دہشت گردی پاکستان خارجہ پالیسی کا جزو ، امریکی کارروائی کا امکان رد نہیں کیا جا سکتا : خرم دستگیر ، امریکہ کے بکھیرے کانٹے ہم چن رہے ہیں : احسن اقبال

دہشت گردی پاکستان خارجہ پالیسی کا جزو ، امریکی کارروائی کا امکان رد نہیں کیا ...

 واشنگٹن(اظہر زمان، خصوصی رپورٹ) نئے سال کے موقع پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے پاکستان کیخلاف اب تک کے سخت ترین بیان کے بعد ان کی انتظامیہ کے سینئر ارکان کی طرف سے بھی حملوں میں اضافہ ہو گیا ہے ۔ نیشنل سکیورٹی مشیر جنرل میک ماسٹر نے وائس آف امریکہ کیساتھ ایک تازہ انٹرویو میں الزام لگایا ہے پاکستان بدستور بعض دہشتگرد گروہوں کی مدد کر رہا ہے اور ان کو استعمال کرنا اس کی خارجہ پالیسی کا جزو ہے۔ ان کا کہنا تھا پاکستان اپنی حدود میں تمام دہشتگردوں کیخلاف بلا امتیاز کارروائی نہیں کر رہا اور اس وجہ سے صدر ٹرمپ نے حالیہ ٹویٹ میں پاکستان کے اس رویے کے بارے میں مایوسی کا اظہار کیا ہے۔ جنرل میک ماسٹر نے کہا امریکہ کو امید تھی پاکستان کیساتھ تعاون کے بہتر نتائج پیدا ہوں گے لیکن ان کے بقول چند مخصوص دہشتگرد گروہوں کیخلا ف کارروائی اور دوسروں کو اپنی خارجہ پالیسی کے ایک حربے کے طور پر استعمال کرنے کا پاکستانی رویہ مایوس کن ہے۔ وائٹ ہاؤس کے سینئر مشیر نے واضح کیا کہ پاکستان سے کئے جانیوالے مطالبات محض الزامات کا تبادلہ نہیں بلکہ اس کا مقصد پاکستان پر واضح کرنا ہے کہ اب دونوں ملکوں کے تعلقات مزید تضادات کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ امریکی حکومت پاکستان پر یہ واضح کر دینا چاہتی ہے اسے افغانستان میں استحکام لانے کیلئے امریکہ کیساتھ مل کر کام کرنا ہو گا جس کا ان کے مطابق خود پاکستان کو بہت فائدہ ہو گا۔جنرل میک ماسٹر کہتے ہیں کہ اس وقت امریکہ کو تشویش یہ ہے کہ پاکستان افغان طالبان اور حقانی نیٹ ورک کی قیادت کو محفوظ ٹھکانے اور مدد فراہم کر کے اپنی ہی عوام کے مفادات کے خلاف جا رہا ہے کیونکہ ان کے بقول یہ گروہ صرف افغانستان ہی نہیں بلکہ پاکستان کے بعض علاقوں میں بھی تباہی مچاتے ہیں۔ پاکستان بے تحاشا انسانی اور معاشی وسائل سے بھرپور ملک ہے اور اسے عالمی برادری میں ایک مسترد ریاست کی صورت اختیار نہیں کرنی چاہئے، اسلئے امریکہ چاہتا ہے پاکستان خود اپنا مفاد دیکھے، دہشتگردوں کیخلاف بلا امتیاز کارروائی کرے اور ان کی قیادت کو محفوظ ٹھکانے اور دیگر طریقوں سے مدد کی فراہمی بند کرے۔۔