خوش آمدید2020ء

خوش آمدید2020ء
خوش آمدید2020ء

  



2019ء کا سال اپنی تلخ و شیریں یا دوں کے ساتھ رخصت ہوا اور اب ہم2020ء میں داخل ہو چکے ہیں۔ ظاہر ہے ہر سال کی طرح 2019ء میں بھی ہم نے کچھ پا یا اور کچھ کھو یا۔ 2020ء میں بہت سے ایسے واقعات رونما ہوں گے،جن کے لئے2019ء بہت سی بنیا دیں فراہم کر گیا ہے۔ آنے والا نیا سال کیسے ہوگا؟اس بارے میں کوئی حتمی رائے دینا تو ممکن نہیں،تاہم چند مفروضوں کو سامنے رکھتے ہوئے یہ اندازے لگا ئے جا سکتے ہیں کہ آنے والے سال میں کو ن کون سے واقعات رونما ہو ں گے یا ہو سکتے ہیں؟مگر اس کے لئے ہمیں 2019ء پر نظر ڈالنا پڑے گی۔ سیاسی طور پر دیکھا جائے تو 2019ء میں اہم تبدیلیاں سامنے آئیں۔ گز شتہ سال کے آغاز کے بعد ایسا دکھا ئی دے رہا تھا کہ مسلم لیگ(ن)اور پیپلز پا رٹی کے اہم راہنماؤں کے لئے یہ سال بہت زیا دہ بھاری ثابت ہو گا۔ خاص طور پر مسلم لیگ(ن) کے شریف خاندان کے افراد کے ساتھ ساتھ کئی اہم رہنما شاہد خاقان عباسی، احسن اقبال، رانا ثناء اللہ اور خواجہ برادران بھی گرفتار ہوئے، مگر اس سال کے ختم ہونے سے پہلے مسلم لیگ(ن) اور میاں خاندان کے کئی راہنماؤں کو ”ریلیف“ ملنے لگا، جبکہ مریم نواز کے مزاحمتی بیانیہ کی جگہ شہباز شریف کی مفاہمتی سوچ کو مسلم لیگ(ن) میں تقویت ملی۔

اب تو صاف نظر آ رہا ہے کہ نواز شریف کی نا اہلی کے بعد،خاص طور پر جولائی 2018ء کے انتخابات سے پہلے مریم نواز جس طرح سے مسلم لیگ(ن) کو ایک اینٹی اسٹبلشمنٹ جماعت کے طور پر متعارف کر وانا چاہتی تھیں، اب یہ جماعت مستقبل قریب میں ایسی سیاست سے تائب ہوتی نظر آ رہی ہے۔ جہاں تک پیپلز پا ر ٹی کا تعلق ہے، تو 2018ء کے برعکس2019ء میں پیپلز پارٹی نے مزاحمتی سیاست کرنے کا تاثر دینے کی کوشش کی۔خاص طور پر جب جون2019ء میں آصف علی زرداری کو گرفتار کیا گیا تو پیپلز پارٹی نے ایک حد تک جارحانہ سیاست کرنے کی کوشش کی،مگر مسلم لیگ(ن) ہی کی طرح پیپلز پا رٹی نے بھی اکتوبر2019ء میں مولانا فضل الرحمان کے دھرنے میں زبا نی جمع خرچ کے علاوہ عملی طور پر کچھ نہیں کیا۔ یوں ان دونوں جماعتوں نے واضح طور پر یہ پیغام دیاکہ وہ کسی سیاسی انتہاء کی جانب نہیں جا نا چا ہتیں، بلکہ معاملات کو خوش اسلوبی سے حل کرنا چا ہتی ہیں۔ مسلم لیگ(ن) اور پی پی پی کی طرف سے انتہائی اہم اور حساس نوعیت کی قانون سازی کے معاملے پر بھی حکومت کے ساتھ تعاون اس بات کی جانب کھلا اشارہ ہے کہ 2020ء میں یہ جماعتیں مفاہمت کے راستے پر ہی چلیں گی۔

جہاں تک پی ٹی آئی کی حکومت کا تعلق ہے تو کوئی شک نہیں کہ 2019ء پی ٹی آئی کی حکومت پر بھاری ثابت ہوا۔ 2019ء میں عمران خان کو اپنی بہت سی پا لیسیوں میں تبدیلی لانا پڑی، ان تبدیلیوں کو ”یو ٹرن“ کا نا م دیا گیا۔2019ء میں ہی عمران خان نے اپنی 23سالہ سیاست کا ایک بڑا یوٹرن لیا اور اسی ”آئی ایم ایف“ کے پاس جانے کا اعلان کیا،جس آئی ایم ایف کو وہ اپنے پورے سیاسی کیریئر کے دوران تنقید کا نشانہ بناتے رہے تھے۔ اپریل 2019ء میں عمران خان نے اپنی معاشی ٹیم کو بدل کر عالمی اداروں کے منظور نظر افراد کو اپنی ٹیم میں شامل کیا۔ یوں پی ٹی آئی کی حکومت نے واضح پیغام دے دیا کہ اس کی معاشی پالیسی، مسلم لیگ(ن) اور پیپلز پارٹی سے الگ نہیں ہے۔ معاشی اعتبار سے دیکھا جائے تو2019ء عوام کے لئے بہت بھاری ثابت ہوا۔ غذائی اجناس، بجلی، گیس اور پٹرولیم کی مصنوعات کی قیمتوں میں بہت زیا دہ اضافہ ہوا۔مہنگائی بڑھتے ہوئے نومبر میں نو سال کی بلند ترین سطح 12.7فیصد تک پہنچ گئی۔ وفاقی ادارہ شماریات کے مطابق ایک سال میں گیس کی قیمت میں 55فیصد، بجلی ٹیرف میں ساڑھے18فیصد،موٹر ایندھن کی قیمتوں میں 16 فیصد اضافہ ہوا۔صحت کی سہولتوں میں 16 فیصد، دالوں کی قیمت میں 54فیصد، آلو 42 فیصد، تازہ سبزیوں میں 40فیصد، چینی 33فیصد، آٹا 16 فیصد،مصالحہ جات19فیصد، خوردنی تیل 16فیصد مہنگا ہوا۔وفاقی ادارہ شماریات کے یہ اعداد و شمار ثابت کرتے ہیں کہ بنیادی ضروریات کی ان اشیاء کی قیمتوں میں اٖضافے سے عام آدمی کی کمر ٹوٹ کر رہ گئی ہے۔

