فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر319

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر319
فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر319

  

تحسین صاحب اور ہم سارے راستے سوچتے رہے کہ آخر وہ دونوں کون تھے۔ لاہور کی حدود میں داخل ہوتے ہی ہمیں اچانک خیال آیا اور ہم نے کہا’’تحسین وہ ڈاکو تھے۔‘‘

’ڈاکو؟‘ وہ ہنسنے لگے ’’کیسی باتیں کرتے ہیں آپ؟‘‘

ہم نے کہا’’وہ سو فیصد ڈاکو تھے۔ آپ نے دیکھا نہیں بس میں مسافر کیسے سہمے ہوئے بیٹھے تھے اور بس کا ڈرائیور ہمیں اشاروں میں کچھ بتانے کی کوشش بھی کر رہا تھا‘‘۔

تحسین صاحب بولے ’’آپ کہانی نویس ہیں۔ ہر چیز میں کہانی تلاش کر لیتے ہیں۔ اگر وہ ڈاکو ہوتے تو ہمیں بھی لوٹ لیتے۔ ہمیں تو انہوں نے کچھ بھی نہیں کہا‘‘۔

ہم نے کہا فلم ’’آگ کا دریا‘‘ نے ہمیں بچا لیا ہے۔‘‘ ہم نے ان دونوں کا سلام ساقی صاحب اور محمد علی صاحب کو پہنچایا اور نہ ہی اس واقعے کا کسی اور سے ذکر کیا۔ لاہور پہنچ کر تحسین صاحب دوسر ے ہی روز بذریعہ ہوائی جہاز واپس کراچی روانہ ہو گئے۔ کچھ عرصے بعد اچانک راشد لطیف صاحب نے کراچی سے ٹیلی فون کر کے ہمیں بتایا کہ تحسین صاحب کا انتقال ہو گیا ہے۔ ہم بے یقینی سے بیٹھے رہ گئے ۔اس قدر تندرست ہنس مُکھ اور زندگی سے بھرپور انسان اور عین جوانی میں ایک دم وفات پا جائے؟ یقین تو نہیں آتا تھا مگر یہ حقیقت تھی مگر ان کے ساتھ گزارا ہوا یہ سفر ہمیں نہیں بھولے گا۔

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر318 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

لاہور میں ہم نے فئٹ کمپنی کی ورکشاپ میں جا کر کار دکھائی۔ سپروائزر صاحب نے بغور جائزہ لینے کے بعد تین چار ہزار کا نسخہ بتا دیا۔ ’’نئی کار کی قیمت تیرہ ساڑھے تیرہ ہزار اور معمولی مرمّت کے لئے تین چار ہزار کا خرچہ؟‘‘

بولے ’’دیکھئے ہمیں اس کی ایک سائیڈ میں بہت سی چیزیں نئی لگانی ہوں گی۔ آپ کی مرضی ہے سوچ لیجئے۔ ورنہ کسی اور ورکشاپ سے کرا لیجئے۔‘‘

ہم نے الفلاح بلڈنگ میں آفس سے رابطہ کیا تو مینجر صاحب بے حد خوش اخلاق اور ہمدرد نکلے۔ انہوں نے اپنے اختیارات کام میں لاتے ہوئے چند سو روپے میں یہ کام کرا دیا۔ ہم نے محسوس کیا کہ سپروائزر صاحب کو یہ بات پسند نہیں آئی مگر مجبور تھے کندھے ہلا کر رہ گئے۔

کار کی مرمت تو ہو گئی اور ہم ایک برانڈ نیو کار کے مالک بھی بن گئے جو اس زمانے میں ایک عام بات نہ تھی مگر کار نے ہمیں مختلف قسم کی پریشانیوں میں مبتلا کر دیا۔

دو چار دن کے بعدیہ کار کسی نہ کسی خرابی کے باعث ورکشاپ میں پہنچ جاتی تھی۔

آخر ایک دن ہمارے ڈرائیور یاسین خاں نے ہم سے کہا ۔

’’صاحب جی۔ ایسی نئی کار لینے سے کیا فائدہ۔ ہر روز کوئی چھوٹی موٹی خرابی نکل آتی ہے۔ نئی کار کا مطلب تو یہ ہے کہ ایک دو سال تک ورکشاپ کا منہ ہی نہ دیکھنا پڑے مگر ہماری گاڑی تو ورکشاپ اس طرح جاتی ہے جیسے بیویاں میکے جاتی ہیں‘‘۔

