مقبوضہ کشمیر،بجٹ اجلاس کا ہنگامہ خیز آغازگورنر کے خطاب پر نعرے بازی

مقبوضہ کشمیر،بجٹ اجلاس کا ہنگامہ خیز آغازگورنر کے خطاب پر نعرے بازی

جموں(اے این این )بجٹ اجلاس کا آغاز توقع کے عین مطابق ہنگامہ خیز ہوا۔ ریاستی گورنر این این ووہرا کے خطاب کے دوران اپوزیشن اراکین نے شدید نعرے بازی کرتے ہوئے ایوان سے احتجاجا واک آوٹ کیا۔گزشتہ روز جوں ہی گورنر نے اسمبلی کے دونوں ایوانوں کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرنا شروع کیا تو نیشنل کانفرنس اور کانگریس اراکین اپنی نشستوں سے اٹھ کھڑے ہوئے اور پی ڈی پی۔ بی جے پی سرکار ہائے ہائے، نکمی سرکارہائے ہائے، قاتل سرکار ہائے ہائے، جمہوریت کے قاتلو ہوش میں آو، ہوش میں آو کے نعرے بلند کرتے ہوئے گورنر موصوف کے خطاب میں رخنہ ڈال دیا۔ اپوزیشن اراکین نے اپنے ساتھ سیاہ پرچم اور پلے کارڈ لائے تھے جن پر حکومت مخالف نعرے درج تھے۔ انہوں نے ایوان میں احتجاج کے دوران یہ پرچم اور پلے کارڈ لہراتے اور بعدازاں شدید نعرے بازی کے درمیان احتجاجا واک آوٹ کیا۔بعدازاں اپوزیشن اراکین نے اسمبلی کمپلیکس کے باہر دھرنا دیکر حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی اور احتجاج کیا۔

تاہم آزاد ممبر اسمبلی انجینئر رشید نے ایوان میں اپنا احتجاج جاری رکھا۔ وہ کشمیر میں سیکورٹی فورسز کے ہاتھوں ہورہی مبینہ شہری ہلاکتوں کے خلاف احتجاج کررہے تھے۔احتجاج کرتے ہوئے ممبران نے کہا کہ ریاست جموں وکشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیاں جاری ہیں اور ملی ٹنیسی کے گراف میں بھی اضافہ ہو رہا ہے ،عوامی مسائل پر کوئی دھیان نہیں دیا جاتا ،چور دروازے سے منظور نظر افراد کو نوکریاں فراہم کی جاتی ہیں ۔علی محمد ساگر نے کہا کہ ریاست کے جو حالات اس وقت ہیں ان سے پوری دنیا اور میڈیا واقف ہے ۔انہوں نے کہا کہ جو احتجاج ہم نے کیا وہ جمہوری طریقے سے کیا ہے تاکہ ریاست جموں وکشمیر کے لوگوں کو اس کا فائدہ پہنچے ۔انہوں نے کہا کہ سرکار نے آج تک جتنے بھی دعدے کئے ان کی کلی کھل گئی ہے ۔انہوں نے کہا کہ سرکار ریاست میں کرپشن سے گھیری ہوئی ہے اور چور دروازے سے اپنے منظور نظر افراد کو نوکریاں فراہم کی جاتی ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ریاست جموں وکشمیر میں نوجوانوں کا تیزی کے ساتھ ملی ٹینسی میں شامل ہونا ایک تشویش ناک بات ہے ۔انہوں نے کہا کہ نیشنل کانفرنس نے اس سے ریاستی وزیر اعلی کو آگاہ کیا تھا تاہم وہاں سے کہا جا رہا ہے کہ ہم نے ریاست جموں وکشمیر میں ملی ٹینسی کو ختم کیا ،اگر ختم ہوا ہے تو کل جو پلوامہ میں ٹرینگ کیمپ پر حملہ ہوا وہ کیا تھا ۔؟ انہوں نے کہا کہ 16سال کے بچے کا جو ویڈیو آیا ہے یہ ہمارے لئے کافی تشویش ناک بات ہے ۔انہوں نے کہا کہ ریاست جموں وکشمیر کی موجودہ صورتحال پر اپوزیشن اسمبلی کے اندر بھی اور باہر بھی سرکار کو جواب دے بنائے گی ۔ کانگرنس لیڈرنوانگ ریگزن جورا نے کہا کہ ریاستی سرکار نے سرینگر میں ریاستی اسمبلی کا اجلاس صرف جی ایس ٹی کو منظور کرانے کیلئے منعقد کرایا تھا نہ کہ لوگوں کے مسائل حل کرنے کیلئے ۔انہوں نے کہا کہ لوگوں کے مسائل ہیں لیکن ان کا جواب سرکار کے پاس نہیں ہے ۔جورا نے کہا کہ یہ سرکار کرپشن میں ڈوبی ہوئی ہے اور اراکین کے سوالوں کے جواب دینے سے ڈرتی ہے۔انہوں نے کہا کہ کل 5سی آر پی ایف کے جوانوں کو ہلاک کیا گیا پچھلے دس برسوں سے اتنے فورسز کے اہلکار اورعام شہری نہیں مارے گئے جتنے 2017میں ہلاک ہوئے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ سرکار صرف اخباروں میں ہے ان پروجیکٹوں کے ربن کاٹے جاتے ہیں جو کام نیشنل کانفرنس اور کانگریس کے دور اقتداد میں ہوئے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ صرف کشمیر کو ہی نہیں بلکہ جموں کے لوگوں کو بھی اس سرکار سے بہت امید تھی ۔جورانے محبو بہ مفتی پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ سرکار نے اننت ناگ میں پارلیمانی انتخابات اس لئے منعقد نہیں کئے کیونکہ انہیں لگتا تھا کہ ان کا بھائی انتخابات ہار جائے گا جس کیلئے انہوں نے مرکزی سرکار کو خطہ لکھا کہ کشمیر وادی میں حالات سازگار نہیں ہیں جس کے بعد مرکز نے وہاں انتخابات نہیں کرائے اور اب جب ریاستی وزیر اعلی نے اپنے بھائی کو کابینہ میں جگہ دی تو اب انہیں پنچایتی اور بلدیاتی انتخابات کرنے کا یاد آیا ۔کانگرنس لیڈر جی ایم سروری نے کہا کہ ریاستی سرکار چور دروازے سے منظور نظر افراد کی تعیناتی عمل میں لا رہی ہے اور ریاست کے تینوں خطوں کے لوگوں کو اس سرکار انے دھوکے میں رکھا ہے ۔ایم ایل اے ہوم شالی بک عبدالمجید لارمی نے ہاتھوں میں سیاہ بینر اٹھا رکھا تھا جس میں شہری ہلاکتوں کے خلاف نعرے درج تھے۔ احتجاج کرتے ہوئے لارمی نے کہا کہ سرکار نے سنگبازوں کو عام معافی دینے کا اعلان کیا لیکن میرے علاقے میں ابھی 25نوجوان ایسے ہیں جو پی ایس اے کے تحت بند ہیں۔

مزید : عالمی منظر