امریکہ کی ایک نئی بساطِ جنگ

امریکہ کی ایک نئی بساطِ جنگ
امریکہ کی ایک نئی بساطِ جنگ

  



افغانستان میں 18 سال سے دہشت گردی کے خلاف امریکی جنگ جاری ہے۔ 2001ء میں شروع کی جانے والی جنگ کا دائرہ پھیلتے پھیلتے امریکہ، برطانیہ سے ناٹو ممالک کی شمولیت اور ایساف ممالک کی فورسز کے ساتھ تک پھیلتا گیا،لیکن جنگ کی طوالت اور افغان عوام کی قوت مزاحمت اور مقاومت کے باعث، حملہ آور اقوام تھکنے لگیں،پھر جنگ کا دائرہ سمٹنے لگا۔ سمٹتے سمٹتے ایسا ہوا کہ ساری حملہ آور اقوام کی افواج یہاں سے نکل گئیں،جبکہ امریکہ ”دہشت گردوں“ کے ساتھ امن مذاکرات کے لئے بے تابی دکھانے لگا۔ دوہا میں طویل مذاکرات ہوئے،طالبان جو مذاکرات کے فن سے قطعاً واقف نہیں ہیں۔ سینکڑوں نہیں ہزاروں سال سے وہ ایک ہی ہنر میں طاق ہیں، وہ ہے ”بندوق چلانا اور اس کے ذریعے دشمن کو ہلاک کرنا“۔انہوں نے اسی فن کے ذریعے جینا اور مرنا سیکھا ہے۔ یہی فن ان کی بقا کا ضامن ہے۔اب انہیں دنیا کی جدید ترین، مہذب اور ماڈرن قوم سے مذاکرات کرنا پڑے ہیں توماہرین کا خیال تھا کہ بس ”امن معاہدہ ہوا کہ ہوا، جنگ بندی ہوئی اور بس“…… ہماری بھی یہی رائے تھی کہ امریکہ افغانستان سے نکلنا چاہتا ہے،

وہ جنگ سے تھک چکا ہے، اس لئے امن معاہدہ کر کے اپنی شکست کو ایک با عزت واپسی کا نام دے”یہ جا وہ جا“…… لیکن ایسا ہوتا نظر نہیں آرہا۔ مذاکرات کے دوران امریکہ کی ایک چالاکی نظر آئی کہ وہ”جنگ بندی“ چاہتا ہے، صرف جنگ بندی، اپنی فوجوں کا انخلا نہیں،جبکہ طالبان ایک ہی نکتے پر فوکس نظر آئے کہ جارح افواج یہاں سے نکل جائیں …… پھر امریکی جنگ بندی کے بعد انتقال اقتدار نہیں،بلکہ شراکت اقتدار کے معاملات پر بھی بات چیت کرنا چاہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ امن مذاکرات کی بیل ابھی تک منڈھے چڑھتی نظر نہیں آرہی۔ طالبان امریکی افواج کا مکمل انخلاء چاہتے ہیں کہ کسی امریکی سپاہی افغانستان کی سرزمین پر ہونا انہیں گوارا نہیں ہو گا۔وہ صدیوں سے ایسا ہی کرتے رہے ہیں۔ حملہ آور فوج کے آخری سپاہی تک جنگ جاری رکھتے ہیں۔ اس مرتبہ بھی ایسا ہی ہو کر رہے گا۔ امریکی فوجی اڈوں کی افغانستان میں موجودگی کی صورت میں یہاں امن قائم نہیں ہو سکے گا۔امن مذاکرات کامیاب نہیں ہو سکتے۔ شائد امریکہ بھی ایسا ہی چاہتا ہے، اس لئے مذاکرات میں چالاکیاں کر رہا ہے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ میں ایک بار پھر ایک نئی جنگ کے لئے پر تول رہا ہے۔ گزشتہ دنوں بغداد میں امریکی سفارت خانے پر مظاہرین کے بلوے کو ذہن میں لائیں۔ یہ حملہ/ مظاہرہ کس قدر معصومانہ تھا کہ مظاہرین نے بڑے ادب اور احترام کے ساتھ حملہ کیا، یہ سفارتخانہ دنیا کے بڑے امریکی سفاتخانوں میں شمار ہوتا ہے۔ ہزاروں مظاہرین بڑے آرام سے عمارت میں داخل ہوئے، نعرے لگائے اور دھمکی دی کہ وہ سفارتخانے کے سامنے غیر معینہ مدت تک دھرنا بھی دے سکتے ہیں،پھر واپس چلے گئے۔ امریکی صدر نے ٹویٹ کیا اور کہا کہ ”اگر سفارتخانے کی تنصیبات کو کچھ نقصان پہنچا یا کسی امریکی کی جان گئی تو ایران کو اس کے لئے ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا اور اسے نتائج کا سامنا کرنا ہوگا“۔گویا ایران کوجنگ کی دھمکی دی گئی ہے۔ کہیں ایسا تو نہیں یہ سب کچھ کرایا جا رہا ہے، جنگ کا جواز پیدا کیا جا رہا ہے۔ اس سے پہلے امریکہ نے عراقی شیعہ جنگجوؤں کے ٹھکانوں پر شدید بمباری کر کے 24 سے زائد جنگجوؤں کو ہلاک کر دیا تھا۔ امریکی محکمہ دفاع پینٹا گون کے مطابق شیعہ جنگجوؤں نے امریکی فوجی اڈے پر حملہ کر کے ایک کنٹریکٹر کو ہلاک اور 4 سروس مینوں کو زخمی کر دیا تھا۔ اس حملے میں انہیں ایران کی حمایت حاصل تھی، اس لئے امریکی طیاروں نے حملہ کر کے ملیشیا کے ٹھکانوں پر بمباری کی۔