یہ مثال ہمیں پسند آئی اور اس کا اعتراض بھی دل کو لگ گیا۔ اسی دوران میں ہمیں کچھ اور لوگ بھی ملے جنہوں نے فئٹ کار خریدی تھی اور ایسے ہی مسائل سے دوچار تھے۔ ہم خود بھی ورکشاپ کے چکّر لگا لگا کر تنگ آ گئے تھے۔ اس پر سپروائزر صاحب کا افسرانہ طرز عمل اور بھی کھلتا تھا۔

ایک بار ہم درستی کے سلسلے میں ورکشاپ پہنچے تو سپروائزر صاحب کا موڈ بے حد خراب تھا۔ ہماری شکایت سن کر وہ بگڑ گئے۔

’’آپ لوگ بھی خوب ہیں۔ یہ کار سارے یورپ میں چلتی ہے اور خوب چلتی ہے۔ آپ جب دیکھئے ورکشاپ آ جاتے ہیں۔ ہم نے فروخت کے بعد سروس کا ذمّہ تو لیا ہے مگر اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ہر روز کوئی پُرزہ بدلیں۔ آئندہ آپ سے بل چارج کیا جائے گا‘‘۔

ہم نے کہا’’کار بھی آپ کے سامنے ہے اور خرابی بھی۔ یورپ میں کاریں اچھّی ہوتی ہیں یا چلانے والے، یہ ہم نہیں جانتے مگر ہم یہ تھرڈ کلاس کار خرید کر پچھتا رہے ہیں۔ اچھا تھا کہ ہم کوئی سیکنڈ ہینڈ کار خرید لیتے‘‘۔

’’دنیا کی مانی ہوئی کار کو آپ تھرڈ کلاس کہہ رہے ہیں؟‘‘ وہ بگڑ گئے۔ ’’یہ اٹلی کا افتخار ہے‘‘۔

ہم نے کہا’’ اٹلی والے تو اوّل نمبر کے چور اور جرائم پیشہ ہوتے ہیں۔ کار بھی انہوں نے ویسی ہی بنائی ہے‘‘۔

’’دیکھئے ۔ بہت ہو چکی۔ آپ توہین کر رہے ہیں‘‘۔

’’کس کی؟‘‘

’’میری۔۔۔ میری کار کمپنی کی‘‘۔

ہم نے کہا’’اس کا آسان حل یہ ہے کہ آ پ ہماری یہ کار تبدیل کر دیں۔ ہم مرمّت کرا کرا کر تھک چکے ہیں۔ کمپنی سے کہہ کر ہمیں کوئی اچھّی سی تندرست کار دلادیں‘‘۔

بولے۔’’ کیسی ان ہونی باتیں کر رہے ہیں آپ، کسی اور کو اتنی شکایات نہیں ہیں جتنی کہ آ پ لے کر آ جاتے ہیں۔‘‘

ہم نے کہا ’’سبھی شاکی ہیں مگر صبر کرتے ہیں۔ بہرحال آپ ہماری تجویز پر غور کریں‘‘۔

بولے ’’وہ تو بعد میں ہو گا۔ پہلے آپ یہ بل ادا کر دیں‘‘۔

’’مگر یہ تو کمپنی کی طرف سے سروس میں شامل ہے‘‘۔

’’جی نہیں۔ سروس بہت ہو چکی۔ ا ب آ پ کو بل ادا کرنا ہو گا‘‘۔

یاسین خان چپ چاپ سن رہا تھا۔ اچانک بول پڑا’’واہ صاحب۔ ایک تو چوری او پر سے سینہ زوری۔ اتنی خراب گاڑی ہمارے صاحب کے ہاتھ بیچ دی اب بل بھی مانگتے ہو؟‘‘

سپروائزر صاحب کے منہ سے پائپ گر گیا۔ و ہ غصّے سے بے قابو ہو کر بولا’’یو باسٹرڈ۔۔۔ ہاؤ ڈیئر یو۔۔۔؟‘‘

ابھی وہ فقرہ مکمّل نہیں کرنے پائے تھے کہ یاسین خاں نے آگے بڑھ کر ان کی گردن پکڑ لی ا ور غضب ناک ہو کر بولا’’گالی دیتا ہے؟ ہمیں انگریزی میں گالی دیتا ہے؟ ہم تمہیں زندہ نہیں چھوڑے گا‘‘۔

