اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 72

اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 72
اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 72

  

قاضی حمید الدین ناگوریؒ جامع علوم شریعت و طریقت و حقیقت تھے۔ طبیعت ظریفانہ تھی اور کبھی کبھی احباب سے خوش طبعی فرماتے تھے۔

کہتے ہیں کہ ایک دن آپ، شیخ برہان الدین اور قاضی کبیر جو اپنے زمانے کے مشاہیر میں سے تھے اور دیگر احباب گھوڑوں پر سوار ہوکر جارہے تھے۔ جس گھوڑے پر قاضی حمید الدینؒ سوار تھے وہ بہت چھوٹا تھا اور اپنے ساتھیوں کے گھوڑوں کی برابری نہ کرسکتا تھا۔

قاضی کبیر نے کہا کہ ’’تمہارا گھوڑا بہت صغیر ہے۔‘‘

آپ نے برجستہ جواب دیا ’’مگرکبیر سے بہتر ہے۔‘‘

اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 71 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

***

شیخ الالسلام دہلوی کسی بات پر شیخ جلال الدین تبریزیؒ کے مخالف ہوگئے اور انہوں نے آپ پر ایک امر شفیع کی تہمت لگائی اور ایسا فتنہ برپا کیا کہ آپ کو بنگالہ کی جانب جانا پڑا۔جب بنگالہ پہنچے تو ایک دن وہاں پانی کے کنارے بیٹھے ہوئے تھے کہ اُٹھ کر تازہ وضو کیا اور حاضرین سے کہا ’’آؤ شیخ الالسلام دہلوی کی نماز جنازہ پڑھیں کیونکہ انہوں نے اس وقت انتقال فرمایا ہے۔‘‘ اور واقعی ایسا ہی ہوا تھا، جیسا کہ آپ نے فرمایا۔ نماز ادا کرنے کے بعد آپ نے حاضرین کی طرف منہ کرکے فرمایا ’’شیخ الاسلام دہلوی نے ہم کو شہر سے باہر کیا، ہمارے شیخ نے اسے دنیا سے باہر کیا۔‘‘

***

حضرت ذوالنون مصریؒ فرماتے ہیں ’’میں انطاکیہ کے ایک پہاڑ پر پرجارہا تھا کہ ایک دیوانی سی لڑکی صوف کا جبہ پہنے ہوئے نظر پڑی۔ میں نے سلام کیا۔ اس نے سلام کا جواب دے کر کہا ’’تم ذوالنون ہو؟‘‘

میں نے حیران ہوکر پوچھا ’’تو نے مجھے کیسے پہچانا؟‘‘

وہ بولی ’’محبوب حقیقی کی معرفت سے۔‘‘

پھر اس نے مجھ سے پوچھا ’’میں یہ دریافت کرتی ہوں کہ سخاوت کیا چیز ہے؟‘‘

میں نے جواب دیا ’’سخاوت دادخو اہش ہے۔‘‘

وہ کہنے لگی ’’یہ تو دنیا کی سخاوت ہے۔ دین کی سخاوت کیا ہے؟‘‘

میں نے کہا ’’اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں کوشش کرنا۔‘‘

وہ بولی ’’جب بندہ طاعت میں سعی کرتا رہے تو محبوب حقیقی قلب پر متجلی ہوتا ہے لیکن اس وقت چاہیے کہ تو اس سے کچھ نہ مانگے۔ اے ذوالنون! بیس برس سے مَیں ارادہ کررہی ہوں کہ اس سے ایک شے طلب کروں مگر اس سے شرم آتی ہے کہ برے مزدور کی طرح ہوجاؤں گی کہ جب وہ کام کرتا ہے تو فوراً ہی اُجرت مانگ لیتا ہے اس لئے مَیں تو اس کی تعظیم اور جلال کی وجہ سے کام کرتی ہوں۔‘‘

اتنا کہنے کے بعد وہ مجھ سے روانہ ہوگئی۔(جاری ہے )

اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 73 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : کتابیں /اللہ والوں کے قصے