دیر کی مہربان……بہرحال مثبت ہے!

دیر کی مہربان……بہرحال مثبت ہے!
دیر کی مہربان……بہرحال مثبت ہے!

  



وزیراعظم عمران خان کی طرف سے جمہوری روایت کی بات کرتے ہوئے یہ کہا گیا کہ اس میں مشاورت ضروری ہوتی ہے تاکہ اتفاق رائے ہو اور ملکی نظام چلتا رہے۔ وزیراعظم نے یہ ارادہ اور نیک کام اس وقت کیا جب جنرل قمر جاوید باجوہ کی بطور آرمی چیف مدتِ ملازمت میں تین سالہ توسیع کا معاملہ ایوان میں لانے کا فیصلہ کیا گیا،ہم بہرحال اس صورتِ حال کا خیر مقدم ہی کریں گے کہ اول روز سے ہی نہیں، بلکہ سابقہ ادوار سے ہمارا موقف اور عرض یہی رہی کہ قومی رہنماؤں کو پارلیمانی جمہوری نظام میں محاذ آرائی کی بجائے تنقید برائے اصلاح کا عمل سامنے رکھنا اور قومی مسائل پر قومی اتفاق رائے پیدا کرنا چاہئے، اس حوالے سے یہ مثال بھی دی جاتی ہے کہ اگر ایوان میں اراکین اسمبلی کی تنخواہوں اور مراعات پر ایک بھی مخالف آواز نہیں اٹھتی تو قومی معاملات پر بعد المشرقین کیوں؟بہرحال دیر آید درست آید، اس کے نتیجے میں مسودہ قانون اتفاق رائے سے منظور ہونے پر اس شرمندگی کا داغ تو دھل ہی جائے گا، جو ایک غیر مناسب بحث کا دروازہ کھول چکا تھا اور یہ سب عجلت اور ایسے نوٹیفکیشنوں کا نتیجہ تھا جو مناسب انداز اور طریقہ کار سے جاری نہ کئے جا سکے،حالانکہ اس سے پہلے جنرل کیانی کو توسیع دی گئی تو کسی کو خیال بھی نہ آیا، جس کی وجہ یہ ہے کہ اگر وزیراعظم کو تقرر کا اختیار ہے تو توسیع کا اختیار نہ ہونا سمجھ سے بالاتر سمجھا جاتا تھا۔بہرحال معاملہ عدالت عظمےٰ تک پہنچا، جگ ہنسائی تو ہوئی لیکن فائدہ یہ ہوا ہے کہ اب مسلح افواج کے سربراہان کی تقرری اور توسیع میں کسی قسم کا ابہام نہیں رہے گا۔

وزیراعظم نے بل پر اتفاق رائے حاصل کرنے کے لئے چار رکنی کمیٹی بنائی، ہم نے پہلے ہی گذارش کر دی تھی کہ کسی طرف سے توسیع کی مخالفت نہیں ہو گی۔ طریقہ کار اور قانون کے سیمی کونل اور فل سٹاپ پر بات ہو سکے گی اور اعتراض ممکن ہے۔ سو مسلم لیگ(ن) کی طرف سے غیر مشروط حمایت کے باجوجود جلد بازی کا ذکر کیا گیا اور پیپلزپارٹی نے بھی حمایت کی،لیکن گلہ یہ کیا کہ اتنی تیزی کی کیا ضرورت ہے کہ ایک ہی روز میں یہ مسودہ قانون منظور کرا کے نافذ العمل بھی کر دیا جائے کہ صدر بھی تواپنے ہی ہیں۔ بہرحال اس مسودہ پر جو اظہارِ خیال ہوا وہ قابل غور ضرور ہے،جہاں تک وزیراعظم کی طرف سے مشاورت اور اتفاق رائے کا ذکر ہے تو اس پر بہت کچھ کہا جا رہا ہے، ہم تو یہی کہتے ہیں بہت دیر کی مہربان آتے آتے۔بہرحال آرمی چیف کی مدتِ ملازمت میں توسیع ہی کے معاملہ کو داد ملنا چاہئے کہ کم از کم جموری طرزِ عمل کی بات تو کی گئی ورنہ اپوزیشن قابل گردن زدنی اور پارلیمینٹ نظر انداز کئے جانے والا ادارہ بن چکا تھا اس سلسلے میں پنجابی کی ایک کہاوت کا ذکر بہت کیا جا رہا ہے، جو کچھ یوں ہے”نانی خصم کیتا، برا کیتا، کر کے چھڈیا، ہور برا کیتا“۔ بہرحال ہم سمجھتے ہیں کہ ایسی تنقید درست نہیں کہ اچھا کیا گیا ہے اور اگر قارئین! اور حضرات اسے بھی یوٹرن کہتے ہیں تو یہ مثبت یوٹرن ہے جس کی تائید ہی کی جانا چاہئے۔