دوسری طرفامریکا کے صدر ڈونلڈٹرمپ کے مشیر ساجد تارڑ نے کہا ہے کہ امریکا یہ سمجھتا ہے کہ 33ارب ڈالر کرپشن کی نذر ہوئے ، اس کی امداد صحیح جگہ نہیں پہنچتی،ڈ ٹرمپ کا ٹویٹ پاکستان کے اقدامات پر مایوسی کا اظہار ہے لیکن حرف آخر نہیں ، معاملات بہتر کیے جاسکتے ہیں،ڈونلڈٹرمپ کی ٹویٹ نے دنیا بھر میں ہلچل پیدا کردی ہے، پاکستان کا موازنہ بھارت کے بجائے بنگلا دیش اور سری لنکا سے کیا جانا لمحہ فکریہ ہے۔گزشتہ روز واشنگٹن میں میڈیا سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ ڈونلڈٹرمپ کی ٹویٹ نے دنیا بھر میں ہلچل پیدا کردی ہے، امریکا یہ سمجھتا ہے کہ 33ارب ڈالر کرپشن کی نذر ہوئے ، اس کی امداد صحیح جگہ نہیں پہنچتی۔ڈونلڈٹرمپ کے مشیر نے کہا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کا ٹویٹ پاکستان کے اقدامات پر مایوسی کا اظہار ہے لیکن حرف آخر نہیں ، معاملات بہتر کیے جاسکتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ا مریکی وزیر خارجہ ٹیلرسن نے بھی پاکستان سے واپسی پر مایوسی کا اظہارکیاتھا۔ساجد تارڑ نے کہا کہ اسامہ اور حقانی نیٹ ورک کی سپورٹ پر پاکستان دنیا کو مطمئن نہیں کر سکاان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پاکستان خطے میں ترقی کی دوڑ سے پیچھے رہ چکا ہے اور پاکستان کی خارجہ پالیسی کا فقدان آج ملک کواس نہج پر لے آیا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ امریکا سمجھتا ہے پاکستان یا بھارت کی مدد کے بغیر افغانستان میں امن ممکن نہیں ہے اور پاکستان کے دوہرے معیار کی وجہ سے امریکا کا بھارت کی طرف جھکاؤزیادہ ہے۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی جغرافیائی اہمیت کو کوئی نظرانداز نہیں کرسکتاتاہم امداد کے بغیر بھی پاک امریکاتعلقات بہتر ہونے کی توقع ہے۔دیں اثناء وائٹ ہاؤس کی ترجمان سارا سینڈرز 'پاکستان سے مطالبات کی نئی فہرست کا اعلان 24 سے 48 گھنٹوں میں کیا جائے گا'واشنگٹن امریکا کا کہنا ہے کہ پاکستان سے مطالبات کی نئی فہرست کا اعلان 24 سے 48 گھنٹوں میں کیا جائے گا۔وائٹ ہاؤس کی ترجمان سارا سینڈرز کا کہنا تھا کہ مخصوص اقدامات کی مزید تفصیلات سامنے لائیں گے۔ساتھ ہی انہوں نے الزام عائد کیا کہ 'ہم جانتے ہیں کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف مزید اقدامات کرسکتا ہے لیکن وہ اپنی ذمے داریاں پوری نہیں کررہا، اسے وعدوں پر عمل کرنا چاہیے

