سب سے پہلے اپنے سیارے کی فکر کریں

سب سے پہلے اپنے سیارے کی فکر کریں
سب سے پہلے اپنے سیارے کی فکر کریں

  



گذشتہ دِنوں طبیعات (فزکس) کے میدان میں نوبل انعام یافتہ سوئٹزرلینڈ سے تعلق رکھنے والے ماہر فلکیات ڈاکٹر ڈیڈئیر کولیز نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ انسانوں کو دیگر سیاروں پر آباد کاری سے پہلے اپنے سیارے،یعنی زمین کی فکر کرنی چاہئے۔انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں اس طرح تخلیق نہیں کیا گیا کہ ہم دوسرے سیاروں پر زندگی بسر کر سکیں ……اس وقت دُنیا کے بہت سارے ترقی یافتہ ممالک اس دوڑ میں شامل ہو چکے ہیں کہ کسی طرح سرخ سیارے مریخ سمیت دیگر سیاروں پر زندگی کے آثار تلاش کر کے وہاں انسانیت کا بسیرا ممکن بنایا جا سکے۔چند ماہ قبل امریکی خلائی تحقیقاتی ادارے ناسا کی طرف سے بھی کچھ اسی طرح کا دعویٰ کیا گیا ہے کہ مریخ کی ساخت کا مشاہدہ کرنے کے لئے ان کا مشن انسا ئٹ پروب کامیابی سے مریخ کی سطح پر اتر چکا ہے،جسے نہایت خوش آئند قرار دیا جا سکتا ہے۔ سائنس کا طالب علم ہونے کے ناتے اس طرح کی خبروں سے یقینا دلی طمانیت کا احساس ہوتا ہے کہ وہ وقت دور نہیں جب زمین کے علاوہ انسان دوسرے سیاروں پر بسیرا کر کے وہاں کے وسائل سے بھی بھرپور استفادہ کر سکے گا،یوں انسانی ترقی اپنی معراج کو جا پہنچے گی۔ اگر سائنس دان اپنے اس مقصد میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو یہ موجودہ صدی کا ہی نہیں،انسانی تاریخ کا سب سے بڑا انقلاب ہو گا۔راقم ایسی کوششوں میں مصروف تمام لوگوں کو انتہائی عزت کی نگاہ سے دیکھتا ہے، جنہوں نے نئے راستے کھوجنے میں دن رات ایک کیا ہوا ہے، لیکن تصویر کا دوسرا رخ دیکھا جائے تو صورتِ حال نہایت مایوس کن نظر آتی ہے کہ عین اسی لمحے جب انسان منزلوں پر منزلیں مارتا ہوا ستاروں پر بھی کمندیں ڈال چکا ہے،ہماری زمین پر انسانیت سسک سسک کر مر رہی ہے۔ بقول شاعر:

