واقعی ہم زندہ ہیں؟

واقعی ہم زندہ ہیں؟
واقعی ہم زندہ ہیں؟

  



عمران خان ایک عرصے سے اپنی گفتگو میں ”ریاست ِ مدینہ“ کا ذکر کرتے چلے آئے ہیں، اُن کا یہ ذوق فکرو نظر مبارک ہے۔ افسوس مگر یہ ہے کہ وہ عملاً ریاست ِ مدینہ سے متعلق کوئی خاص معلومات نہیں رکھتے۔انہیں شاید صرف ایک اصطلاع سے غرض ہے،اگر وہ محض کاروبارِ سیاست کے لئے یہ ترکیب استعمال کرتے ہیں تو اللہ پاک ان پر اپنا رحم فرمائے……نہیں تو لازم ہے کہ وہ کوئی نقد عمل پیش کریں۔یہ حکومت تو آنی جانی شے ہے، آج ہے تو کل نہیں ہوگی۔کیا عمران خان، حضرت عمرؓ بن عبدالعزیز کی نسبت کچھ جانتے ہیں؟نہیں تو جاننا چاہئے کہ ”تبدیلی“ کس چیزکا نام ہے اور یہ کس طرح آتی ہے! مَیں یہ نہیں جانتا کہ ہمارے آتے جاتے یہ رنگ برنگے حکمران، قوم کو کچھ دینا اور کرنا نہیں چاہتے،یا وہ کچھ دینے اور کرنے کے اہل ہی نہیں؟ عام طور پر لوگوں کا یہ پختہ خیال ہے کہ وہ نہ تو قوم کو کچھ دینا چاہتے ہیں اور نہ ہی اس امر کی کوئی قابلیت رکھتے ہیں۔ان کا مقصد ِ حیات بس ایک حکمرانی ہے۔ اعلیٰ فکر، نہ ذوقِ عمل! آنے کو آتے یا لائے جاتے،اور جانے کو جاتے یا لے جائے جاتے ہیں۔صاحب! ہمارا صحیح یا غلط، گمان، بلکہ اتفاق ہے کہ آپ اس قوم کو کچھ دینا چاہتے ہیں، مگر اس کا کیا، کیا جائے کہ فی الحال آپ کچھ دے نہیں پا رہے۔ اگر حالات و واقعات کی یہی رفتار رہی تو اگلے دوچار برس کیا، سو سال میں بھی کوئی ”تبدیلی“ نہیں آنے والی! عوام آہستہ آہستہ مایوس ہوتے چلے جاتے ہیں۔ ہوتے کیا، بلکہ کافی سے زیاد ہو چکے! خدا کے لئے کسی ڈھنگ سے کام لیجئے اور کچھ کر دیجئے، نہیں تو مہلت ختم! آپ کا یہ کہنا ہر گز کافی نہیں کہ پچھلی حکومتیں ملک ڈبو گئیں۔ واقعہ یہ ہے کہ چاند تاریکی میں طلوع ہوا کرتا ہے،اور ستارے اندھیروں سے ہی اُبھرتے ہیں!

