سرکاری ادارے شہریوں کودرکار معلومات فراہم کریں، چیف انفارمیشن کمشنر

       سرکاری ادارے شہریوں کودرکار معلومات فراہم کریں، چیف انفارمیشن کمشنر

  



ملتان(اے پی پی)معلومات تک رسائی کا قانون 2017ء میں متعارف کروایا گیاتھااوریہ ہرپاکستانی کا حق ہے کہ اس کے ٹیکسوں کے پیسے سے کام کرنے والے سرکاری ادارے ان کو درکار معلومات فراہم کریں۔ پوری دنیا میں معلومات تک رسائی کا قانون سرکاری اداروں میں شفافیت لانے میں مددگار ثابت ہورہا ہے۔ پاکستان میں بھی لوگ اس قانون سے فائدہ اٹھائیں۔ ان خیالات کا اظہار پاکستان کے پہلے چیف انفارمیشن کمشنر محمد اعظم نے ملتان پریس کلب میں صحافیوں سے بات چیت (بقیہ نمبر6صفحہ12پر)

کرتے ہوئے کیا۔ محمد اعظم نے کہا کہ  پاکستان انفارمیشن کمیشن کے دائرہ اختیار کے مطابق سات دنوں کے اندر کسی بھی شہری کو درکار معلومات فراہم کروا دی جاتی ہیں۔ کمیشن کی تحریک پر سو سے زیارہ سرکاری اداروں میں پبلک انفارمیشن آفیسرز مقرر ہوچکے ہیں جن کا کام عام شہریوں کی درخواست پر اپنے اپنے محکموں سے معلومات کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔ محمد اعظم نے کہا کہ پاکستان کا معلومات تک رسائی کے حوالے سے عالمی رینکنگ میں 30واں نمبر ہے جو بڑی حوصلہ افزاء بات ہے۔ پاکستان میں اس قانون کے حوالے سے لوگوں میں آگاہی کم ہے تاہم وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ آگاہی بڑھتی جارہی ہے۔محمد اعظم نے کہا کہ اطلاعات تک رسائی کا قانون دنیا کے 130ملکوں میں رائج ہے اور یہ پوری دنیامیں سرکاری محکموں میں شفافیت لانے میں بھی مددگار ثابت ہورہا ہے۔اس قانون کے تحت اب سرکاری کاغذات کو چْھپانا آسان نہیں رہا۔ اب محکمے پابند ہیں کہ وہ پیسے کے استعمال کی تفصیل عوام کو پوچھنے پر انہیں دیں۔ محمد اعظم نے کہا کہ پاکستان انفارمیشن کمیشن اس تجویز کو بھی جلد ہی عملی جامہ پہنا رہا ہے کہ کمیشن کے سامنے مطلوبہ افسر اپنا موقف سکائپ پر بھی پیش کرسکے تاکہ ٹی اے ڈی اے کی مد میں خرچ ہونے والی رقم کے ساتھ ساتھ وقت کو بھی بچایا جاسکے۔محمد اعظم نے مزید کہا کہ پاکستان انفارمیشن کمیشن کے دائرہ کار میں ملکی دفاع سے متعلق معلومات، یا دو ملکوں کے باہمی تعلقات کو کسی منفی حوالے سے متاثر کرنے والی معلومات اور کسی شخص کی ذات سے متعلق معلومات شامل نہیں ہیں۔ تاہم ان تین کیٹیگریز کے علاوہ دیگر تمام معلومات حاصل کی جا سکتی ہیں۔ کمیشن کو سادہ کاغذ پر موصول ہونے والی درخواست پر ہی بھرپور قانونی کاروائی کی جاتی ہے۔

انفارمیشن کمشنر

مزید : ملتان صفحہ آخر