صوبائی وزیر مذہبی امور کا قلعہ قاسم باغ پر صوفی یونیورسٹی بنانے کا اعلان

صوبائی وزیر مذہبی امور کا قلعہ قاسم باغ پر صوفی یونیورسٹی بنانے کا اعلان

  



ملتان (سٹی رپورٹر)سلسلہ سہروردیہ کے عظیم روحانی پیشوا، شیخ الاسلام حضرت شاہ رکن الدین عالم سہروردیؒ کے 706 ویں سالانہ عرس کی سہ روزہ تقریبات اختتام پزیر ہو گئیں۔ گزشتہ روز درگاہ کے احاطے میں شاہ رکن عالم کانفرنس کی آخری نشست کا انعقاد کیا گیا جس کی صدارت دربار کے سجادہ نشین و وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود حسین قریشی نے کی، شاہ محمود قریشی نے اختتامی دعا کروائی(بقیہ نمبر5صفحہ12پر)

, جبکہ تقریب میں علامہ سید مظہر سعید کاظمی، صوبائی وزیر اوقاف پیر سعید الحسن شاہ، درگاہ چادر والی سرکار کے گدی نشین پیر سید علی حسین شاہ،علامہ محمد فاروق خان سعیدی،ڈاکٹر محمد صدیق خان قادری،قاضی محمد بشیر گولڑوی،قاری عبدالغفار نقشبندی،قاری محمد رمضان چشتی، محمد طلحہ قادری, مولانا ارشد بلوچ،وسیم ممتاز، میاں آصف محمود,میاں جمیل احمد, احمد نواز عصیمی، قاری محمد سعید،محمد عاصم گولڑوی،مہریہ گروپ، عباس قریشی،حافظ اسماعیل سعیدی, خواجہ غلام محی الدین فخری،مخدوم زادہ سجاد قریشی، ارکان صوبائی اسمبلی حاجی جاوید اختر انصاری،ندیم قریشی،واصف مظہر راں،سردار حاجی خان چاچڑ،حاجی احسان الدین قریشی،سردار حاجی خان چاچڑ،خواجہ غلام مرتضیٰ،ڈاکٹر شہوار مصطفی اویسی،سیف الدین قریشی،خالد جاوید وڑائچ، ڈپٹی کمشنر عامر خٹک،سی پی او زبیر دریشک،ایس پی آپریشن کاشف اسلم،عادل شیخ،خواجہ سلیمان صدیقی،ملک ظہور مہے،جام محمد اصغر حمیدی، مہر ضمیر حسین سنڈل،شیخ اعجاز علی سہروردی،پیر ضمیر حسین جیلانی،رانا عبدالجبار، صوفی محمد افضل،حسن حسین قریشی، اعجاز حسین جنجوعہ،شہباز علی،محمد گل زیب ضیائموجودہیں۔ ختم شریف اور اختتامی اجتماعی دعا میں سندھ، بلوچستان، خیبرپختونخواہ، پنجاب، کشمیر اورملک کے دیگر دور دراز علاقوں سے ہزراوں زائرین اور عقیدت مندوں نے شرکت کی۔اس موقع پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔ کانفرنس کے اختتامی سیشن میں بھی نقابت کے فرائض ڈاکٹر صدیق خان قادری نے انجام دئیے۔ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیرِ مذہبی اُمور و اوقاف سید سعید الحسن نے کہا کہ اولیاء اللہ نے لوگوں کو دین کی حقیقت سے آگاہ کیا۔ انہوں نے حضرت شاہ رکن عالم کے دربار کے ساتھ ہی صوف نیورسٹی بنانے کا اعلان بھی کیا جس میں عقیدت مندوں کو تصوف کی کلاسیس دی جائیں گی, ہم ہر شہر میں صوفی یونیورسٹی بنا رہے ہیں, اور اس کا سلیبس میں خود دوں گا کیونکہ میں خود ایک صوفی گھرانے سے تعلق رکھتا ہوں, انہوں نے مزید کہا کہ ان بزرگوں کے عرس منانا دراصل اِن کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرنا ہے۔ اولیاء اللہ کی خدمات کے سبب آج دنیا کے کونے کونے میں اسلام کی شمع روشن ہے۔ حضرت شاہ رکن الدین نے سلسلہ سہروردیہ کو دوام بخشا اور اپنی سیرت و کردار سے اِس سلسل? تصوف کو نہ صرف ہندوستان بلکہ پوری دنیا میں روحانی فیوض و برکات کے حصول کے مؤثر ذریعے کے طور پر متعارف کروایا۔ انہوں نے کہا کہ عالمِ اسلام کی اِس باوقار ہستی کا ملتان میں آستانہ پوری دنیا میں ملتان کی پہچان اور شناخت کا بھی وسیلہ ہے۔ جماعتِ اہلسنت کے سربراہ علامہ سید مظہر سعید کاظمی نے اپنے خطاب میں کہا کہ اولیاء اللہ نے لوگوں کو اسلام کا حقیقی چہرہ دکھایا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی اِن پسندیدہ ہستیوں سے دین کی خدمت کا کام بھی لیا اور اِنہیں اپنی مخلوق کی روحانی اور دنیاوی اصلاح کا وسیلہ بھی بنایا۔ انہوں نے کہا کہ اولیاء اللہ کی خدمات کے سبب ہی آج دین دنیا کے کونے کونے میں موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ اولیاء اللہ نے لوگوں کو فلاح کا راستہ دکھایا۔ حضرت شاہ رکن الدین عالم نے اپنی سیرت و کردار سے لوگوں کو دین کی طرف راغب کیا۔ علامہ فارق خان سعیدی نے اپنے خطاب میں کہا کہ حضرت شاہ رکن الدین عالم ایک صوفی ہونے کے ساتھ ساتھ ایک بلند پایہ عالم اور فقیہ بھی تھے اور اُن کی فقہ میں مہارت صرف کتابی علم کی حد تک محدود نہیں تھی بلکہ وہ اپنی روحانی پاکیزگی اور اپنی بلندیہ حال کے سبب مختلف فقیہی مسائل کے حل میں اپنے علم الدنی کو بھی بروئے کار لاتے تھے۔ علامہ ڈاکٹر محمد ارشد بلوچ نے کہا کہ حضرت بہاء الدین زکریا ؒ کی قائم کردہ جامعہ بہائیہ سے شروع ہونے والے مشن کو حضرت شاہ رکن الدین عالم نے بڑی تن دہی سے آگے بڑھایا۔ انہوں نے لوگوں کو دین اور دنیا دونوں کی تعلیم دی اور انہیں معاشرے کا فعال رکن بنایا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق کی رہنمائی کیلئے پیغمبروں کو اِس دنیا میں بھیجا۔ پیغمبروں کی آمد کا سلسلہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ختم ہوگیا۔ آپؑ کی تعلیمات کو بعد ازاں آپ کے صحابہ کرامؓ نے آگے لوگوں تک پہنچایا۔ آخری روز کی تقریب میں بھی سندھ سے آنے والے منقبت خوانوں نے سماں باندھے رکھا۔ اختتامی تقریب میں علماء اکرام و مشائخ کی کثیر تعداد شریک تھی۔

اعلان

مزید : ملتان صفحہ آخر