اس کا ارادہ تو یہی تھا مگر ہم نے اسے روک دیا اور ڈانٹ کر باہر جانے کو کہا۔ صاحب کے دم میں دم آیا تو کھانستے ہوئے بولے ’’اس جنگلی کو تو میں اندر کروا دوں گا۔ سمجھتا کیا ہو گا‘‘

انہوں نے ٹیلی فون کی طرف ہاتھ بڑھایا ۔

ہم نے کہا ’’سول لائنز پولیس سٹیشن بالکل سامنے ہے۔ فون کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ آپ نے اسے گالی دی تھی اس پر اس نے آپ کا گلا دبا دیا۔ حساب برابر ہو گیا۔ تھانے پولیس کے چکّر میں پڑیں گے تو پچھتائیں گے۔ اٹلی سے کوئی آپ کی ضمانت دینے بھی نہیں آئے گا۔ آپ شاید ہمیں اچھّی طرح جانتے نہیں ہیں‘‘۔

وہ بولے’’مجھے ضرورت بھی نہیں ہے۔ آئندہ آپ کو جو بات کرنی ہو وہ ور کشاپ مینجر سے کریں ا ور مرمّت کابل بھی ادا کریں‘‘۔

ہم نے کہا’’یہ آپ بہت زیادتی کر رہے ہیں۔ آپ ایسا کریں کہ یہ کار ہم سے واپس لے لیں۔ ہمیں اس کی ضرورت نہیں ہے‘‘۔

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔

بولے ’’میں سیکنڈ ہینڈ کاروں کا بزنس نہیں کرتا‘‘۔

’’مگر ہمیں تو آپ نے سیکنڈ ہینڈ کار ہی بیچی ہے‘‘۔

بولے۔ ’’آپ نے کبھی اچھّی کار رکھی ہو تو پتا چلے آپ اچھّی کار کی قدر کیسے کر سکتے ہیں۔‘‘

ہم ناراض ہو کر چلے آئے مگر سمجھ میں نہیں آیا کہ کیا کریں۔

یاسین خان نے مشورہ دیا ’’صاحب جی۔ اس دیسی انگریز کو ہرگز مت چھوڑنا۔ ان لوگوں نے اندھی مچائی ہوئی ہے‘‘۔

پاکستان ٹائمز کے دفتر میں دوستوں سے ملنے گئے تو وہاں ایک صاحب سے ملاقات ہو گئی۔ انہوں نے بھی نئی فئٹ کار خریدی تھی اور اس کے نقائص سے تنگ آئے ہوئے تھے ۔ اس سے بڑھ کر وہ ورکشاپ سپروائزر کے رویے سے نالاں تھے۔ یکایک بیٹھے بیٹھے ہمارے ذہن میں جھماکا سا ہوا اور نہایت معقول اور مؤثر تدبیر ہمارے ذہن میں آ گئی۔

ہم نے وہیں بیٹھے بیٹھے’’پاکستان ٹائمز‘‘ کے ایڈیٹر کی ڈاک کے کالم کے لئے فیٹ کار کی شکایات کے حوالے سے ایک خط لکھا اور آئی اے رحمن صاحب کے حوالے کر دیا۔ تیسرے دن یہ خط پاکستان ٹائمز میں شائع ہوا تو دوسرے لوگوں کو بھی حوصلہ ہوا اور انہوں نے بھی شکایتی مراسلات لکھنے شروع کر دیئے۔ ہم نے اسی طرح کا ایک خط ’’امروز‘‘ اور ’’نوائے وقت‘‘ میں بھی چھپوا دیا۔ لوگ تو جیسے بھرے بیٹھے تھے۔ ان سب نے اپنے اپنے تلخ تجربات بیان کر نے شروع کر دیئے۔ ہم نے ان تمام خطوط کو یکجا کیا اور فئٹ کمپنی کے ہیڈ آفس پوسٹ کر دیا۔ یار لوگوں نے تو جیسے اگلی پچھلی ساری کسر نکالنے کا تہیّہ کر لیا تھا۔ ایک صاحب نے یہاں تک لکھ دیا کہ نئی فیٹ کار خریدنے سے بہتر ہے کہ آپ گدھا گاڑی خرید لیجئے۔ کم از کم مرّمت کی مصیبت سے تو نجات مل جائے گی۔ سبھی خطوط میں ورکشاپ سپروائزر کے طرز عمل کے خلاف احتجاج کیا گیا تھا۔(جاری ہے)

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر320 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : کتابیں /فلمی الف لیلیٰ