یہ جو اپنے فواد چودھری ہیں یہ بھی کمال کے آدمی ہیں۔ اس کی تائید تو چانڈیو بھائی نے بھی کر دی اور فواد چودھری کی موجودگی میں، کہا فواد بہت اچھے ہو گئے ہیں، یقینا وہ اچھے ہوئے، جس طرح ہم وزیراعظم عمران خان کے تازہ ترین موقف کی حمایت اور تعریف کر رہے ہیں،۔ویسے ہی فواد چودھری کی بھی تعریف پر مجبور ہو گئے، حالانکہ ایک ”عقاب“ کی حیثیت سے وہ ہماری ہلکی پھلکی اور پیار بھری تنقید کا سامنا بھی کرتے رہے ہیں،ہم اول روز سے محاذ آرائی کے خلاف ہیں، برداشت کو جمہوریت کا حق سمجھتے ہیں اور قومی اتفاق رائے کو قومی اور عوامی مسائل کے حل کے لئے بہترین عمل قرار دیتے ہیں، فواد چودھری کو اب اپنی اس روش پر قائم رہنا چاہئے اور تنقید کا جواب مثبت انداز سے دینا چاہئے، ایسے ہی محترم وزیراعظم کو بھی مراد سعید جیسے اپنے عقابوں کو بھی اب تحمل کی تلقین کر دینا چاہئے۔

یہ ہم اس لئے چاہتے اور کہہ رہے ہیں کہ ہمارے سامنے ملک کے اندرونی اور بیرونی مسائل ہیں، ان پر کما حقہ توجہ نہیں دی گئی، حتیٰ کہ کشمیر اور بھارت کے ساتھ تعلقات جیسے حساس موضوع بھی اختلاف کی نظر ہوتے چلے آ رہے ہیں، ہمارے 90لاکھ کشمیری بھائی ایک بڑی جیل میں بھارتی فوج کی بربریت کا شکار ہیں، پورے بھارت میں مسلمانوں کو بھارتی شہری تسلیم کرنے سے انکارکر دیا گیا اور ان کو درجہ دوم کے شہری قرار دے کر ذات پات نافذ کر کے اسے ہندوتوا کا نام دیا گیا ہے، وہ سراپا احتجاج مار کھا رہے ہیں، اور ہم محض بیانات پر اکتفا کر رہے ہیں، ہم نے ان سطور میں ایک سے زیادہ بار توجہ دلائی اور گذارش کی کہ اگر دُنیا تجارتی مفادات کے تحت ان انسانیت سوز مظالم پر ٹس سے مس نہیں ہو رہی تو ہمیں اس کو جگانے کے لئے تحریک کی سی صورت میں اپنے وفود پوری دُنیا میں بھیجنا چاہئیں

،تاکہ انسانی حقوق کے حوالے ہی سے سہی دُنیا کو بھارتی جارحیت اور اپنی ہی رعایا پر مظالم کو آشکار کیا جائے، لیکن ہم یہاں بیان بازی سے آگے نہیں بڑھ رہے، حالانکہ ہمارے پاس نہ صرف تجربہ کار ڈپلومیٹ،بلکہ متعدد منتخب اراکین قومی اسمبلی اور سینیٹ بھی ہیں، اگر ایک بہتروفد بنا کر اس میں میاں رضا ربانی اور مشاہد حسین کو بھی شامل کر دیا جائے تو یہ بہت مفید ہو گا اور کچھ نتیجہ نکلے گا یہ بہت بڑا موقع ہے کہ بھارت کے خلاف عالمی رائے عامہ ہموار کر کے کچھ پابندیاں لگوائی جائیں۔ یہ نہیں کہ آپ اپریل تک اسلامی کانفرنس کا انتظار کریں اور وزرائے خارجہ کے اجلاس میں قرارداد منظور کرا کے مطمئن ہو جائیں اور بات ہو ”کون جیتا ہے، تیری زلف کے سر ہونے تک“ اور پھر اندرونی مسائل، بے روزگاری، مہنگائی اور بیماریاں منہ پھاڑے کھڑی ہیں۔ ان کا بھی تو کچھ کرنا ہے اور یہ بھی اتفاق رائے ہی سے ممکن ہے۔

مزید : رائے /کالم