، لیکن ایسا وہ ہرگز نہیں کریں گے، کیونکہ سچ سامنے لانا انہیں بھی گوارا نہیں اور پھر یہ بھی ہوسکتا ہے کہ سچ اُن کے مفاد میں بھی نہ ہو۔ پاکستان کو چوں چوں کا مربہ تو خود ہماری لیڈر شپ نے بنارکھا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کی بڑھکیں اپنی جگہ، مگر ہمارے اندر وہ اتحاد کہاں ہے، جو ایک بدمست ہاتھی کے حملوں سے بچنے کے لئے ضروری ہوتا ہے؟ یہاں تو حقیقت دوسری طرف سے سامنے آتی ہے، ہم تو اس پر پردہ ڈالے رکھتے ہیں۔

33ارب ڈالرز امداد کا تذکرہ تو ڈونلڈ ٹرمپ نے کیا ہے ، ہم نے تو قوم کو کبھی اس کا حساب کتاب نہیں دیا۔ نہ ہی کوئی ایسی بیلنس شیٹ بنائی ہے، جس میں امریکہ کو بتایا جاتا کہ تم نے جو امداد دی وہ کہاں خرچ ہوئی اور جو ہمارا نقصان ہوا، وہ کتنا تھا؟ ٹرمپ کی باتوں سے تو یہی لگ رہا ہے کہ امریکی ہمیں دھوکے باز سمجھتے ہیں، جو اربوں ڈالرز کھا گئے اور کیا کچھ بھی نہیں۔

امریکہ نے ایک ایسے وقت میں ہم پردباؤ ڈالنا شروع کیا ہے، جب ملک انتخابات کی طرف بڑھ رہا ہے۔کیا اس کا بھی کوئی مقصدہے، کیا پھر امریکہ اس حوالے سے کوئی کھیل کھیلنا چاہتا ہے، کیا اس دباؤ کا مقصد پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کو بھی دباؤ میں لانا ہے، کیا فوج نے جو بیانیہ اختیار کیا ہے اور جمہوریت سے کمٹ منٹ، نیز امریکی جنگ کا حصہ نہ بننے کے حوالے سے اس نے جو دو ٹوک موقف اختیار کیا ہے، امریکیوں کے لئے وہ قابل قبول نہیں؟ ایسے نجانے کتنے سوال ہیں، مگر ہمارے اندر شکوک و شبہات کی ایک نہ ختم ہونے والی لہر موجود ہے۔

سول و عسکری قیادت ساتھ بیٹھ کر بھی کوئی فیصلہ کرے تو شبہات ختم نہیں ہوتے۔ نواز شریف ایک خاص ڈگر پر چل رہے ہیں، وہ نا اہل ہونے کے بعد اپنی ذات کے حصار میں بند ہوچکے ہیں۔ وہ اس سوال کی گردان نہیں چھوڑ رہے کہ مجھے کیوں نکالا؟ حالانکہ اب یہ قصہ پرانا ہوچکا ہے اور ملک کو کئی نئے چیلنج درپیش ہیں، عملاً حکومت آج بھی وہی چلا رہے ہیں، اس لئے انہیں حالات پر نظر رکھنی چاہئے۔ پاکستان موجودہ حالات میں کسی عدم استحکام کا متحمل نہیں ہوسکتا، اس لئے فی الوقت نواز شریف کے لئے تحریک عدل کی گنجائش ہے اور نہ ہی سیاسی افراتفری کا ماحول پیدا کرنے کی، لیکن وہ بضد ہیں کہ اس سوال کا سڑکوں پر جواب لے کر رہیں گے کہ انہیں وزارتِ عظمیٰ سے کیوں معزول کیا گیا؟

وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ سڑکوں پر اس سوال کا جواب ممکن ہی نہیں، اس کے باوجود سیاسی فوائد کے لئے وہ یہ بیانیہ اختیار کررہے ہیں، جو اس ماحول میں جب خطے کے حالات میں کشیدگی ہے، ایران بھی امریکی نشانے پر آگیا ہے، جبکہ پاکستان کو دبانے کے لئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ لٹھ بردار شخص بن کر سامنے آگئے ہیں، بالکل بھی غیر مناسب ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان میں حالات کو بہتر بنانے کے لئے نواز شریف اپنی حکومت اور فوج کے ہاتھ مضبوط کریں، مگر اس کی بجائے وہ کچھ اور کرنے جارہے ہیں۔

آپ ذرا ایران کی صورت حال پر ڈونلڈ ٹرمپ کے ٹویٹ دیکھیں، وہ کتنا خوش ہورہے ہیں، ان کا یہ کہنا کس قدر سفاکانہ ہے کہ ایرانی عوام آزادی کے لئے اپنی حکومت کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔

ضرور پڑھیں: ڈالر مہنگا ہو گیا

کسی دوسرے ملک کا حکمران یہ بات کیسے کہ سکتا ہے، کیا یہ صریحاً مداخلت نہیں؟ مگر ایسی مداخلتیں تو امریکہ ہمیشہ کرتا آیا ہے۔ امریکی سی آئی اے چنگاری کوشعلہ کیسے بناتی ہے، اس کا مظاہرہ ایران میں جاری ہے۔

مہنگائی کے مسئلے پر شروع ہونے والے مظاہرے اب حکمرانوں کی تبدیلی کے مطالبے تک آگئے ہیں اور دو درجن سے زائد انسانی جانیں بھی ضائع ہوچکی ہیں۔ یہ کام امریکہ نے اس سے پہلے عراق، لیبیا اور مصر میں بھی کیا ہے۔

