مقبوضہ کشمیر: بجٹ اجلاس میں انجینئر رشید کا اسمبلی کی سیڑھیوں پر دھرنا

مقبوضہ کشمیر: بجٹ اجلاس میں انجینئر رشید کا اسمبلی کی سیڑھیوں پر دھرنا

جموں(اے این این ) مقبوضہ کشمیر کے بجٹ اجلاس کے پہلے ہی دن اپنی شعلہ بیانی کیلئے مشہور ممبر اسمبلی لنگیٹ انجینئر رشید اس وقت میڈیا کی توجہ کا مرکز بنے جب انہوں نے حق خودارادیت کے مطالبہ کو لیکر اسمبلی ہال کی سیڑھیوں پر دھرنا دیا ۔اس بیچ جیسے ہی گورنر نے اپنا خطہ پیش کیا تو انجینئر رشید بھی وہاں پہنچے اور شروع سے آخر تک احتجاج کرتے رہے ۔ انہوں نے گورنر این این ووہرا کی تقریر کا لفظ بہ لفظ جواب بھی دیتے ہوئے سرکار کو آڑے ہاتھوں لیا ۔گزشتہ روز جموں میں شروع ہوئے بجٹ سیشن کے دوران جیسے ہی ممبر اسمبلی لنگیٹ وہاں پہنچے تو سیڑھیوں پر بیٹھ کر احتجاج کرنے لگے، انہوں نے ہاتھوں میں بینر اٹھا رکھا تھاجس پر حق خودارادیت واحد راستہ کا نعرہ درج تھا جبکہ بینر پر کچھ ان کشمیروں نوجوانوں اور خواتین کی تصویریں بھی تھیں جو وادی میں نامساعد حالات کی پھینٹ چڑھیں ہیں ۔ احتجاج کرتے ہوئے رشید نے مطالبہ کیا کہ جموں وکشمیر کے آر پار حق خود ارادیت کے بغیر کوئی چارہ نہیں ہے ۔اس دوران انہوں نے آر پار رائے شماری، سب نعروں پر ایک ہی بھاری، حق ہمارا رائے شماری کے نعرے لگائے۔نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے رشید نے کہا کہ ہم کسی کے دشمن نہیں اور نہ ہی ہماری کوئی دشمنی ہندستان کے ساتھ ہے بلکہ ہمارا صرف ایک ہی مطالبہ ہے کہ رائے شماری کے جو وعدے کشمیری عوام کے ساتھ کئے گے ہیں ان کو عملی جامیہ پہنانے کیلئے اقدمات کئے جائیں ۔انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ سرحدوں کے آر پار ایل او سی ختم ہو جائے ، انہوں نے پھر کہا کہ ہو سکتا ہے کہ اگر رائے شماری ہو تو کشمیر کے لوگ بھارت کے ساتھ ہی رہنا پسند کریں لیکن پہلے رائے شماری ضروری ہے ۔انجینئر پرامن احتجاج کے بعد جیسے ہی گونر کا خطہ سننے ہال میں پہنچے تو وہاں پر بھی دیگر اپوزیشن لیڈران کے ساتھ انہوں نے شہری ہلاکتوں ،مار دھاڑ ، پکڑ دھکڑ اور رائے شماری کے حق میں احتجاج کیا ۔

کچھ وقت تک احتجاج کرنے کے بعد اگرچہ نیشنل کانفرنس کانگریس اور دیگراں ممبران گورنر کی تقریر کا بائیکاٹ کرکے چلے گے لیکن انجینئر رشید اکیلا ہی احتجاج کرتا رہا ۔انہوں نے کہا کہ لوگوں نے حق خود ارادیت کیلئے بڑی قربانیاں دی ہیں جنہیں کسی بھی صورت ضائع نہیں ہونے دیا جائے گا اور نہ ہی کسی کو شہدا کے خون کا سودا کرنے کی اجازت دی جائے گی۔انجینئر رشید نے کئی اہم معاملات کا احاطہ کرتے ہوئے گورنر کی توجہ، انکے آئینی اختیار،نئی دلی کی جانب سے ریاستی آئین کے ساتھ قت وقت پر چھیڑ چھاڑ کئے جانے،این آئی اے کی جانب سے حریت و کاروباری قائدین کے گھروں پر چھاپے مارے جانے،مسرت عالم بٹ،قاسم فکتو اور دیگراں کی مسلسل نظربندی،مختلف واقعات کی عدالتی تحقیقات کرائے جانے کے جھوٹے وعدے،نئی دلی کی جانب سے ریاست کے اختیارات کو خاطر میں نہ لائے جانے،حزب المجاہدین کے پانچ کمانڈروں کی مرکزی سرکار کے نمائندوں کے ساتھ بت چیت اور پھر اسکی ناکامی،اقوام متحدہ کی قراردادوں،شملی و تاشقند معاہدوں اور لاہور اعلامیہ،وقت وقت پر اٹھی رہی عوامی تحریکوں اور انہیں دبانے کیلئے سرکاری ایجنسیوں کی جانب سے بے پناہ طاقت کا استعمال کئے جانے،موجودہ سرکار کے فرقہ وارانہ ایجنڈا،بھرتی عمل میں ریاست کے اکثریتی فرقہ کیساتھ امتیاز،پولیس میں بلاجواز بارڈر ریکریوٹمنٹ،جماعت اسلامی کے کارکنوں کو اپنے علاقوں سے ہجرت کرنے پر مجبور کئے جانے،حال ہی میسرہ،ربی جان اور سومو ڈرائیور آصف کے سرکاری فورسز کے ہاتھوں قتل،سولہ سالہ فردین کے فدائی جنگجو بننے،وزرا و افسروں کی کنبہ و اقربا پروری،سرکاری فورسز کی دہشت گردی و جبروزیادتی کے علاوہ ،سیاسی و ترقیاتی محاذوں پر ریاستی و مرکزی سرکاروں کی دیگر ناکامیوں کی طرف دلائی۔انجینئر رشید نے کہا کہ یہ بات انتہائی شرمناک ہے کہ جنگجووں کو مارنے کیلئے مراعات،ترقیاں اور سہولیات کا لالچ دیا جارہا ہے۔انہوں نے کہا کہ نیشنل کانفرنس ریاست میں سبھی مصائب کی جڑ ہے اور اس نے ہمیشہ ہی دلی کی اعانت کی ہے جبکہ محبوبہ مفتی محض ربڑ کی ایک مہر بن کے رہ گئی ہیں۔انہوں نے کہا کہ نئی دلی کو سمجھ لینا چاہئے کہ دفعہ35-Aیا370کو تحفظ دینا کشمیریوں پر کوئی احسان نہیں ہے بلکہ یہ عارضی الحاق کے وقت ریاست کو دی گئی آئینی ضمانتیں ہیں۔

مزید : عالمی منظر