وفاقی کابینہ ، قومی سلامتی کمیٹی کی توثیق ، مردم شماری کے عبوری نتائج حلقہ بندیوں کیلئے استعمال کرنے کی منظوری

وفاقی کابینہ ، قومی سلامتی کمیٹی کی توثیق ، مردم شماری کے عبوری نتائج حلقہ ...

اسلام آباد(نیوزایجنسیاں) وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کے زیر صدارت ہونیوالے وفاقی کابینہ کے اجلاس نے مردم شماری کے عبوری نتائج کو حلقہ بندیوں کیلئے استعمال کرنے کی منظوری دیدی ہے۔وفاقی کابینہ کے اجلاس میں 16 نکاتی ایجنڈے پر غور کیا گیا ۔اجلاس کے اعلامیہ کے مطابق پاکستانی معیشت افغان مہاجرین کی وجہ سے شدیددباؤکاشکارہے موجودہ حالات میں افغان مہاجرین کی مزیدمہمان نوازی ممکن نہیں، افغان مہاجرین کی جلدواپسی کیلئے اقوام متحدہ اورعالمی برادری سے ر ابطوں کافیصلہ کیا گیا ہے۔ اعلامیہ میں مزید کہا گیاہے کہ وفاقی کابینہ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے الزامات میں پاکستان کی جوابی حکمت عملی کے حوالے سے بھی تبادلہ خیال کیا گیاامریکی صدرکابیان پاک امریکہ تعلقات کیلئے نقصان دہ ہے پاکستان نے د ہشت گردی کیخلاف جنگ میں بے پناہ قربانیاں دیں،دہشت گردی کیخلاف جنگ میں پاکستان کی کوششوں کوعالمی سطح پرسراہاگیا۔وزیرخارجہ نے امریکی صدرکے بیان پرکابینہ کو بریفنگ دی انہوں نے اس حوالے پر قومی سلامتی کمیٹی کے فیصلوں سے آ گاہ کیا،وفاقی کابینہ نے قومی سلامتی کمیٹی کے فیصلوں کی توثیق کردی۔وفاقی کابینہ نے افغان مہاجرین کے پاکستان میں قیام کی مدت میں 30 روز کی توسیع کر دی۔ افغان مہاجرین کے قیام کی مدت31دسمبر2017 کوختم ہوچکی تھی۔وزیر اعظم کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس میں حکام کو بتایا گیا کہ پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں گزشتہ 16 سالوں کے دوران 10374 ارب روپے کا مالی نقصان ہوا۔حکومت کی جانب سے جمع کی گئی دستاویزات کے مطابق دہشت گردی کیخلاف جنگ کے باعث پاکستان کو ٹیکس وصولی کے نظام میں 5320 ارب روپے کا نقصان ہوا۔اسی طرح بیرونی سرمایہ کاری میں بھی 1995 ارب روپے کی کمی واقع ہوئی جبکہ پاکستان کے بنیادی ڈھانچے کو 928 ارب روپے کا نقصان پہنچا۔دستاویزات کے مطابق نجکاری کی مد میں پاکستان کو 262 ارب روپے کا خسارہ اٹھانا پڑا جبکہ غیر یقینی صورتحال کے باعث 15 ارب روپے کا نقصان ہوا۔پاکستان کو سب سے زیادہ نقصان سال 11۔2010 میں 2037 ارب روپے کا ہوا جبکہ 10۔2009 میں پاکستان کو 1136 ارب روپے کا نقصان ہوا اور اسی طرح 13۔2012 میں پاکستان کو 1964 ارب روپے کا خسارہ برداشت کرنا پڑا۔

مزید : صفحہ اول