بہتر ہے کہ نہ ڈالو ستاروں پہ کمندیں

انساں کی خبر لو کہ وہ دم توڑ رہا ہے

اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق دنیا کے ایک ارب سے زائد افراد خط غربت سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں، جن میں اسی فیصد سے زیادہ صحرائے اعظم کے جنوب،یعنی افریقہ اور جنوبی ایشیا میں بستے ہیں۔ اگر اعدادوشمار کے چکر میں نہ بھی پڑا جائے تو اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اب بھی ہماری زمین کے کتنے فیصد افراد بھوک، ننگ اور افلاس کا شکار ہیں کہ وہ اپنی خوراک اور غذائی ضروریات پوری کر سکیں۔اس کے علاوہ صحت کے مسائل سے دوچار افراد کی تعداد کروڑوں سے بھی تجاوز کر چکی ہے،جس کی وجہ سے ا َن گنت افراد مختلف بیماریوں میں مبتلاہو کر راہ عدم سدھار جاتے ہیں۔دُنیا کی 7بلین آبادی میں کئی ملین افراد ایسی بیماریوں میں مبتلا ہیں، جن کی ابھی تک تشخیص ہی ممکن نہیں ہو سکی، علاج تو بعد کی بات ہے،جبکہ لاتعداد بیماریاں ایسی ہیں جن کا علاج تو دریافت ہو چکا ہے، لیکن عام آدمی کی دسترس سے باہر ہے۔ مثال کے طور پردُنیا بھر میں ہر سال 14ملین افراد کینسر کا شکار ہو جاتے ہیں، جن میں سے 8ملین موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں، ان میں سے 75فیصد کا تعلق غریب ممالک سے ہے،جن پر توجہ دینے کی اشدضرورت ہے،جس کے لئے میڈیسن کے شعبے میں ریسر چ کو مزید وسعت دی جائے اور نئے ریسرچ سنٹر بنا کر تحقیق کا دائرہ کار بڑھایا جانا نہایت ضروری ہے۔انتہائی افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ اس قدر تیز رفتار ترقی کے باوجود کرہئ ارض پر کئی ممالک ایسے ہیں،جن کے باشندے جانوروں سے بھی بدتر زندگی گزار رہے ہیں، اچھی صحت،اپنا گھر اور سوشل سیکیورٹی تو وہ لوازمات ہیں جن سے آدھی دُنیا واقف ہی نہیں۔ المختصر بہتر معیار زندگی اربوں زمین واسیوں کے لئے خواب کی سی حیثیت رکھتی ہے:

عصائے مرگ تھامے زندگانی

میرے سانسوں کا ریوڑ ہانکتی ہے

کے مصداق زندگی کی گاڑی کو کھینچ کھینچ کر اس قدر تھک ہار جاتے ہیں کہ بالآخر سانسوں کی ڈوری ٹوٹ جاتی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ سب سے پہلے اپنے سیارے کے لوگوں کے حالاتِ زندگی کو بہتر کیا جائے۔ اگر صرف تحقیق کا رخ مثبت سمت میں موڑ دیا جائے اور مناسب اقدامات اٹھائے جائیں تو بہت سارے عوامل ایسے ہیں کہ زمین نامی اس سیارے کے باسیوں کے لئے کافی بہتر حالات مہیا کئے جا سکتے ہیں ……نئے سیاروں کی کھوج انسانی فطرت کا حصہ بن چکی ہے اور وہ اس وقت تک جستجو میں لگا رہے گا جب تک کسی نتیجے پر نہیں پہنچ جاتا۔اب یہ سب کچھ کسی عام انسان کے لئے تو فی الوقت صرف دلچسپی کا سامان ہے،لیکن سائنس دان کافی سنجیدہ ہیں۔راقم ذاتی طور پر سائنس کا طالب علم ہے اور نت نئی ایجادات کا حامی، لیکن کسی دوسرے سیارے پر زندہ رہنے کے لئے زمین جیسا ماحول پیدا کرنا اگر ممکنات میں شامل نہیں تو ممکنات کے قریب ترین بھی نہیں،پھر ان چیزوں پر اتنا زیادہ وقت اور پیسہ ضائع کرنا سمجھ سے بالاتر لگتا ہے،اگر اس کی بجائے تھوڑے وسائل کا صحیح استعمال کر کے اپنے کرہئ ارض پر بہتری کا سامان پیدا کرنے کی کوشش کی جائے تو زیادہ دور رس نتائج حاصل کئے جاسکتے ہیں۔کم از کم ہماری خواہش تو یہی ہے کہ اپنے سیارے کی خوشحالی پر توجہ دینے کے بعد کسی او ر نئی دُنیا کی تلاش کے لئے طویل مسافتوں کا سامان باندھا جائے۔آخر میں ایک مرتبہ پھر اتنا کہنا چاہوں گا کہ ڈاکٹر ڈیڈئیر کولیز کے بقول ہمیں سب سے پہلے اپنے سیارے کی فکر کرنا ہو گی۔

مزید : رائے /کالم