ٹرمپ کا دھمکی آمیز ٹویٹ ، سیاسی و عسکری قیادت متحد ہو جائے : خورشید شاہ محمود قصوری

ٹرمپ کا دھمکی آمیز ٹویٹ ، سیاسی و عسکری قیادت متحد ہو جائے : خورشید شاہ محمود ...

لاہور ( جنرل رپورٹر) ڈونلڈ ٹرمپ کے دھمکی آمیز ٹویٹ سے گھبرانے کی ضرورت نہیں ۔ایسی ٹویٹ کے ذریعے وہ امریکہ کو نقصان پہنچا کر اسے دنیا میں تنہا کر رہے ہیں۔اس ٹویٹ کے ردعمل میں جو قومی بیانیہ سامنے آیا وہ خوش آئند ہے، آج سول ملٹری قیادت ایک پیج پر نظر آرہی ہے ان خیالات کااظہار سابق وزیر خارجہ میاں خورشید محمود قصوری نے ایوانِ کارکنانِ تحریک پاکستان لاہور میں منعقدہ فکری نشست بعنوان ’’امریکی صدر کے الزامات اور پاکستان کا رد عمل‘‘ کے دوران اپنے کلید ی خطاب میں کیا ۔ نشست کی صدارت تحریک پاکستان کے سرگرم کارکن‘ سابق وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی اور نظریۂ پاکستان ٹرسٹ کے وائس چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر رفیق احمد نے کی۔ نشست کا اہتمام نظریۂ پاکستان ٹرسٹ نے تحریک پاکستان ورکرز ٹرسٹ کے اشتراک سے کیا تھا۔ اس موقع پر دفاعی تجزیہ کار لیفٹیننٹ جنرل(ر) غلام مصطفی، سینئر صحافی و دانشور سلمان غنی، معروف کالم نگار محمد اکرم چودھری، بیگم مہناز رفیع، گولڈ میڈلسٹ کارکن تحریک پاکستان کرنل(ر) محمد سلیم ملک، دانشور قیوم نظامی، کالم نگار رؤف طاہر، پروفیسر ڈاکٹر پروین خان، میجر(ر) شبیر احمد،پیرسید نوبہار شاہ، نواب برکات محمود، فاروق خان آزاد، ڈاکٹر یعقوب ضیاء، حامد ولید، فدا حسین، رحیم خان، انجینئر منظور باجوہ، مسز کشور باجوہ، رائے شہریار، اساتذۂ کرام اور طلبہ سمیت مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد بڑی تعداد میں موجود تھے ۔ قاری احمد نجمی نے تلاوت جبکہ الحاج ختر حسین قریشی نے نعت رسول ؐ سنانے کی سعادت حاصل کی ۔ نشست کی نظامت کے فرائض سیکرٹری نظریۂ پاکستان ٹرسٹ شاہد رشید نے انجام دیے۔سابق وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری نے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ اس سے قبل برطانیہ، جرمنی، چین ،ایران کیخلاف بھی باتیں کر چکے ہیں،اس وقت خطہ میں پاکستان ، چین ، روس ،ایران، مشرق وسطیٰ کی ریاستیں ایک پیج پر آ رہی ہیں۔ سابق امریکی وزیر خارجہ ہنری کسنجر نے کہا تھا کہ امریکہ کی دوستی اس کی دشمنی سے زیادہ خطرناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ خارجہ پالیسی کا مقصد کسی کی ذاتی خواہشات کی تکمیل نہیں ہوتا بلکہ خارجہ پالسیی میں نئے نئے آپشنز پیدا کیے جاتے ہیں۔کامیاب خارجہ پالیسی کا راز کامیاب اندرونی پالیسی میں ہے۔ آزاد خارجہ پالیسی مفت میں ترتیب نہیں دی جا سکتی بلکہ اس کیلئے قربانی دنیا پڑتی ہے ۔ ۔انہوں نے کہاضرورت اس امر کی ہے کہ سیاسی وعسکری قیادت ایک پیج پرہوں ، جو بھی حکومت آئے اسے پانچ سال کام کرنے کا موقعہ دیا جائے۔پروفیسر ڈاکٹر رفیق احمد نے کہا کہ ہنودویہود پاکستان کیخلاف ہیں ۔ موجودہ حالت کا مقابلہ کرنے کیلئے قومی اتحاد کی ضرورت ہے۔لیفٹیننٹ جنرل(ر) غلام مصطفی نے کہا کہ میرے نزدیک ٹرمپ ،امریکہ یا بھارت خطرہ نہیں بلکہ اصل خطرات اندرونی ہیں۔ یہ ہماری سیاسی قیادت کی کوتاہی رہی ہے کہ حالات کو بھانپ کر متفقہ پالیسی نہیں بنائی جا سکی ۔ خدارا‘ خطرات کی نوعیت کو سمجھیں اور پاکستان کیلئے سوچیں اور اس کیلئے فیصلے کریں۔ممتاز صحافی سلمان غنی نے کہا کہ پاکستان کی ایٹمی طاقت اور سی پیک کا منصوبہ ملک دشمن عناصر کو ہضم نہیں ہو رہا اور وہ مسلسل پاکستان کیخلاف سازشوں میں مصروف ہیں

مزید : میٹروپولیٹن 1