ہم نے تو سرگزشت ِ پاکستان میں صرف یہ دیکھا ہے کہ الا ماشاء اللہ، جو بھی حکمران آیا، کچھ بھی نہ کر کے گیا، تصویر کیا بناتے، کوئی تصور ہی نہیں تھا۔ اے کاش! کسی کے پاس کوئی عمدہ آئیڈیا ہوتا، اور پختہ عزم! وطن ِ عزیز میں بہت کچھ ہو سکتا ہے۔ اس کے لئے روپیہ درکار ہے اور نہ ہی ریال یایورو، ڈالر! ایک سوچ و تصور، حوصلہ اور استقلال لیکن ناگزیر ہے!ہم نے کہیں سے سنا ہے کہ آپ مملکت ِ خداداد کو عظیم بنانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔اگر ایسا ہے تو یہ کیجئے کہ آغاز کار میں بیورو کریسی کا مزاج بدل دیجئے! آپ بخوبی جانتے ہیں کہ وطن ِ عزیز میں ہر قسم کی برائی پورے عروج پر ہے۔ ایسا تو کسی اسلامی یا انسانی معاشرے میں نہیں ہوتا۔سب سے بڑی خرابی ہمارے انتظامی ڈھانچے اور وسائل کی تقسیم میں ہے۔نوکر شاہی کا طرزِ امتحان و انتخاب الخدروالا مان! اس سفر میں ریاست ِ مدینہ کا دستور و منشور غالب ہونا چاہئے، جو کچھ زیادہ مشکل نہیں! ہر سیاسی جماعت، مذہبی و غیر مذہبی لیڈر اور حقیقی و جعلی دانشور برسوں سے ”میرٹ“ کا رونا روتے آئے ہیں۔میرٹ؟ کسی کو کچھ بھی معلوم نہیں۔ ایک نوجوان، جس نے انگریزی کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا لیا؟رٹے کی خاطر چھ ماہ یا ایک سال کمرے کا دروازہ اندر سے بند کر رکھا؟ اور جو نقالی یا بھونڈے انداز میں غیر قومی زبان بول چال سکتا ہو؟؟ بس! جی بس!

ہمیں یہ جاننا اور اس پر بہرکیف عمل کرنا ہو گا کہ ریاست ِ مدینہ میں میرٹ کیا تھا؟عقیدہ، امانت، بے لوثی،احساسِ جواب دہی، کردار اور خوفِ خدا، ہم نے تو کسی کا عقیدہ و عمل اور روایات و اقدار کو کبھی دیکھا ہی نہیں،جس کا جی چاہتا ہے، زبانِ غیر کے رنگ میں رنگا، منہ اٹھائے چلا آتا ہے۔ زبان کوئی بھی ہو، وہ علم ہوتی ہے یا ذریعہ علم؟ ہمیں آخر کچھ تو سوچنا اور خیال کرنا چاہئے!مَیں نہیں جانتا کہ ریاست ِ مدینہ کے اندر لشکر و سپاہ (افواج) کے علاوہ کبھی کوئی خاص عہدہ کسی نوجوان کو سونپا گیا ہو۔رسولِ خدا(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے چالیس سال کی عمر میں اعلانِ نبوت کیا۔اس کا صاف مطلب ہے کہ اس سے قبل کوئی اہم منصب تفویض کرنا حکمت ِ الہٰیہ کے منافی ہے۔ استثنیٰ ہر جگہ موجود ہے، مگر مسلمانوں کی روایت یہ رہی ہے کہ کسی بڑے منصب پر چھوٹی عمر کا کوئی بندہ کبھی نہیں بٹھایا گیا۔

اغلباً اس لئے کہ تب تک نفس اور متعصباتِ نفس پوری طرح قابو میں نہیں ہوتے۔ چالیس سال کے لگ بھگ کہیں آخرت کا احساس پوری طرح جاگتا ہے!بالیقین کہا جا سکتا ہے، ماسوائے عسکری شعبہ، سرکاری ملازمت کے آغاز کی عمر میں کم از کم چالیس سال کی پابندی نافذ کر دی جائے، تو ہر لحاظ سے فائدہ ہی فائدہ اور بھلا ہی بھلا ہو گا۔ ایک فلسفی و مفکر نے کہا تھا،چونکہ مَیں سوچتا ہوں،اس کا مطلب ہے کہ ”مَیں ہوں، دوسرے الفاظ میں سوچنے ہی کا نام زندہ یا موجود ہونا“ ہے۔ متصادم مفہوم کے تحت اگر مَیں نہیں سوچتا ہوں، تو گویا مَیں زندگی کے بغیر زندگی،یعنی حقیقی معنوں میں موجود نہیں ہوں! کیا ہم سوچتے ہیں؟ ہم واقعی زندہ ہیں؟؟

مزید : رائے /کالم