ساجد تارڑ

ضرور پڑھیں: اسد عمر کی چھٹی

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک +نیوز ایجنسیاں) وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال کا کہنا ہے کہ امریکا کے بکھیرے ہوئے کانٹوں کو پاکستان سمیٹ رہا ہے اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جتنی قربانیاں پاکستان نے دیں کسی اورنے نہیں دیں۔اسلام آباد پولیس لائنز میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ ہم نے خطے میں امن کے لیے ہمیشہ کوششیں کی ہیں،، امریکا پاکستان کوطعنے دینے کے بجائے اس کے کردار کی تعریف کرے۔وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ امریکی صدر کا حالیہ بیان دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی قربانیوں سے مذاق اڑانے کے مترادف ہے ،کسی کو اختیار نہیں کہ پاکستان کی خودمختاری پرحملہ کرے۔احسن اقبال نے کہا کہ اگر پاکستان انسداد دہشت گردی کے خلاف آپریشن نہ کرتا تو افغانستان میں بیٹھے گروہ پورے خطے کے لیے خطرہ بن جاتے، پاکستان نے خطے کو ان گروہوں سے بچانے کے لیے جوانوں کی قربانیاں دی ہیں، اگر ہمیں شاباشی نہیں دی جاسکتی تو کسی کو ہمیں جھوٹا قرار دینے کا بھی حق نہیں۔ان کا کہنا تھا کہ امریکا کے بکھیرے ہوئے کانٹوں کو پاکستان سمیٹ رہا ہے، امریکا نے افغانستان میں ہتھیاروں کے انبارچھوڑے، افغانستان سے روس کے انخلا کے بعد امریکا ہاتھ جھاڑ کر روانہ ہوگیا، امریکا کا ساتھ دے کر ہمیں دہشت گردی اور منشیات سمیت دیگر مسائل ملے۔انہوں نے مزید کہا کہ امریکا میں توشام سے کسی ایک مہاجر کو داخل ہونیکی اجازت نہیں ہے، روس کے ساتھ جنگ کے بعد لاکھوں افغان مہاجرین پاکستان آئے، ہم نے 35 لاکھ افغان مہاجرین کا بوجھ برداشت کیا۔ احسن اقبال نے کہا ہے کہ پولیس پاکستان کی ترقی میں اہم فریضہ انجام دے رہی ہے‘ ہم بری کارکردگی پر سرزنش کے ساتھ اچھی کارکردگی پر انعامات بھی دیتے ہیں‘ امن اور ترقی کا ایک دوسرے کے ساتھ براہ راست واسطہ ہے‘ پولیس کو یقینی بنانا ہے کہ آئندہ کوئی پاکستان کی اندرونی سلامتی سے نہ کھیل سکے۔ بدھ کو احسن اقبال نے کہا کہ معاشرے کی بہتری کے لئے پولیس کو جدید بنیادوں پر استوار کرنا انتہائی ضروری ہے۔ بغاوت اور دہشت گردی کی تحریکوں میں پولیس موثر کردار ادا کرتی ہے پولیس کی تنظیم اور جدید خطوط پر استوار کرنا اولین ترجیح تھی پولیس کو احتجاجی دھرنوں سے نمٹنے کے لئے بہترین صلاحیتوں کا حامل ہونا چاہئے۔ صوبے فوری رسپانس فورس شروع کرچکے ہیں اسلام آباد میں بھی اگلے ہفتے ریپڈ رسپانس فورس کا پہلا دستہ رول آؤٹ ہوجائے گا۔ اگلے چند ماہ میں دوسرا دستہ بھی اسلام آباد پولیس میں شامل ہوجائے گا۔ جلد اسلام آباد ریپڈ رسپانس فورس میں ایک ہزار اہلکار شامل ہوجائیں گے۔ اسلام آباد کے سیف سٹی منصوبے کو مزید پھیلایا جائے گا۔ جدید پولیس کے نظام کے ذریعے جدید ٹیکنالوجی استعمال کی جائے گی۔ جدید نظام سے پولیس کو تیز تر کریں گے۔ پولیس نظام میں ایس ایچ او کی بنیادی حیثیت ہے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لئے ہنگاممی بنیادوں پر کام جاری ہے سماجی سطح پر کردار اور پولیس دوست ماحول کے لئے ایس ایچ اوز کی تربیت کی جائے گی۔ پولیس اہلکاروں اور افسروں کے لئے کارکردگی کی بنیاد پر انعامات کا سلسلہ شروع کریں گے۔ بہترین پولیس اہلکاروں کو تھانوں میں نمایاں کیا جائے گا ہم بری کارکردگی پر سرزنش کے ساتھ اچھی کارکردگی پر انعامات بھی دیتے ہیں۔ پولیس کی حفاظت کے لئے بھی انتظامات کی ضرورت ہے