جوابی طور پر عراقیوں نے بغداد میں امریکی سفارت خانے پر بلوہ کیا اور حزب اللہ کے ٹھکانوں پر حملے کا جواب دیا۔ امریکہ نے کسی بھی نقصان کی صورت میں ایران کو نتائج بھگتنے کی دھمکی بھی دے دی ہے۔ گویا جنگ کی بھٹی دھکائی جانے لگی ہے۔ جنگ کی دیوی ایک بار پھر دھیمے قدموں سے آہستہ آہستہ میدانِ جنگ کی طرف جاتی نظر آنے لگی ہے۔ اب امریکی راکٹوں سے حملہ کرکے عراق کے انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر دو ایرانی اعلیٰ فوجی افسروں کو مار دیا،ایران نے اس پر شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔امریکہ، سعودی عرب، روس، ترکی اور دیگر عربی و عجمی ریاستیں پہلے ہی شام میں باہم دست و گریبان ہیں۔ امریکہ، سعودی عرب و دیگر شام میں بشارالاسد کی حکومت کا خاتمہ چاہتے ہیں۔ دوسری طرف روس، ترکی و غیر ہ اسے قائم رکھنے کی کاوشیں کر رہے ہیں۔ شام میں دیگر کئی ایک علاقائی گروہ بھی آتش و آہن کے کھیل میں شامل ہیں۔ حزب اللہ اور داعش کے جنگجو بھی میدان جنگ میں فعال ہیں۔ نتیجہ صرف ایک ہے۔ تباہی و ہلاکت۔ املاک کی تباہی اور انسانوں کی ہلاکت اور وہ بڑی وسعت اور استقامت کے ساتھ ہو رہی ہے۔

ترکی، لیبیا میں اپنی افواج بھجوانے کی تیاری کر رہا ہے۔ لیبیا کی جائز حکومت کی طرف سے ترکی کو درخواست ملنے کی دیر ہے کہ ترک افواج عازم لیبیا ہو جائیں گی، تاکہ وہاں امن و امان قائم کیا جا سکے۔ لیبیا میں کسی قسم کی بد امنی ترک قومی مفادات کے خلاف ہے، اس لئے ترکی وہاں قیام امن کے لئے پرُجوش ہے، لیکن وہاں انہیں امریکی و دیگر افواج کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔ امریکی افواج پہلے ہی علاقے میں موجود ہیں۔ ترکی کی علاقائی سیاست میں بڑھتی ہوئی دلچسپی اور مداخلت صرف امریکہ کے لئے ہی نہیں، بلکہ کئی عرب ممالک کے لئے بھی پریشان کن ہے۔ سعودی عرب یمن میں پھنسا ہوا ہے، شام میں بھی اسے مشکلات کا سامنا ہے، خطے میں بڑھتے ہوے ایرانی اثرات بھی عرب حکمرانوں کے لئے پریشان کن ہیں، لیکن وہ کچھ زیادہ کر بھی نہیں سکتے۔ ترکی اور ایران نے ملائیشیا کے ساتھ مل کر حال ہی میں کوالالمپور کانفرنس کا انعقاد کیا،تاکہ مسلمانوں کی اجتماعی آواز اٹھائی جائے اورمختلف ایشوز پر عالمی رائے عامہ کو متاثر کیا جا سکے۔

