پنجاب میں دھند کا راج ، بھٹیاں موٹر وے پر 7گاڑیوں میں تصادم ، 4افراد جاں بحق ، فلائٹ آپریشن ریلوے نظام متاثر

پنجاب میں دھند کا راج ، بھٹیاں موٹر وے پر 7گاڑیوں میں تصادم ، 4افراد جاں بحق ، ...

لاہور، پنڈی بھٹیاں(کامرس رپورٹر،نامہ نگار، مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں)صوبائی دارالحکومت سمیت پنجاب کے بیشتر علاقے شد ید دھند کی لپیٹ میں آگئے ،پنڈی بھٹیاں کے نز دیک مو ٹر وے ایم ٹو زیرو پوا ئنٹ پر شد ید دھند کے با عث سات گاڑیوں آپس میں ٹکرا گئیں،حادثے میں پولیس انسپکٹر سمیت چا ر افراد جاں بحق اور چھ شدید زخمی ہو گئے،فلائٹ آپریشن بھی بری طرح متاثر ہوا جس کے باعث کئی پروازیں تاخیر کا شکار ہوئیں ، جبکہ محکمہ موسمیات نے آئندہ چوبیس گھنٹوں میں صوبائی دارالحکومت سمیت پنجاب اور دیگر صوبوں کے شہروں میں بارشوں کے نئے سلسلے کے شروع ہونے کی پیش گوئی کرتے ہوئے کہا ہے پنجاب کے میدانی علاقوں اور بالائی سندھ میں رات اور صبح کے اوقات میں شدید دھند پڑنے کا امکان ہے۔ تفصیلا ت کے مطابق گزشتہ روز لاہو ر سمیت صوبہ کے کئی شہروں میں سارا دن دھند کا راج رہا جس سے معمولات زندگی شدید متاثر ہوئے، بچے اور سرکاری ملازمین وقت پر تعلیمی اداروں اور دفاتر نہ پہنچ سکے۔ دھند کے باعث سر شام ہی بیشتر شہروں میں حد نظر صفر ہو گئی۔ بیشتر مقامات سے موٹر ویز کو بند کر دیا گیا جی ٹی روڈ پر شدید دھند کے باعث موٹر وے پولیس نے وارننگ جاری کر دی۔ ایئر پورٹ پر بھی دھند کی وجہ سے پروازوں کا شیڈول شدید متاثر ہوا، سول ایوی ایشن نے چھوٹے طیار و ں کو پرورازسے روک دیا۔ لا ہور ایئرپورٹ پر دھند نے اپنے پر پھیلا دیئے اورحد نگاہ 500 میٹر تک محدود ہو کر رہ گئی ۔ مختلف علاقوں میں دھند میں حدِنگاہ 0 سے 50 میٹر تک رہ گئی ۔ علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر فلائٹ آپر یشن معطل ہو گیا ۔ 20 سے زائد ملکی و غیرملکی پروازوں کا شیڈول متاثر ہوا ۔ دھند کے باعث ٹرینیں بھی تاخیر کا شکار ہیں۔ترجمان موٹر و یز کے مطابق لاہور سے پنڈی بھٹیاں، گوجرہ کے سیکشن بند کر دئیے گئے ۔ کالا شاہ کاکو سے کھاریاں تک بھی حد نگاہ 0 سے 100 میٹر تک رہ گئی نیشنل ہائی ویز پر لاہور سے پتوکی تک کئی مقامات پر حد نگاہ 0 سے 70 میٹر تک رہ گئی ۔ پنڈی بھٹیاں کے نز دیک مو ٹر وے ایم ٹو زیرو پوا ئنٹ پر شد ید دھند کے با عث سات گاڑیاں جو اسلام آباد سے لاہور آرہی تھیں ا پس میں ٹکراگئیں جس کے نتیجہ میں چا ر افراد جاں بحق ہوگئے جن میں موٹروے پولیس انسپکٹر عبیدالرحمان ،محمد آصف ،محمد نوازاور ایک نا معلوم شامل ہیں جبکہ چھ افراد شدید زخمی ہو گئے جنہیں تحصیل ہیڈ کواٹر ہسپتال میں منتقل کر دیا گیا ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق آئندہ 12گھنٹوں میں ملک کے بیشتر علاقوں میں موسم سرد اور خشک رہے گا، تاہم آئندہ 24گھنٹوں میں مالاکنڈ، ہزارہ ڈویژن میں کہیں کہیں جبکہ پشاور، مردان، کوہاٹ، راولپنڈی، گوجرنوالہ، کوئٹہ ، ژوب ڈویژن، اسلام آباد، فاٹا، گلگت بلتستان اور کشمیر میں چند مقامات پر گرج چمک کے ساتھ بارش اور پہاڑوں پر برفباری کا امکان ہے۔گزشتہ 24 گھنٹوں میں ملک کے بیشتر علاقوں میں موسم سرد اور خشک رہا ۔ گزشتہ روز ریکارڈ کیے گئے سرد ترین مقامات کے درجہ حرارت میں سکردو میں منفی10،استور منفی09، گوپس منفی 08، گلگت، ہنزہ ، منفی 07، زیارت، دیر, کالام، کوئٹہ منفی05 ,قلات منفی 03، راولاکوٹ, بونجی، دروش،پارہ چنار منفی02، میرکھانی،دالبندین ، پٹن، اور رسالپورمیں منفی 01 سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔لاہور رنگ روڈ پر شد ید دھند کے باعث گزشتہ روز ائیر پورٹ ، شا لا مار ، ہر بنس پورہ اور دیگر علاقوں میں جانیوالوں کو گروپس کی صورت میں نکالا گیا ۔ ٹریفک پولیس حکام کے مطابق کسی بھی نا گہانی حا دثے سے بچنے کیلئے احتیاطی تدابیر اپنا ئی جارہی ہیں۔ لاہور میں دھند کے با عث حد نگاہ صفر ہونے کی وجہ سے باعث موٹر وے کے متعدد سیکٹرز کو ٹریفک کیلئے بند کر دیا گیا جبکہ دھند کے باعث ٹرینیں کے اوقات کار بھی متاثر ہوئے اور کراچی سے لاہور آنے والی تمام ٹرینیں گھنٹوں تاخیر سے منزل مقصود پر پہنچیں ۔ بدھ کو رات 8 بجے ہی لاہور سمیت پنجاب کے کئی شہروں میں شدید دھند نے معمو لات زندگی کو بری طرح متاثر کیا ، لاہور ریلوے اسٹیشن پر ٹرینوں کی آمدورفت کا شیڈول بھی متاثر ہوا جس کے باعث مسافروں کو اپنی منزل کی جانب روانہ ہونے کیلئے طویل انتظار کرنا پڑ رہا ہے۔دوسری جانب قومی شاہرات پر دھند کے باعث حد نگاہ میں واضح کمی کے باعث موٹروے کے مختلف سیکشن کو حد نگاہ صفر ہونے کے باعث ہر قسم کی ٹریفک کیلئے بند کردیا گیا ، لاہور سے پنڈی بھٹیاں، فیصل آباد، گوجرہ تک دھند کی وجہ سے ٹریفک کا داخلہ بند رہا جبکہ کھاریاں سے کالا شاہ کاکو تک حد نگاہ بیس سے تیس میٹر تک رہ گئی ۔ترجمان موٹروے نے کہا ہے شہری غیر ضروری سفر اور تیز رفتاری سے اجتناب کریں، دوران ڈرائیونگ موبائل فون استعمال نہ کریں اور گاڑیوں میں فوگ لائٹس کے استعمال کو یقینی بنائیں۔

دھند

دھند

مزید : صفحہ اول