ملاسکنڈ میں امسال مختلف منصوبوں پر 410.66ملین خرچ کئے جائیں گے : سید احمد شاہ باچا

ملاسکنڈ میں امسال مختلف منصوبوں پر 410.66ملین خرچ کئے جائیں گے : سید احمد شاہ ...

پشاور( سٹاف رپورٹر)ضلع ناظم مالاکنڈ سید احمد علی شاہ باچا نے کہا ہے۔ کہ سالانہ ترقیاتی پروگرام برائے 2017-18 کے تحت ضلع مالاکنڈ کے دو صوبائی حلقوں پی کے ۔98 اورپی کے ۔99 میں مجموعی طور پر 410.662 ملین روپے خرچ کئے جارہے ہیں۔وہ آج اپنے دفتر میں میڈ یا کے نمائیندوں سے بات چیت کررہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ متعلقہ ارکان اسمبلی نے ترقیاتی منصوبوں کی نشاندہی کی ہے۔ جن کی منظوری دی جاچکی ہے۔ اور صوبائی محکمہ لوکل گورنمنٹ کو فنڈ ز جاری کرنے کے لئے کہا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ سال 2017-18 کے دوران پیکج کے تحت ترقیاتی منصوبوں پر 80.662 ملین روپے ، ترجیحاتی منصوبوں پر 173.000 ملین روپے اور ضلعی ترقیاتی اقدامات کے تحت 157.000 ملین روپے خرچ کئے جائیں گے۔ضلعی ناظم مالاکنڈ نے مزید بتایا کہ بجلی کی خالص منافع کی 10 فیصد حصہ میں ضلع مالاکنڈ کو 52.974 ملین روپے جاری کئے جا چکے ہیں۔جس کے تحت صوبائی حلقہ پی کے ۔ 98 کے لئے سکیموں کی نشاندہی کر دی گئی ہے۔ جنہیں ضلع ترقیاتی مشاورتی کمیٹی نے ضلعی ترقیاتی کونسل کو منظوری کے لئے بھیج دی ہے۔ جبکہ حلقہ پی کے۔99 کے سکیموں کی نشاندہی ابھی باقی ہے ، انہوں نے کہا کہ وزیر خزانہ کی ہدایات کے تحت موجودہ مالی سال کے دوران ضلع مالاکنڈمیں 6.500 ملین روپے خرچ کئے جایءں گے۔ جس کا پی سی ون متعلقہ عمل درامد کر نے والی اجینسوں نے تیا ر کر دیا ہے۔ اور اس سلسلسے میں بہت جلد ضلعی ترقیاتی کونسل کا اجلاس ہوگا۔سید احمد علی شاہ نے انکشاف کیا کہ ضلع ترقیاتی پروگرام برائے سال2015-16 اور 2016-17 کے تحت مختلف ترقیاتی منصوبوں پر مجموعی طور پر 346.20 ملین روپے خرچ کئے جاچکے ہیں۔جبکہ اسی مقصد کے لئے موجودہ مالی سال کے دوران 192.27 ملین روپے مختص کئے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح ضلع مالاکنڈ میں سال 2017-18 سمیت تین سالوں میں مجموعی طور پر583.202 ملین روپے خرچ کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ضلع ناظم مالاکنڈ نے کہا کہ ہماری دلی خواہش ہے کہ پورے خلوص اور نیک نیتی سے عوام کی خدمت کریں ۔ انہوں نے کہاکہ وہ عوام کے منتخب نمائندے ہیں اور انہیں ہی جواب دہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم عوام کے اس اعتماد کو کبھی بھی ٹھیس نہیں پہنچایں گے۔ جو انہوں نے گذشتہ بلدیاتی انتخابا ت کے دوران ہم پر کیا ہے۔

مزید : پشاورصفحہ آخر