اہرام مصر سے فرار۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط نمبر 105

اہرام مصر سے فرار۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط ...
اہرام مصر سے فرار۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط نمبر 105

  

میں مسکرادیا۔ پھر میں نے چار اشلوک بلند آواز میں پڑھے اور پنڈت سے کہا’’ہمیں ہماری ہونے والی استری کے درشن کرائے جائیں۔‘‘

پنڈت ایک دم چوکی پر سے اٹھ کھڑا ہوا اور ہاتھ باندھ کو بولا

’’مہاراج! میرے ساتھ تشریف لائیں۔‘‘

مکار پنڈت اور گنگو مجھے اپنے ساتھ لے کر مندر کے مختلف تنگ و تاریک زینے اترتے ایک تہہ خانے میں لے گئے جہاں میں نے پہلی بار مسلمان امیر زادی شہزادی شگفتہ کو دیکھا۔ اس کے بال بکھرے ہوئے تھے۔ چراغ کی روشنی میں اس کا چہرہ اترا ہوا تھا اور رنگ زرد پڑ گیا تھا۔ اس کے دونوں ہاتھ پیچھے بندھے ہوءئے تھے۔ اس نے چہرہ اٹھا کر ایک حقارت بھری نظر ہم پر ڈالی اور فارسی زبان میں ہمیں برا بھلا کہا۔ میں نے ہاتھ اٹھا کر کہا

’’لڑکی خبردار! ہم تمہاری زبان بھی جانتے ہیں۔ ہم گندھیرو ہیں۔ اگر دوبارہ زبان کھولی تو تمہیں اسی جگہ جلا کر بھسم کردیں گے۔‘‘

اہرام مصر سے فرار۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط نمبر 104 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مگر وہ بھی ایک غیور مسلمان کی بیٹی تھی۔ اس نے ہندو دیوی دیوتاؤں کی دھجیاں بکھیرنی شروع کردیں اور کہا کہ ہندوستان میں بہت جلد اسلام کا پرچم لہرائے گا۔ دل میں مَیں بڑا خوش ہوا۔ مگر اوپر سے اسے ڈانٹا اور غضبناک ہوکر حکم دیا کہ اس لڑکی کا منہ بند کیا جائے۔ فوراً پنڈت اور گنگو نے شہزادی شگفتہ کے منہ پر کپڑا باندھ دیا۔ اس کے بعد ان دونوں کو حکم دیا کہ وہ کوٹھڑی سے چلے جائیں اور مندر کے استھان کے پاس بیٹھ کر گیتا کا پاتھ کریں۔ کیونکہ میں دیوتا سومنات کی اس امانت کے سامنے قربانی سے پہلے مقدس اشلوک پڑھنا چاہتا ہوں۔ میں اس وقت مسلمان امیر زادی کے سامنے آلتی پالتی مار کار بیٹھ گیا اور آنکھیں بند کر کے اشلوک پڑھنے شروع کردئیے۔ میں نے نیم باز آنکھوں سے دیکھا کہ پنڈت اور اس کا ساتھی گنگو خاموشی سے میرے آگے باری باری سرجھکا کر کوٹھڑی سے باہر نکل گئے۔ مجھے ن کی کھڑاؤں کی آوازیں کچھ لمحوں تک سنائی دیتی رہیں۔ جب مجھے یقین ہوگیا کہ وہ تہہ خانے کی سیڑھیاں چڑھ کر اوپر جاچکے ہیں تو میں نے جلدی سے اُٹھ کر شہزادی شگفتہ کے منہ سے کپڑا ہٹادیا اور کہا

’’بیٹی! گھبراؤ نہیں۔ میں ہندو نہیں مسلمان ہوں اور سلطان محمود کے دربار سے تمہیں لینے آیا ہوں۔‘‘

یہ سنتے ہی شہزادی شگفتہ کے زرد چہرے پر مسرت کی ایک بے پایاں لہر دوڑ گئی۔ اس کے چہرے کے تاثرات سے صاف ظاہر ہورہا تھا کہ اسے میری بات کا یقین نہیں آرہا۔ میں نے نگاہ اٹھ کر کوٹھڑی کے باہر ڈالی۔ پھر اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر کہا

’’بیٹی! میر انام عبداللہ ہے۔ میں سلطان محمود کا معتمد خاص ہوں اور جوگیوں کا بھیس بدل کر تمہیں یہاں سے چھڑا کر اپنے ساتھ لے جانے کے لئے آیا ہوں۔‘‘

شہزادی شگفتہ بار بار اپنے خشک ہونٹوں پر زبان پھیر رہی تھی کہنے لگی

’’لیکن ۔۔۔ آپ ۔۔۔ آپ تو سنسکرت کے اشلوک پڑھ رہے تھے۔‘‘

’’میں سنسکرت کا عالم بھی ہوں۔ اگر مجھے سنسکرت نہ آتی ہوتی تو یہاں تک کبھی نہ پہنچ سکتا تھا۔ اب تم فکر نہ کرو۔ میں بہت جلد تمہیں یہاں سے نکال کر لے جاؤں گا۔‘‘

شہزادی شگفتہ کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔’’میرے بابا کس حال میں ہیں؟ میری امی کو کتنا دکھ ہوا ہوگا۔ یا اللہ! میرے گناہ معاف کردینا۔ میرے گناہ معاف کردینا۔‘‘