احسن اقبال

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک +نیوز ایجنسیاں) وزیر دفاع خرم دستگیر نے کہا ہے کہ پاکستان میں امریکی کارروائی کے امکان کو رد نہیں کیا جاسکتا۔بی بی سی کو انٹرویو میں وزیر دفاع خرم دستگیر نے کہا کہ امریکا اور پاکستان کے درمیان تعاون تقریباً ختم ہو چکا ہے اور پاکستان میں امریکی آپریشن کے امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا جب کہ دونوں کا تعلق اب ’دوستی اور دشمنی کے پیرائے سے نکل چکا ہے‘۔پاکستان میں کسی مسلح گروہ کے خلاف یکطرفہ کارروائی کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں وزیر دفاع نے کہا کہ ’ڈونلڈ ٹرمپ پارہ صفت انسان ہیں، اس لیے ایسے کسی امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا، تاہم ایسی کارروائی کا امکان کم ہے۔ فوجی امداد کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان تعاون تقریباً ختم ہو چکا ہے۔خرم دستگیر نے کہا کہ کولیشن سپورٹ فنڈ کی مد میں امریکا نے اب بھی دس ارب ڈالر پاکستان کو ادا کرنے ہیں، تاہم ہماری معیشت میں وہ طاقت آ گئی ہے کہ ہم اپنی مسلح افواج کو پوری طرح سپورٹ کرسکتے ہیں، لہذا امداد روک کر پاکستان پر اپنی مرضی مسلط کرنا ممکن نہیں رہا، دفاعی تعاون ختم ہونے سے ان پرزہ جات کا نقصان ہوگا جو پاک فوج امریکا سے لیتی ہے۔خرم دستگیر نے کہا کہ بھارت پاکستان کے خلاف افغانستان کی زمین استعمال کر رہا ہے، امریکہ افغانستان میں اپنی ناکامی کے بعد پاکستان پر الزام تراشی نہ کرے، اگر امریکا کو افغانستان میں امن مقصود ہے تو پاکستان مکمل معاونت کو تیار ہے، مگر افغانستان کی جنگ پاکستان کی زمین پر نہیں لڑی جائے گی، پاکستان کی آدھی فضائی حدود امریکہ کے لیے مکمل کھلی ہے، جبکہ زمینی راستے بھی دیے گئے ہیں، اس کے بغیر امریکا کی افغانستان میں رسائی نہایت مشکل ہو گی۔ اس لیے امریکا بہتر ہوگا کہ نو مور کہنے اور نوٹسز دینے کی بجائے پاکستان کے ساتھ مل کر کام کرے۔وزیر دفاع خرم دستگیر نے مزید کہا کہ پاکستان اور امریکہ کا تعلق اب دوستی اور دشمنی کے پیرائے سے نکل چکا ہے، جماعت الدعوہ کے خلاف حالیہ کارروائیوں کا تعلق امریکہ سے نہیں بلکہ یہ آپریشن ردالفساد کا حصہ ہے، اگرچہ بین الاقوامی سطح پر کئی تنظیموں پر پابندی عائد کی گئی ہے لیکن اس حوالے سے پاکستان سوچ سمجھ کر اقدامات کر رہا ہے، ’ایسا نہیں ہے کہ ہم بندوقیں لے کر اپنے ہی ملک پر چڑھ دوڑیں گے بلکہ وہ وقت گزر گیا، اب ہم نپے تلے اقدامات اور سوچ سمجھ کر فیصلہ کریں گے۔خرم دستگیر نے کہا ہے کہ امریکہ ہم سے انسداد دہشت گردی سیکھنے کے بجائے الزام تراشی کررہا ہے‘ پاکستان امریکہ کے درمیان اسٹریٹیجک ڈائیلاگ اب بھی معطل ہے‘ ا امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ کے بیان پر ردعمل میں خرم دستگیر نے کہا کہ ایسا نہیں ہے کہ ہم بندوقیں لے کر اپنے ہی ملک پرچڑھ دوڑیں گے اب ہم نپے تلے اور سوچ سمجھ کر فیصلہ کریں گے۔ پاکستان کی سرزمین کو ان سے پاک کرنا ہے چند ماہ میں امریکی قیادت سے مثبت گفتگو ہوتی رہی۔ امریکہ ہم سے انسداد دہشت گردی سیکھنے کی بجائے الزام تراشی کررہا ہے بھارت پاکستان کے خلاف افغانستان کی زمین بھی استعمال کررہا ہے۔

