یمن میں قتل کی افواہوں کے بعد طارق صالح ایک بار پھر منظرعام پرآگئے

یمن میں قتل کی افواہوں کے بعد طارق صالح ایک بار پھر منظرعام پرآگئے

صنعاء (این این آئی)یمن کے مقتول صدر علی عبداللہ صالح کے دست راست اور ان کے بھتیجے طارق صالح کی حوثی باغیوں کے ہاتھوں ہلاکت کی متضاد اطلاعات کے بعد طارق صالح ایک پھر منظرعام پر آئے ہیں۔عرب ٹی وی کے مطابق حوثی باغیوں کی طرف سے انتہائی مطلوب قرار دیئے گئے طارق صالح کے بارے میں کہا گیا تھا کہ وہ صدر علی عبداللہ صالح کے قتل کے بعد صنعاء سے فرار ہوگئے تھے۔ حوثی باغی انہیں تلاش کررہے ہیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق طارق صالح کو حوثیوں کے قبضے سے فرار ہوئے ایک ماہ سے زاید وقت گزر چکا ہے۔ وہ زخمی حالت میں ان کے قبضے سے فرار ہوئے تھے۔ حوثیوں کی طرف سے داغے گئے ایک گولے کے نتیجے میں ان کے چہرے، پیٹ اور پنڈلی پر زخمی آئے ہیں۔قبل ازیں علی صالح کی جماعت پیپلز کانگریس نے ایک بیان میں بریگیڈیئر طارق صالح کی حوثی باغیوں کے ساتھ جھڑپوں میں مارے جانے کی خبر دی تھی اور ان کا تھا کہ بریگیڈیئر طارق محمد عبداللہ صالح ’شہید‘ ہوچکے ہیں۔اطلاعات کے مطابق زخمی بریگیڈیئر طارق صالح خولان قبیلے کے سربراہ الشیخ محمد علی الغادر کے پاس ہیں۔ اس اطلاع کے بعد حوثیوں نے الشیخ الغادر کے گھر پر بھی چھاپہ مارا مگر انہیں وہاں نہیں پایا گیا۔ادھر سابق مرکزی سیکیورٹی فورسز کے چیف یحییٰ صالح نے فیس بک پر پوسٹ ایک بیان میں کہا ہے کہ ان کے بھائی محفوظ ہیں اور انہیں محفوظ مقام پر منتقل کردیا گیا ہے۔خیال رہے کہ ایران نواز حوثی ملیشیا بریگیڈیئر طارق صالح کو سابق صدر علی عبداللہ صالح کے تمام فیصلوں اور اقدامات کا ماسٹر مائنڈ قرار دیتی ہے۔ جب سے علی صالح اور حوثیوں کے درمیان کشیدگی پیدا ہوئی تب سے بریگیڈ طارق صالح حوثیوں کی ہٹ لسٹ پر ہیں۔

مزید : عالمی منظر


loading...