یہ بہت پرانی چال ہے کہ سی آئی اے اپنے ایجنٹوں کے ذریعے کسی بھی ملک میں انتشار پھیلا دیتی ہے، اگر اس ملک کے عوام اور حکمران نیز ان کی فوج متحد نہیں تو پھر سمجھو کہ وہ ایک دوسرے کے سامنے آکھڑے ہوں گے۔

کیا خیال ہے امریکہ کی یہ کوشش نہیں ہوگی کہ پاکستان میں بھی ایسے حالات پیدا کئے جائیں تاکہ اسے کمزور کرکے اپنے مقاصد حاصل کئے جاسکیں۔ کیا ایسی شورشیں یہاں برپا نہیں ہورہیں کہ جنہیں تدبیر سے ختم کرنے کے فیصلے نہ ہوتے تو امریکہ انہیں اپنے مقصد کے لئے استعمال کرلیتا۔ کیا فیض آباد کا دھرنا ایک خوفناک رخ اختیار نہیں کررہا تھا، اگر فوج کی مداخلت سے اس کے شعلوں پر پانی نہ ڈال دیا جاتا تو یہ آگ شہر شہر اور گلی گلی نہیں پہنچ گئی تھی۔

پورا ملک بند ہوگیا تھا اور ملک خانہ جنگی کے دھانے پر آکھڑا ہوا تھا۔ یہ مسلکی آگ اگر پھیل جاتی تو کچھ بھی نہیں بچنا تھا۔ ہمیں اس بات پر اطمینان کا اظہار کرنا چاہیے کہ فوج ہمارا منظم ادارہ ہے اور لوگ اُس پر اعتبار بھی کرتے ہیں۔ جنرل قمر جاوید باجوہ کا یہ فیصلہ آج سمجھ آرہا ہے کہ کتنا بروقت تھا کہ دھرنے والوں کے خلاف فوج طاقت کا استعمال نہیں کرے گی، اگر یہ ہوجاتا تو پھر عوام اور حکومت کے درمیان کس طاقت نے خونریزی کو روکنا تھا؟ دوسرے لفظوں میں فوج کی جس ثالثی کو دھرنے والوں نے تسلیم کیا، وہ کہاں باقی رہنی تھی۔

ذرا بھارتی میڈیا کے اُن تبصروں کو تو یوٹیوب پر سنیں، جو اُس نے ٹرمپ کے ٹویٹ پر کئے اور ٹرمپ سے بھی زیادہ بے ہودہ الفاظ میں پاکستان کو جھوٹا اور مکار ملک کہا۔

یہ بھی کہا کہ امریکہ نے پاکستان کو پوری دنیا میں ننگا کر دیا ہے اور اب دنیا بھارت کے اس موقف کو درست سمجھنے پر مجبور ہوجائے گی کہ پاکستان بھارت اور افغانستان میں دہشت گردوں کی حمایت کررہا ہے۔

اس سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ بھارت کا ہر طبقہ پاکستان کو رتی بھر رعایت دینے کو تیار نہیں اور اس انتظار میں ہے کہ پاکستان میں کوئی بڑا عدم استحکام پیدا ہو اور اُس کی آڑ میں پاکستان کی سلامتی پر شب خون مارا جاسکے۔

گویا ہم ایک طرح سے آتش فشاں کے دہانے پر کھڑے ہیں اور بہت سے دشمن گھات لگائے بیٹھے ہیں، لیکن ہماری اپنی صورت حال کیا ہے؟۔۔۔ ٹرمپ کا ایک ٹویٹ آتا ہے، تو فوراً بیک زبان ہو جاتے ہیں، کیسی کیسی بڑھکیں مارتے ہیں، مگر دل سے ایک نہیں ہوتے۔ ایک دوسرے سے سچ نہیں بولتے، اعتماد میں نہیں لیتے، لندن، جنیوا اور نیو یارک میں بسوں پر بلوچستان کی آزادی کے بینرز لگ جاتے ہیں، ہماری وزارت خارجہ بے بسی کی تصویر بنی سب دیکھتی رہتی ہے۔ کیا دنیا کے کسی اور ملک کے خلاف بھی یورپ و امریکہ میں ایسا زہریلا پروپیگنڈہ ہوسکتا ہے۔

یہ سب کمزوریاں اس لئے ہیں کہ ہمارے داخلی اتحاد میں کئی دراڑیں موجود ہیں۔ ہم محمود خان اچکزئی جیسے لوگوں کو پالنے پر مجبور ہیں، انہیں گورنری بھی دیتے ہیں۔ اب ٹرمپ کے بیان کو انہوں نے درست قرار دیا ہے۔ اُن کا اول و آخر مقصد یہ ہے کہ پاکستان میں فوج کو کمزور کیا جائے، تاکہ اس کے بعد وہ اپنا مذموم ایجنڈ پورا کرسکیں۔

اس ابہام زدہ صورت حال میں شکر ہے، ایک چیز بالکل واضح ہے، وہ ہے عوام کا پاکستان پر غیر متزلزل عزم، اس کی موجودگی میں یقین سے کہا جاسکتا ہے کہ ہر سازش ناکام ہوگی اور ملک رکاوٹوں کے باوجود آگے بڑھتا رہے گا۔

مزید : رائے /کالم


loading...