میں نے شہزادی کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے اسے تسلی دی اور کہا

’’بیٹی! آنسو مت بہاؤ۔اللہ تعالیٰ نے تمہارے گناہ معاف کردئیے ہیں۔ اسی لئے تو اس نے مجھے یہاں بھیجا ہے۔‘‘

وہ آنسو پونچھتے ہوئے بولی ’’اس جہنم سے نکلنا آسان کام نہیں ہے۔ یہاں چار سپاہی بھی ہیں جن کے پاس نیزے، تیر کمان اور تلواریں بھی ہیں۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ میرے ساتھ آپ بھی اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھیں۔‘‘

میں نے مسکراتے ہوئے اس کے سات پر ہاتھ رکھ کر کہا

’’بیٹی! ہماری جان اور عزت اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔ وہی ہم دونوں کو یہاں سے اپنی حفاظت میں نکالے گا۔ تم خاموشی کے ساتھ جس طرح پہلے بیٹھی تھیں اسی طرح بیٹھی رہو۔ کل رات میں تمہارے پاس آؤں گا۔ پھر ہم یہاں سے فرار ہوجائیں گے۔ میں تمہارے لئے کچھ پھل اور چاول بھجواؤں گا انہیں تم سیر ہوکر کھانا۔ اچھا۔ اب میں جاتا ہوں۔‘‘

میں کوٹھری سے نکل کر باہر آگیا۔ کوٹھری کے باہر سے بند کرکے تالا لگادیا۔ چابی مٹھی میں تھامی اور سیڑھیاں چڑھ کر اوپر مندر کے ہال کمرے میں آگیا۔ میں نے دیکھا کہ پنڈت اور اس کا ساتھی دیوتا سومنات کے خالی استھان کے سامنے بیٹھے اشلوک پڑھنے کی بجائے آپس میں کھسر پھسر کررہے تھے۔ مجھے خیال گزرا کہ کہیں ان دونوں کو مجھ پر شک تو نہیں پڑگیا! مگر اب مجھے اس کی پروازہ نہیں تھی۔ مجھے اپنی طرف آتا دیکھ کر وہ ایک دم سے اٹھ کھڑے ہوئے اور ہاتھ باندھ کر سر جھکادئیے۔ میں نے تحکمانہ انداز میں کہا

’’اب وہ میری استری بننے والی ہے۔ اس کو عمدہ عمدہ میٹھے پھل اور بھوجن کھلاؤ۔‘‘

’’جو حکم مہاراج!‘‘

یہ کہہ کر پنڈت نے اپنے ساتھی گنگو کو اشارہ کیا۔ وہ سر جھکا کر چلا گیا۔ اب میں نے پنڈت سے کہا کہ میں کل کی رات اس مسلمان لڑکی کے آگے مقدس گیتا کا پاتھ کروں گا۔ پھر کہیں جاکر وہ اس لائق ہوگی کہ میری استری بن سکے۔ پنڈت کہنے لگا’’مہاراج! کہیں اس کی قربانی میں دیر نہ ہوجائے۔‘‘

میں نے قدرے سخت لہجے میں کہا ’’دیوتا شنکر کی اچھیا کو ہم تم سے بہتر سمجھتے ہیں، قربانی آج سے ٹھیک پندرہ روز بعد پورنماشی کی رات کو ہوگی۔

’’جو حکم مہاراج‘‘ پنڈت نے سر جھکاتے ہوئے کہا۔

اس وقت رات کا تیسرا پہر گزررہا تھا۔ مجھے پنڈت جی نے بسرام کے لئے ایک کوٹھری میں پہنچا کر وہاں چراغ جلادیا اور ڈنڈوت بجا کر چلا گیا۔ میں نے ابھی تک وہ چار ہندو سپاہی نہیں دیکھے تو جو شہزادی شگفتہ کو گوالیار سے اغوا کرکے یہاں تک لائے تھے۔ ان کی طرف سے مجھے اس بات کا خطرہ تھا کہ جب میں شہزادی شگفتہ کو وہاں سے لے کر فرار ہوں گا تو یہ سپاہی راز کھل جانے پر تیر چلا کر شہزادی کو ہلاک کرسکتے تھے۔ اس لئے ان کے ہتھیاروں پر قبضہ کرنا بہت ضروری تھا۔ مگر ابھی تک میں نے ان کی شکل تک نہیں دیکھی تھی۔ میں ہرن کی کھال کے بستر پر لیٹ گیا اور سوچنے لگا کہ کل رات مجھے شہزادی شگفتہ کو کس طرف سے نکال کر فرار ہونا ہوگا کہ گنگو ہاتھ میں دودھ کا پیالہ لئے داخل ہوا۔

’’مہاراج یہ آپ کے لئے ہے۔ دس بکریوں کا دودھ دوہ کر ایک بکری کو پلایا گیا اور پھر اس بکری کا دودھ دوہ کر پہلا پیالہ آپ کو پیش کیا جارہا ہے۔‘‘

میں نے شکرئیے کے ساتھ دودھ کا پیالہ لے لیا اور جب گنگو جانے لگا تو اس سے ان چار سپاہیوں کے بارے میں پوچھا جو شہزادی کو اپنی حفاظت میں گوالیار کے جنگل سے یہاں لائے تھے۔(جاری ہے)

اہرام مصر سے فرار۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط نمبر 106 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : کتابیں /اہرام مصرسے فرار