ظاہر ہے کہ اتنی مہنگائی کسی بھی حکومت کے لئے بہت سی مشکلات کھڑی کر سکتی تھی۔اگر اپوزیشن کی جما عتیں اس مہنگائی کو ہی بنیاد بنا کر عوام کو منظم کرنے کی کو شش کر تیں تو حکومت کے لئے خاصی مشکلات کھڑی کی جا سکتی تھیں،مگر اپوزیشن کی جماعتیں یہ دیکھتی رہیں کہ کس موقع کا فا ئدہ اٹھا کر اپنے لئے زیادہ سے زیادہ ریلیف حاصل کیا جائے؟……پا ک بھارت تعلقات کے حوالے سے 2019ء ایک مشکل سال ثابت ہوا۔ فروری 2019ء میں ”پلوامہ حملے“ کے بعد حالات بہت زیادہ کشیدہ ہوئے اور جنگ کے بادل منڈلانے لگے۔ اس کشیدگی کو بھارتی انتخابات کے باعث مزید ہوا ملی۔ مودی نے انتخابات میں پاکستان مخالف فضا بنا کر بھرپور سیاسی فا ئدہ حاصل کیا،جبکہ اگست 2019ء میں کشمیر کی خصوصی حیثیت کے ختم ہونے سے بھی دونوں ممالک میں جو تلخی بڑھی،اس میں 2020ء میں بھی کو ئی کمی نظر نہیں آرہی،بلکہ نئے بھارتی آرمی چیف کی پاکستان کو جنگ کی دھمکی سے صورتِ حا ل مزید خراب ہو ئی ہے۔

حکومت کی خارجہ پا لیسی کی بات کی جائے تو گزشتہ سال عمران خان اور ٹرمپ کی ملا قات ایک بڑا واقعہ تھا۔یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ 2018ء کے مقابلے میں 2019ء پا ک امریکہ تعلقات میں ایک لحاظ سے بہتر سال ثابت ہوا،مگر یہاں اس بات کو بھی ذہن میں رکھنا ضروری ہے کہ امریکہ کے ساتھ اس مرتبہ بھی اگر تعلقات میں کسی قدر بہتری ہو ئی تو اس کے پیچھے معروضی حالات رہے نہ کہ ہماری خارجہ پا لیسی کی کا میابی……گزشتہ کئی سال سے یو رپ کے ممالک میں جس طرح کی انتہا پسند یا پاپولر ازم کی سیاست کو فروغ مل رہا ہے،2019ء میں اس میں مزید شدت دیکھنے میں آئی۔ 2019ء میں بر طانیہ میں بورس جانسن کی کا میا بی بھی ایک بڑا واقعہ رہا۔ 2019ء میں بھی دُنیا کے کئی ممالک میں انسانی حقوق کی پا مالی سامنے آئی۔یمن کی خانہ جنگی کوپا نچ سال سے زیادہ کا عرصہ ہوگیا۔اس جنگ میں 14ہزار یمنی جاں بحق ہوئے،جبکہ50ہزار سے زیادہ یمنی اس جنگ کے باعث پیدا ہونے والے قحط کے باعث جاں بحق ہوگئے۔

اسی طرح شام، وسطی افر یقہ، کانگو، جنوبی سوڈان، فلسطین، افغا نستان اور کشمیر سمیت کئی علاقوں میں انسانی حقوق اور زندگیوں کو بری طرح سے پا مال کیا گیا…… 2019 ء کے سال کے اہم ملکی اور بین الاقوامی ایشوز کا طا ئرانہ جا ئزہ لینے کے بعد یہی ثابت ہوتا ہے کہ 2019ء کا سال جہاں کئی حوالوں سے اچھا رہا تو وہاں بہت سے حوالوں سے اس سال بھی بہت سے نئے چیلنج سامنے آئے۔ اس صورتِ حال کو دیکھ کر یہی کہا جا سکتا ہے کہ سائنس اور ٹیکنا لوجی میں بے تحاشا ترقی کے باوجود ابھی بھی انسانیت کو بہت ہی سنگین نوعیت کے چیلنجوں کا سامنا ہے۔ دہشت گردی، سامراجی جنگیں،غربت، افلاس، جہالت، وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم سمیت بہت سے مسائل ابھی بھی حل طلب ہیں۔انسان چونکہ بنیادی طور پر رجائیت پسند ہے، اس لئے یہی امیدکی جا سکتی ہے کہ ہر آنے والا نیا سال اپنے سے پہلے سال کے مقابلے میں بہتری کا ساما ن لے کر آئے گا۔

مزید : رائے /کالم


loading...