سعودی عرب نے بالخصوص اس اکٹھ کو او آئی سی کے متوازی تنظیم تصور کر کے اس کی مخالفت شروع کر دی۔ یہ کانفرنس پاکستان کے وزیراعظم عمران خان کی تجویز پر اور ان کے مشورے سے منعقد کی گئی تھی، لیکن عین وقت پر ہمارے وزیراعظم نے اس میں شرکت سے معذرت کر لی اور میزبان کو بتا بھی دیا کہ وہ سعودی عرب کے محمد بن سلمان کے دباؤ پر ایسا کر رہے ہیں۔ پاکستان کا گیم چینجر منصوبہ چین، پاکستان اکنامک کا ریڈور (سی پیک) بھی شائد تعطل کا شکار ہونے جا رہا ہے۔ اخباری اطلاعات ہیں کہ آئی ایم ایف نے سی پیک کی تفصیلات بھی طلب کر رکھی ہیں، جبکہ چین اس منصوبے کی تفصیلات کو کسی سے شیئر نہیں کرناچاہتا اور ہم نے انہیں ایسا کرنے کی یقین دھانی بھی کرائی تھی، لیکن حکومت نے معاشی دباؤ میں آکر اس کی تفصیلات آئی ایم ایف سے شیئر کر لی ہیں۔ امریکہ اور بھارت اس منصوبے پر اعتراض بھی ریکارڈ کرا چکے ہیں۔ امریکہ خطے میں ہی نہیں، بلکہ چین کے بڑھتے ہوئے بین البر اعظمی اثرات کو اچھی نظر سے نہیں دیکھتا۔ سی پیک چین کے اثرات کو ایشیا،یورپ اور افریقہ کے ممالک تک لے جانے کی ایک سٹرٹیجی ہے۔ بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کے تحت چین ان تین براعظموں سے جڑ جائے گا اور اس کی رسائی ان تمام ممالک تک ہونے جا رہی ہے۔

اس سے پہلے امریکہ چین کے 5-G کی مخالفت کر چکا ہے۔ اس کی یورپ اور امریکہ میں پذیرائی کی راہ کھوٹی کرنے کی عملی کاوشیں بھی کر چکا ہے۔ اس پر تجارتی پابندیاں بھی لگا چکا ہے۔ سی پیک کو لپیٹنے کے لئے پاکستان پر دباؤ بڑھایا جا رہا ہے۔ نریندرا مودی کا کشمیر پر قبضہ امریکی آشیرباد کے ذریعے ہی ممکن ہوا ہے اور اب پاکستان پر بھارتی جنگ مسلط کرنے کی حکمت عملی میں بھی بھارت کو امریکی سرپرستی حاصل ہے۔ اس خطے میں بھی جنگ آہستہ آہستہ، دھیرے دھیرے قدم بڑھا رہی ہے۔ پاکستان اقوام عالم کو مسلسل متنبہ کر رہا ہے کہ بھارت پاکستان پر حملہ کرنے کی تیاری کر رہا ہے،لیکن اقوام عالم بشمول اقوام متحدہ و سلامتی کونسل اس معاملے پر کوئی خاص توجہ نہیں دے رہیں، ایسے لگ رہا ہے جیسے دنیا چاہتی ہے کہ معاملات اسی سمت میں آگے بڑھیں، جس طرف آگے جا رہے ہیں، بلکہ یوں کہئے کہ معاملات اسی سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں، جہاں دنیا پہنچانا چاہتی ہے، یعنی جنگ اور وہ بھی مسلمانوں کے درمیان،

