دھرنا کیس : ایجنسیو ں کو پتہ نہیں کیا ہو رہا ہے ، دھرنے والے پیسے کہاں سے لیتے ہیں ؟ جسٹس فائز عیسی

دھرنا کیس : ایجنسیو ں کو پتہ نہیں کیا ہو رہا ہے ، دھرنے والے پیسے کہاں سے لیتے ...

اسلام آباد (آئی این پی) سپریم کورٹ میں فیض آباد دھرنا ازخودنوٹس کیس میں پیمرا، وزارت دفاع‘ وزارت داخلہ اور پنجاب حکومت نے رپورٹس جمع کرا دیں تاہم سپریم کورٹ نے پیمرا کی رپورٹ کو مسترد کر دیا‘جسٹس قاضی فائز عیسی نے ریمارکس دیئے کہ یہ مسلمانوں کا مسلمانوں پر حملہ تھا‘عراق جنگ پر لندن میں دس لاکھ لوگوں نے پرامن دھرنا دیا ہماری اخلاقیات مغرب والے لے گئے ہیں‘بھاری بھر کم رپورٹ جمع کروائی گئی لیکن کام کی کوئی چیز نہیں‘ سکیورٹی ایجنسیوں کو معلوم نہیں ملک میں کیا ہورہا ہے‘ پوچھا تھا یہ لوگ پیسہ کہاں سے حاصل کررہے ہیں‘د ھرنا دینے والی مذہبی جماعت کے سربراہ کہیں نوکری کرتے ہیں؟ ‘سربراہ کا ذریعہ معاش اور ایڈریس کیا ہے؟ ‘رپورٹ میں اشتہاروں اور دیگر نوٹس کو لگایا دیا گیا ہے‘ پیمرا رپورٹ واپس لے اور پوچھے گئے سوال کا تفصیلی جواب دے‘اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ دھرنے کے باعث 139 ملین روپے کا نقصان ہوا۔ پنجاب میں نو، سندھ میں تین ہلاکتیں ہوئیں اور اسلام آباد میں 194 میں پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔بدھ کو سپریم کورٹ میں فیض آباد دھرنا کیس کی سماعت ہوئی۔ اٹارنی جنرل اشتر اوصاف سپریم کورٹ میں پیش ہوئے۔ وزارت دفاع اور داخلہ کی رپورٹ بھی عدالت میں پیش کی گئی۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استقسار کرتے ہوئے کہا کہ دھرنے سے کتنا نقصان ہوا؟ اٹارنی جنرل نے بتایا کہ دھرنے سے 13 کروڑ 95 لاکھ روپے کا نقصان ہوا۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے سوال کرتے ہوئے کہا کہ کیا دونوں وزارتیں نقصان کی تخمینہ رپورٹ پر متفق ہیں۔ دھرنوں میں سکیورٹی ایجنسیوں کے کتنے افسران زخمی ہوئے؟ سکیورٹی اہلکاروں کے زخموں کی نوعیت کیا تھی؟ اٹارنی جنرل نے بتایا کہ ایک اہلکار کی آنکھ ضائع ہوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ یہ مسلمانوں کا مسلمانوں پر حملہ تھا۔ اٹارنی جنرل نے بتایا کہ دھرنے سے اسلام کے تشخص کو نقصان پہنچا دھرنے میں سینکڑوں سکیورٹی اہلکار زخمی ہوئے۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ عراق جنگ پر لندن میں دس لاکھ لوگوں نے پرامن دھرنا دیا ہماری اخلاقیات مغرب والے لے گئے۔ سکیورٹی ایجنسیوں پر اتنا پیسہ کیوں خرچ کرتے ہیں؟ سکیورٹی ایجنسیوں کو معلوم نہیں ملک میں کیا ہورہا ہے۔

دھرنا کیس

مزید : علاقائی