یہ چوہے اور کاکروچ میرے دوست ہیں، ننھے بچے نے ایسی بات بول دی کہ سن کر آنکھوں میں آنسو آجائیں

یہ چوہے اور کاکروچ میرے دوست ہیں، ننھے بچے نے ایسی بات بول دی کہ سن کر آنکھوں ...
یہ چوہے اور کاکروچ میرے دوست ہیں، ننھے بچے نے ایسی بات بول دی کہ سن کر آنکھوں میں آنسو آجائیں

  

ہیوسٹن (نیوز ڈیسک) بچوں کے ساتھ بدسلوکی کے واقعات کہاں پیش نہیں آتے، حتٰی کہ امریکا جیسے ترقی یافتہ ملک میں بھی آئے روز اس طرح کے واقعات کی خبریں سامنے آتی ہیں۔ ایک ایسا ہی واقعہ ہیوسٹن شہر میں پیش آیا، جہاں پولیس نے ایک ایسے بچے کو بازیاب کروایا ہے جسے روزانہ کئی گھنٹے ایک پرانی الماری میں گزارنے پر مجبور کیا جاتا تھا۔ چار سال کا یہ بچہ الماری میں چوہوں اور کاکروچوں میں گھرا رہتا تھا اور اس قدر تنہائی کا شکار تھا کہ ان چوہوں اور کاکروچوں کو ہی اپنا دوست سمجھنے لگا۔

ویب سائٹ Wishtv.comکے مطابق جب اس بچے سے پولیس اہلکاروں نے بات چیت کی تو اس کا کہنا تھا ”میرا کوئی دوست نہیں ہے۔ الماری میں میرے ساتھ چوہے اور کاکروچ رہتے ہیں۔ بس وہی میرے دوست ہیں۔“ رپورٹ کے مطابق پولیس نے منشیات فروشی کی اطلاعات ملنے پر ایک گھر میں چھاپہ مارا تھا لیکن اہلکار یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ وہاں ایک بچہ بھی انتہائی ناگفتہ بہ حالات میں زندگی گزاررہا تھا۔ ننھے بچے پر ہونے والے ظلم و ستم کے متعلق بات کرتے ہوئے ایک پولیس اہلکار نے بتایا ”اس چھوٹے سے بچے کو روزانہ کئی گھنٹے الماری میں ہی گزارنے پڑتے تھے۔ وہ بے حد تنہائی کا شکار تھا اور اس کا کہنا ہے کہ الماری میں رہنے والے چوہے اور کاکروچ ہی اس کے دوست ہیں۔ انتہائی بدقسمتی کی بات ہے کہ اس بچے کو ایسے حالات میں زندگی گزارنا پڑرہی تھی کہ جس کا تصور کوئی بڑا بھی کرے تو کانپ اُٹھے۔ اگر وہ کبھی چوری چھپے الماری سے نکلنے کی کوشش کرتا تھا تو سزا کے طور پر اسے ایک ریفریجریٹر کے اوپر بٹھادیا جاتا تھا جہاں وہ گرنے کے خوف سے کانپتا رہتا تھا۔“

’اس کے بچے کی قبر کھود کر لاش نکالو‘ عدالت نے ریپ کا نشانہ بننے والی 14سالہ لڑکی کے مردہ بچے کی قبر کھودنے کا حکم دے دیا کیونکہ۔۔۔

جب پولیس نے گھر پر چھاپہ مارا تو بچے کی والدہ ایپرل برائر وہاں موجود نہیں تھی۔ بعدازاں اس خاتون کو گرفتار کرلیا گیا۔ اس کا کہنا تھا کہ اس نے بچے کی ذمہ داری کسی اور کو سونپ رکھی تھی، لیکن وہ یہ نہیں بتا سکی کہ اس نے بچے کی ذمہ داری کسے اور کیوں دی تھی۔

بچے کے والد رابرٹ ڈے ہارڈ کا کہنا تھا کہ اس نے اپنے بیٹے کو اس کی ماں کے حوالے کردیا تھا اور ایک عرصے سے ان کی خبر نہیں لی تھی۔ رابرٹ اور ایپرل دونوں ہی قبل ازیں منشیات فروشی کے جرم میں سزائیں کاٹ چکے ہیں۔ پولیس ان کے خلاف مزید تحقیقات کررہی ہے جبکہ دریں اثنا بچے کو مقامی سوشل ویلفیئر ادارے کے حوالے کردیا گیا ہے۔

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔

مزید : ڈیلی بائیٹس