مسلمانوں کے لئے، تباہی و بربادی کے لئے، مسلمانوں کی جان و مال کی بربادی کے لئے وسیع تر جنگ۔ اقوام مغرب فریقین کی حمایت اور مخالفت کے نام پر کہیں ریاستی مفادات کے نام پر، کہیں فرقہ وارانہ مفادات کے نام پر اور کہیں قومیت کے مفادات کے نام پر،فریقین ایک دوسرے کے ساتھ اور ایک دوسرے کے مدمقابل صف آراء ہو رہے ہیں۔ گزری دھائیوں میں عراق، مصر، لیبیا اور شام کو مکمل طور پر تباہ و برباد کر دیا گیا ہے۔ جاری دھائی میں سعودی عرب، قطر وغیرہ کو کمزور کیا جا رہا ہے۔ قطر کی ناکہ بندی کا کیا جواز تھا؟ یمن پر سعودی یلغار کی کن بنیادوں پر تائید کی جا سکتی ہے؟ایران سعودی عرب چپقلش کے پیچھے جہاں عرب و عجم کا تعصب ہے، شیعہ سنی افتراق و تفریق کی طویل تاریخ ہے، وہاں صیہونی و صلیبی قوتوں کا عمل دخل بھی کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔ خطے میں ابھرتی ہوئی مسلم طاقت، ترکی کے خلاف بھی امریکہ مورچہ زن ہو گیا ہے۔ اس کو علاقائی اور قومی اختلافات میں الجھایا جا رہا ہے،تاکہ اس کی تعمیر و ترقی کی راہیں کھوٹی کی جا سکیں۔

امریکہ اور عیسائی دنیا یہ سب کچھ کیوں کر رہی ہے؟ یہ ایک بہت اہم سوال ہے، جس کا جواب جاننا ہمارے لئے ضروری ہے۔ ہماری بقاء اور استحکام کے لئے ضروری ہے کہ ہم جاری بساط سیاست کو سمجھیں، اس کی چالیں جانیں، اس کے پیادوں اور گھوڑوں کا ہمیں علم ہو، تاکہ ہم ان کا مقابلہ کر سکیں۔ ذرا 90 کی دھائی ذہن میں لائیں۔ سوویت یونین کے خاتمے کے بعد ”تاریخ کا خاتمہ“ اور ”تہذیبی جنگ“ نامی تحقیقاتی کتب نے علم و دانش ہی نہیں، سیاست کے میدان میں بھی تہلکہ مچایا تھا۔ امریکہ نے عالمی سپریم طاقت کے طور پر نیو ورلڈ آرڈر کا اعلان کیا تھااور تہذیبی جنگ کے ذریعے مسلمانوں اور اسلام کی بیخ کنی شروع کر دی تھی۔ مشرق سطیٰ میں جنگ کی بھٹی دھکائی، آتش و آھن کا کھیل شروع کیا، پھر 9/11 کے ساتھ ہی اس کھیل کا دائرہ کار پھیلا دیا گیا۔ اس کھیل میں صرف مسلم ممالک کو ہی تباہ و بربادکیا جا رہا ہے۔ تین دھائیوں سے جاری اس جنگ میں سینکڑوں نہیں ہزاروں نہیں، بلکہ کروڑوں مسلمان ہلاک، مجروح اور بے گھر ہو چکے ہیں، اربوں کھربوں ڈالر کی املاک برباد ہو گئی ہیں، لیکن جنگ و بربادی ہے کہ رکنے کا نام ہی نہیں لے رہی۔

اس جنگ میں ایران، ترکی اور پاکستان کو بھی لپیٹنے کی تیاریاں ہو رہی ہیں۔ مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کی بالادستی کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔ تھرڈ ٹمپل کی تعمیر کے لئے حالات موافق ہو رہے ہیں، جبکہ اس خطے میں بھارت کو چودھری بنانے کا سامان بھی کیا جا رہا ہے۔ دنیا میں ہر طرف مسلمانوں کو معاشی، معاشرتی، دفاعی اور سیاسی لحاظ سے کمزور کرنے کی منظم کاوشیں جاری ہیں۔ جنگ ایک پالیسی کے طور پر مسلط کی جا رہی ہے، تاکہ ہلاکت و تباہی کو یقینی بنایا جا سکے۔ 62 سے زائد مسلم ریاستیں افتراق، تفریق کا شکار ہیں، ان کی نہ تو کہیں انفرادی آواز ہے اور نہ ہی اجتماعی، لگتا ہے بربادی ہمارا مقدر بن چکی ہے۔

مزید : رائے /کالم