خرم دستگیر

نیو یارک (مانیٹرنگ ڈیسک )اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ملیحہ لودھی نے امریکی مندوب نکی ہیلے کو کرارا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر امریکا قدر نہیں کریگا تو پاکستان بھی تعاون پر نظرثانی کرسکتا ہے۔ ملیحہ لودھی کا کہنا تھا کہ 'اسلام آباد کے واشنگٹن سے تعلقات کسی قسم کی امداد کی وجہ سے نہیں بلکہ ہمارے قومی مفادات اور اصولوں پر مبنی ہیں'۔، 'عالمی دہشت گردی کے خلاف ہم نے سب سے زیادہ تعاون اور قربانیاں دی ہیں اور پوری دنیا کے مقابلے میں سب سے بڑا انسداد دہشت گردی آپریشن کیا'۔پاکستانی مندوب کا کہنا تھا، 'امریکا اپنی غلطیوں اور ناکامی کا الزام دوسروں پر نہ ڈالے'۔امریکہ میں پاکستانی سفیراعزازاحمدچودھری نے کہا ہے کہ پاکستان نے دہشت گردی کیخلاف جنگ میں بہت قربانیاں دیں،پاکستان نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں 180ارب ڈالرخرچ کیے اور دیشتگردوں کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کی ، افغانستان کے مسئلے کا فوجی حل نہیں ہے،پاکستان کو امریکا کے ساتھ امداد کی بنیاد پر تعلقات نہیں رکھنے،باہمی احترام کی بنیاد پر تعلقات رکھے جائیں۔ بدھ کے روز نجی ٹی وی کو انٹر ویو دیتے ہوئے امریکامیں پاکستانی سفیراعزازاحمدچودھری نے کہا کہ پاکستان کی ہمیشہ سے خواہش رہی ہے امریکا کے ساتھ مل کرکام کرے،دونوں ملکوں کے مل کرکام کرنے سے اچھے نتائج نکلے ہیں ہم نے القاعدہ کو ختم کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے دہشت گردی کی لہر کو پیچھے دھکیل دیا ہے، ہم چاہتے ہیں افغانستان میں امن آئے،امریکا اور پاکستان کاہدف ہے کہ افغانستان میں امن لایا جائے،جب ہدف ایک ہے کام بھی مل کر کرنا چاہیے۔ امریکہ میں پاکستانی سفیراعزازاحمدچودھری نے کہا ہے کہ پاکستان نے دہشت گردی کیخلاف جنگ میں بہت قربانیاں دیں،پاکستان نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں 180ارب ڈالرخرچ کیے اور دیشتگردوں کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کی ، افغانستان کے مسئلے کا فوجی حل نہیں ہے،پاکستان کو امریکا کے ساتھ امداد کی بنیاد پر تعلقات نہیں رکھنے،باہمی احترام کی بنیاد پر تعلقات رکھے جائیں۔ بدھ کے روز نجی ٹی وی کو انٹر ویو دیتے ہوئے امریکامیں پاکستانی سفیراعزازاحمدچودھری نے کہا کہ پاکستان کی ہمیشہ سے خواہش رہی ہے امریکا کے ساتھ مل کرکام کرے،دونوں ملکوں کے مل کرکام کرنے سے اچھے نتائج نکلے ہیں ہم نے القاعدہ کو ختم کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے دہشت گردی کی لہر کو پیچھے دھکیل دیا ہے، ہم چاہتے ہیں افغانستان میں امن آئے،امریکا اور پاکستان کاہدف ہے کہ افغانستان میں امن لایا جائے،جب ہدف ایک ہے کام بھی مل کر کرنا چاہیے۔

ملیحہ لودھی

مزید : صفحہ اول